اختر علی سید کی تحاریر
اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

نفسیات، پاکستان اور کرپشن۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

آپ نے سیاستدانوں اور دنیا کی دیگر اہم شخصیات کے نفسیاتی تجزیے ضرور پڑھے ہوں گے۔ ماہرین نےہٹلر، مسولینی اسٹالن اور صدام حسین کی شخصیات کے معرکۃالآرا تجزیے تحریر کیے ہیں۔ ان ماہرین میں ایرک فرام اور ہنری مرے جیسے←  مزید پڑھیے

قیام کے وقت سجدہ سہو۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

کیا پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟ یہ سوال سادہ نظر آتا ہے۔ سماجی سائنس کے ایک طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ سوال اور اس کے ممکنہ جواب دونوں ہی بہت زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ پہلے اس←  مزید پڑھیے

ولہلم رائخ پر خالد سعید صاحب کے ایک مضمون کی شرح۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے جن ماہرین نفسیات پر 1980 کی دہائی میں مضامین تحریر فرمائے تھے ان میں سے ایک آسٹریا میں پیدا ہونے والے ولہلم رائخ Wilhelm Reich بھی تھے، پڑھے لکھے افراد کی←  مزید پڑھیے

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

انیل اگروال نئی دلی کے مولانا آزاد میڈیکل کالج میں فرانزک میڈیسن کے استاد ہیں۔ 2009 میں یعنی DSM-5 کی اشاعت 2013 سے پہلے انہوں نے نیکروفیلیا کی ایک نئی درجہ بندی پیش کی۔ 2011 میں انہوں نے ایک جامع←  مزید پڑھیے

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب(حصّہ اوّل)۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

علم کا ہر شعبہ اور اس میں ہونے والی تمام ترقی انسانی جدوجہد کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ رات اور چراغ بنانے اور اسے جلائے رکھنے والے کے مابین موجود تعلق کو بیان کرنے کی تاریخ←  مزید پڑھیے

طبقہ علما اور ہماری دنیا۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

کسی بھی معاشرے میں بنیادی طور پر کرنے کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ یا تو لوگ پیداواری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرتے ہیں مختلف صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ یا پھر سروسز کی فراہمی سے←  مزید پڑھیے

To whom it may concern: ڈاکٹر اختر علی سید

غیر ضروری مناقشے طول پکڑ تے جاتے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ پاکستان میں بات بات پر محشر نہ بپا ہوتا ہو۔ دانت کچکچاتے، کف اڑاتے، آستینیں الٹتے، مغلظات بکتے شرکائے گفتگو ایک دوسرے کو سینگوں پہ نہ اٹھاتے←  مزید پڑھیے

تہذیبوں کا تصادم، عالمگیریت اور پروفیسر ہراری۔۔ڈاکٹر اختر علی سیّد

تہذیبوں کا تصادم Clash of civilization نامی تصور پر پہلے برنارڈ لویس Bernard Lewis نے لکھا تھا بعد میں سیمیویل ہنٹنگٹن Samuel Huntington نے اس تصور پر ایک مختصر سا مضمون 1992 میں شائع کیا تھا, اسی تصور کو بعد←  مزید پڑھیے

انسان کی بے حرمتی کے نئے اسلوب۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

جناب اشعر رحمان ملک کے ایک معروف صحافی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں وقوع پذیر ہونے والا ایک واقعہ اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس واقعے میں نئی بات انسان کی جان←  مزید پڑھیے

نریندرا مودی اور اُن جیسے دیگر قائدین۔۔۔اختر علی سیّد

آپ نے ہیوسٹن میں ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کا جلسہ دیکھا ہوگا۔ شاید آپ اس سلسلے میں امریکی صدر اور کانگریس کے اراکین کی شرکت پر حیران ہوئے ہوں گے لیکن میرے لئے اس سے زیادہ تعجب کی بات 50000←  مزید پڑھیے

دنیا کی نئی قیادت ۔۔۔ ڈاکٹر اختر علی سید

آپ نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر کئی تجزیے پڑھے اور سنے ہونگے۔ اس سے پہلے ہندوستان میں نریندرا مودی کی سیاست اور بعدازاں ان کے وزیر اعظم بننے پر اشیش نندی اور ارون دھتی رائے جیسے دانشوروں اور اہل قلم کے خیالات بھی آپ نے پڑھے اور سنے ہونگے۔ پاکستان میں عمران خان کی انتخابات میں کامیابی پر ان کی شخصیت بھی موضوع گفتگو رہی ہے۔ اب گفتگو کا موضوع انگلستان کے وزیراعظم بورس جانسن کی شخصیت ہے۔ یہ حال ہی میں تھریسا مےکے بعد برطانیہ کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

مسلم ذہن کا مسئلہ۔۔عاصم بخشی صاحب کی تائید میں چند گزارشات۔۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

عاصم بخشی صاحب کی تحریر کچھ مدت کے بعد نظر نواز ہوئی۔ انہوں نے مسلم ذہن کے ایک پیچیدہ مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ جب کوئی مسئلہ کم از کم تین صدیوں پرانا ہو جائے تو اس کو دائمی کہنا←  مزید پڑھیے

قصور،ہماری تفہیم کا دیوالیہ پن۔۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

یہ 1999 کے آخری ایام تھے جب لاہور ایک ہولناک انکشاف سے دہل گیا۔ جاوید اقبال نامی ایک شخص نے 100 سے زائد بچوں کے قتل کا اعتراف کیا۔ اس نے ان بچوں کے نام، ان کے قتل کی تاریخیں←  مزید پڑھیے

شور کی ثقافت،مزید گزارشات۔۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

خاموشی اور شور کی ثقافت” کے عنوان سے گزشتہ تحریر کے شائع ہونے کے بعد چند صاحبان علم احباب کا اصرار تھا کہ موضوع اس سے زیادہ تفصیل کا متقاضی تھا جو تحریر میں فراہم کی گئی۔ غالباً ان احباب←  مزید پڑھیے

خاموشی اور شور کی ثقافت۔۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

خاموشی کی ثقافت Culture of silence کے بارے میں آپ نے یقیناً سنا ہوگا۔ گھریلو، سیاسی، اور جنسی تشدد کے شکار افراد کی اختیار کردہ خاموشی کے بارے میں بہت سے ماہرین نے گراں قدر کام کیا ہے۔ خاموشی کی←  مزید پڑھیے

ہم ایک دوسرے کے خلاف کیوں ہیں ؟۔۔۔۔اختر علی سید

خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آٹھ مارچ کو ملک کے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے ان پر تحریر عبارتوں نے حسب توقع ملک میں نئی بحث چھیڑ دی۔۔۔۔۔ان نعرے نما تحریروں کے←  مزید پڑھیے

جنگ زدہ معاشرے کے نفسیاتی خدوخال۔۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین موجود تنازعہ نے چودہ فروری کو ایک مرتبہ پھر ایک شدید صورت اختیار کر لی۔ پلوامہ میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں←  مزید پڑھیے

ابو حمار اور نفسیات۔۔۔ اختر علی سید

آغاز ہی میں ایک اعتراف ضروری ہے۔ حضرت وجاہت مسعود کی تحریر سے پہلے میں ابو حمار نامی کسی اصطلاح اور اس کے معنی کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم تھا اور اب بھی ہوں۔ اس لئے کہ انہوں←  مزید پڑھیے

پوسٹ ٹروتھ اور حالیہ انتخابات۔۔۔ ڈاکٹر اختر علی سید

جناب خورشید ندیم ایک سکہ بند دانشور ہیں انہوں نے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو پوسٹ ٹروتھ نامی تصور کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ ان کی یہ تحریر “ہم سب” نے بھی شائع کی ہے۔ خورشید ندیم←  مزید پڑھیے

ریحام کی کتاب میں دلچسپی کیوں؟۔۔۔ ڈاکٹر اختر علی سید

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ کی آنے والی کتاب کے بارے میں مجھے جناب انعام رانا صاحب نے اکتوبر میں بتایا تھا۔ لندن میں ہونے والی ایک ملاقات میں انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ←  مزید پڑھیے