سید شاہد عباس کی تحاریر
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

راہ کھویا مبلغ ۔سید شاہد عباس کاظمی

نرمی، مٹھاس، چاشنی، محبت، خلوص ، پیار، مسکراہٹ، اُس کی گفتگو میں یہ تمام خواص محسوس کیے جا سکتے تھے۔ اتحاد، بھائی چارہ، امن، یگانگت، احساس، ملنساری،،، اُس کی تحاریر میں یہ تمام خصوصیات موجود ہوتی تھیں۔ کرختگی، ترشی، تندی،←  مزید پڑھیے

روحِ کربلا۔سید شاہد عباس

چراغ گل ہیں۔۔۔دل سے راضی ہونے کی یقین دہانی بھی کی گئی ہے۔۔۔ جنت کی بشارت اور شفاعت کا وعدہ بھی ہے،خود کو مصیبت سے نکال لینے پہ اصرا ر بھی ہے ، یہ منظر ہے اُس رات کا جس←  مزید پڑھیے

دام ۔سو لفظوں کی کہانی۔شاہد عباس کاظمی

وہ ہزاروں نوجوانوں کا آئیڈیل تھا، تحریریں ضمیر جھنجھوڑ دیتی تھیں، اَب کچھ عرصے سے نہ اُس کے لفظوں میں اثر ہے، نہ ہی لہجے میں کھنک رہی ہے۔۔۔ لوگوں سے اُلجھنا معمول بنا لیا ہے۔ میں سالار سے اپنے←  مزید پڑھیے

جمہور نامہ

صاحب! بچہ گاڑی تلے کچلا گیا ہے۔ لوگ احتجاج کر رہے ہیں، وہ شدید غصے میں ہیں۔ قریب ہے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ یہ جمہوریت کی راہ کا شہید ہے۔ اِس کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔←  مزید پڑھیے

کہانی میں جھول ہے

“جھول” کا لفظ بول چال میں بہت عام ہے ۔ جب بھی کسی جگہ کوئی خامی ، کمی یا کمزوری نظر آئے تو اس کے لیے اکثر یہ لفظ بول چال میں عام ہے۔ ٹین ڈبہ بنانے والوں کے ہاں←  مزید پڑھیے

پاکستانی مدر ٹریسا، رتھ پفاو، ایک پرانا کالم

(یہ کالم ڈاکٹر رتھ پفاو کی خدمات کو سامنے لانے کے لیے لکھا گیا اور 21 فروری 2016 کو ایک قومی روزنامہ میں شائع ہوا) Leipzig جرمنی کا ایک شہر ہے۔یہ اس ترقی یافتہ ملک کا آبادی کے لحاظ سے←  مزید پڑھیے

ظافر ی ٹوٹکے

پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے میری درد سے بھر پور ظافرانہ رپورٹ، اس بات کی نشاندہی ہے کہ میرے لفظوں نے بھی درد کا لاوا اپنے دل میں محسوس کیا ہے۔۔۔ ایک دفعہ پھر دشمنوں کی ہر چال ناکام←  مزید پڑھیے

خیال خان اور انڈوں کی ٹوکری

میرے عزیز ہم وطنو! میں جانتا ہوں مجھ پہ کڑا وقت آ گیا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ میرے ساتھی بھی مجھ سے بدظن ہو رہے ہیں ، ہونا بھی چاہیے کہ ان میں سے اکثریت سے میں←  مزید پڑھیے

اعلان ہو کہ انصاف کو مسترد کیا جاتا ہے۔۔۔

ادارے کو زیب نہیں دیتا تھا کہ اس طرح نوٹیفکیشن مسترد کر دیے کیوں کہ اس سے جمہوریت کی نفی ہوتی تھی۔ اور بطور ادارہ جتنا محترم پاک فوج کا ادارہ ہے۔ جس قدر لوگوں کے دلوں میں اس ادارے←  مزید پڑھیے

بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مفادات ہمیشہ مقدم رہے ہیں اور مستقبل قریب و بعید میں اس روش میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی آنے کے کوئی آثار نہیں ہیں اور جس طرح عزتیں اچھالی←  مزید پڑھیے

پیغام

اَماں کی نہ جانے کب سے یہ عادت تھی ,افطار دسترخوان مکمل لگ جاتا، کوئی بھی چیز تھوڑی سی اُٹھاتیں اور محلے میں نکل جاتیں۔ واپس آتیں تو اُن کے ہاتھ خالی ہوتے ۔۔۔میں جھنجھلا کے کہتا،بعد میں دے آیا←  مزید پڑھیے

نہال ، تیری بے تکی باتوں پہ کیسے ہوں نہال

ہم بطور قوم جوتے کھانے والی خیالی قوم سے بہت مشابہت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تو کہا تھا کہ آپ بندے بڑھا دیجیے اور ہم اس حد تک چلے گئے ہیں کہ نااہل کو اہل، دلالوں کو←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کا عفریت،کیا کیا جائے؟

پوری دنیا میں سوشل میڈیا عام آدمی کی زندگی میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ اب تو خوشی غمی کی اطلاع بھی سوشل میڈیا سے ہی دی جانے لگی ہے۔ غیر محسوس طریقے سے اس کی عادت ہمیں←  مزید پڑھیے

بونس

بہت عرصے بعد بونس ملا تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں اس کا، جیسے ایک تپتا ہوا صحرا ہو اور اس میں ایک مسافر لمبی مسافت طے کر کے آیا ہو اور اس کے ہونٹوں پہ سخت پپڑی بھی←  مزید پڑھیے

پولی ایڈی وی پولی نئیں

پنڈ کی ایک سادی حسینہ جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سادگی میں اپنی مثال آپ ہے لڑکے بالک اس کے گرویدہ تھے۔ آوازیں کستے۔۔۔ وہ بے توجہی سے گزر جاتی ۔ نام اس کا تھا پولی(بھولی)۔ کسی←  مزید پڑھیے

حمایت

اُسے جلد سے جلد سزا دے دینی چاہیے۔ وہ جتنا عرصہ زندہ رہے گا ، ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے،اُسے فوری پھانسی کی حمایت کرتے ہیں ہم ۔ اُس کو پھانسی کی سزا←  مزید پڑھیے

درندگی

گھر میں داخل ہوتے ہی غیر معمولی سکوت نے استقبال کیا۔ حیرانگی اس لیے بھی ہوئی کہ گڑیا کو تو سکون سے بیٹھنا آتا ہی نہیں تھا، وہ بھی سامنے کونے میں یوں دبکی بیٹھی تھی جیسے کوئی انہونی ہو←  مزید پڑھیے

اچھا ملک ریاض، برا ملک ریاض

ماضی قریب میں جنرل (ر) راحیل شریف نے محترم جناب لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب صاحب کے توسط سے قوم سے یہ گلہ کیا کہ جن کے لیے چند دن قبل میں ہیرو کا درجہ رکھتا تھا ، اسلامی فوجی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی۔۔۔ مقدار

شدید گرمی شروع ہو چکی تھی۔۔۔ آسمان جیسے آگ برسانے لگا تھا۔۔۔ سالار روز صبح گھر کے باہر چھوٹی چھوٹی کٹوریاں رکھتا، تازہ پانی ڈالتا اور درخت کے سائے میں رکھ دیتا کہ پانی زیادہ دیر ٹھنڈا رہ سکے۔ وہ←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی۔۔۔ ارتھ آور

ارتھ آور منایا گیا ، غیر ضروری بتیاں ایک گھنٹے کے لیے بند کر دی گئی تھیں۔ کیوں مناتے ہیں ؟ سالار معصومیت سے بولا۔ بے وقوف ، کرہء ارض سے محبت کے اظہار کے لیے، غیر ضروری بتیاں بجھا←  مزید پڑھیے