عبدالحنان ارشد کی تحاریر
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

سوزی

امریکہ نے افغانستان پر بموں کی ماں کہلانے والا بم مار دیا۔ سینکڑوں لوگ اس سے ہلاک ہو گئے، املاک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ میں نے عثمان کو بتایا۔ عثمان : شکر ہے ہزاروں لوگ نہیں ہلاک ہوئے←  مزید پڑھیے

ایٹمی دھماکے

18 مئی 1974ء کو انڈیا نے پوکھارن کے مقام پر دھماکے کر کے دنیا کے سامنے خود کو چھٹی ایٹمی طاقت کے طور پر ثابت کر دیا۔ اُس سے پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق تھا۔۔۔۔ فیصلہ کیا گیا ہمیں←  مزید پڑھیے

شہرت کا متلاشی

دانش سے عرصہ بعد ملا۔ پوچھا کیا کرتے ہو آج کل۔ کہتا مشہور ہونے کی کوشش۔ حیرت سے پوچھا۔ میاں مشہور ہونے کی کوشش ؟ کہنے لگا بچپن سے ہی اس کا متلاشی ہوں۔ بچپن میں کرکٹر بننا چاہا کہ←  مزید پڑھیے

رمضان کی تیاری

خواب میں پچھلی صدی کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کا سلسلہ جس طرح آگے بڑھ رہا تھا اس کے زمانے کے بارے میں جاننے کا تجس بامِ عروج کو چھو رہا تھا۔ میں نے پوچھا رمضان آنے والا←  مزید پڑھیے

نعمت

پچھلے ہفتے ڈاکٹر کے پاس گیا۔۔۔۔۔ میری عادت ہے جس سے ملتا ہوں اس کے اُس مقام تک پہنچے کی وجہ لازمی پوچھتا ہوں۔ کہتا ،میری ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھی۔۔۔۔ خود بھی ڈاکٹر تھی۔۔۔۔۔ پڑھائی میں رہنمائی کرتی←  مزید پڑھیے

رٹا ہوا سبق

ہمیشہ سچ بولنا چاہیے ۔۔۔ کیونکہ سچ ایک بار جھوٹ بار بار۔ قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔۔۔ کیونکہ اچھا شہری بننے کے لیے قانون کا احترام ضروری ہے۔ اپنے نوکروں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔ ان سے بات کرتے←  مزید پڑھیے

اصل مالک

یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس کے مالک ہیں۔ وزیراعظم نے خطاب کے دوران کہا۔ حکمران سیاسی حیثیت کھو چکے ہیں۔ ملک کے حکمران خود کو مالک کہلانے کے اہل نہیں رہے۔۔۔ اس ملک کے مالک ہم ہی ہیں۔←  مزید پڑھیے

تاریخی فیصلہ

ملکی تاریخ کا سب سے اہم فیصلہ آنا تھا۔ جسے صدیوں یاد رکھا جانا تھا۔ ملکی تاریخ میں کوئی حکمران کرپشن اور بد عنوانی کے سنگین الزامات پر عدالت عالیہ کے روبرو تھا۔ حکمران جماعت پرجوش تھی کہ فیصلہ ان←  مزید پڑھیے

ہمارا خطہ

پاکستان میں قدرتی وسائل کی بھر مار ہے۔ معدنیات کی فراوانی ہے۔ چار طرح کے مختلف موسموں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ طرح طرح کے پھل اور سبزیوں کا مزا لیتے ہیں۔ خدا نے غرض چن کراس←  مزید پڑھیے

میڈیا

مدرسوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ بظاہر تو ان کی گذر بسر کا کوئی اسباب نظر نہیں آتا۔ کس طرح اپنا اور طالبِ علموں کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ میں نے بیان دیا۔ میڈیا کے سبھی حلقوں میں مجھےکافی پذیرائی←  مزید پڑھیے

تقسیم در تقسیم

ہمارے یہاں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ آپس میں نفرت کے جذبات تھے۔ پھر ہم نے الگ ملک حاصل کر لیا اور خوشی خوشی رہنے لگے۔ کوریا کے صدر کا بیان پڑھا اخبار میں۔۔۔ میں سوچا ہم نے بھی خوشی کے←  مزید پڑھیے

پاکستانی

شہر کے ایک مقامی سکول کی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات تھی۔ جس میں،میں بھی مدعو تھا۔ ۹ بجے کا وقت تھا اور ۱۰ بجے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سب سے پہلے سٹیج سیکر ٹری نے انگلش میں←  مزید پڑھیے

سچ

میرا دوست کافی عرصے بعد انگلستان سے آیا۔ سکول کے دنوں میں ہی پردیس چلا گیا تھا۔ واپس آیا تو مجھے بھی ملنے آیا۔ باتوں سے بات نکلی تو کہنے لگا۔ انگلستان میں سچ بولنے کی بہت تلقین کی جاتی←  مزید پڑھیے

انٹرنیٹ

انٹرینٹ کا انقلاب آیا۔ جس کو آہستہ آہستہ دوام آنا شروع ہوا تو ہر ذی نفس نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ میں نے بھی اِسے اپنا دوست بنا لیا۔ کسی بارے میں بھی معلومات چائیے ہوتی۔ اِس←  مزید پڑھیے

لیٹ

لیٹ میس میں کھانا روزانہ دیر سے آ رہا تھا۔ شکایت کی اگلے ہی دن میس میں نئی کرسیاں آگئیں۔ کچھ فرق نہ پڑا تو دو دن بعد دوبارہ شکایت کئی گئی اس شکایت کے بعد میس میں بڑی سکرین←  مزید پڑھیے

قوم کا لہو گرمائے گا؟

23مارچ کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ ِاسی کے پیشِ نظر یونیورسٹی میں22 مارچ کو تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا مقصد نوجوان نسل میں اِس دن کی اہمیت کا اجاگر کرنا تھا۔ کسی نے←  مزید پڑھیے

آخری ہچکی (سو لفظوں کی کہانی )

۲۳ مارچ کے موقع پر یونیورسٹی میں ایک بہت بارونق محفلِ کا اہتمام کیا گیا۔ ایک شخص کو سٹیج پر بلایا گیا، بتایا گیا وہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کے موقع پہ وہاں موجود تھا۔ اس کی سرخ ہوتی آنکھیں بتا←  مزید پڑھیے

ہم عوام

ملک کے نظام کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ حکمرانوں کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ عوام کا پرسونِ حال نہیں۔ حکمرانوں کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔ اپنی عیاشیوں کا سامان ہونا چاہئے۔ باقی ملک میں جو مرضی←  مزید پڑھیے

قانون کی پاسداری

ملک کے نظام کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ حکمرانوں کو کسی کی فکر نہیں ہے۔ عوام کا پرسونِ حال نہیں۔ حکمرانوں کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔ اپنی عیاشیوں کا سامان ہونا چاہئے۔ ملک میں جو مرضی ہو←  مزید پڑھیے

اتفاق

ہاسٹل کے کامن روم میں مرضی کا ٹی وی چینل دیکھنے پر پُرزوربحث جاری تھی۔۔ کسی بھی چینل کو دیکھنے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔ ایک نیوز چینل لگایا گیا تو دوست بولا یہ گورنمنٹ کا چینل ہے←  مزید پڑھیے