ادب نامہ

اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط5)۔۔سلمیٰ اعوان

سینٹ مارک سکوائر،چرچ،ڈوگی پیلس اور Rialtoبرج o ہوٹل ملنے کی الف لیلوی کہانی۔ o وینس ایک مرتا ہوا شہر جس کے شہری اور لینڈ لارڈ گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔ o حکومت وینس جیسے تاریخی ورثے کو سنبھالنے کے خبط←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/وقت کا شائی لاک۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں کیا کروں، خود سے پوچھتا ہوں کہ قرض میں بال بال میرا بندھا ہوا ہے یہ قرض صدیوں کا، جس کا جوا مرے نحیف و نزار بچپن کے نرم کندھوں پہ پیدا ہوتے ہی رکھ کے مجھ کو کہا←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (نواں حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

سڑک کے دونوں جانب ہریاول ہمارے ساتھ ہم سفر تھا، قد آور درخت اور خوشنما پودے تھے، پھلوں سے لدے اور شگوفوں سے بندھے یہ درخت اور پودے نظروں کو خیرہ کرتے تھے، بہار آتی ہے تو یہ مسکرا دیتے←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/بزدل۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(سترہ برس پہلے ساقی فاروقی کے لیے تحریر کردہ ایک نظم) بازو کی شہ رگ نشتر کے نیچے آتے آتے جیسے از خود رفتہ ہو کر پھسلی، کھسک گئی، تو میں نے ٹھنڈا سانس لیا، جو چین کا سانس بھی←  مزید پڑھیے

جدیدیت کی مرگ ناگہانی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے آنجہانی دوست شمس الرحمٰن فاروقی کی بے وقت رحلت کے بعد میں نے ضروری سمجھا ہے کہ ان کے توسط سے معرض ِ وجود میں آئی (اور تیس چالیس بر سوں تک ار دو ادب پر محیط) ر، (جسے←  مزید پڑھیے

اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط4)۔۔سلمیٰ اعوان

میرے خوابوں کا وینس اور میری بونگیاں o پانیوں میں تیرتا یہ بے حد شاندار اور خوش نما شہر جس کی شہرت دنیا بھر میں حیرت انگیز اور تاریخی ورثے کے طور پر ہے۔ o اٹلی ٹھگوں کے لئے بڑا←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (ساتواں حصہ)۔۔۔خالد ولید سیفی

ہماری اگلی منزل سری لنکا کا وسطی شہر کیننڈی تھا۔ عرفان حسب معمول صبح سویرے ہی پہنچ چکا تھا، ناشتے سے فارغ ہو کر ہم کیننڈی کےلیے روانہ ہوئے، موسم آج بھی دلکش تھا، بادل برسنے کو بے تاب تھے،←  مزید پڑھیے

ضرورت ہی نہیں میری۔۔شاہین ڈیروی

محبت ڈھونڈنے نکلی تو جنگل میں۔۔۔۔۔ کئی وحشی درندے لوبھ کے مارے جناور راہ کو روکے ہوئے اپنے بدن کے خفتہ حصوں کو کھجاتے، گھورتے جاتے تھے صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب کئی قرنوں سے میں اپنے بدن کو اپنی باہوں میں←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط8)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

کچھ جہد مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم انسان کو تھکا دیتا ہے کچھ سوچوں کا سفر بھی آج کل اس کا مسئلہ اوور تھنکنگ ہی تھا، زندگی اس موڑ پر آ جائے گی کبھی اسے اندازہ نہیں تھا ۔اس عمر←  مزید پڑھیے

دیکھنا تقریر کی لذت(2011)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی ایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرےکی صدارتی تقریر دوستو! ٓاس شہر یعنی واشنگٹن کی ادبی زندگی کیا ہے۔ ۱۹۸۶ میں ا   س شہر میں آنے سے پہلے یہ سچائی صرف اردو کے حوالے سے ہی←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (پانچواں حصّہ)۔۔خالد ولید سیفی

چلچلاتی دھوپ نے گلہ خشک کر دیا۔ عرفان کے رکشے میں سانس بھی پوچھ پوچھ کر آتی تھی۔ کسی شاپ کے ساتھ ٹک ٹک رکوا کر پانی کی دو چار بوتلیں لیں، تو جان میں جان آئی اور ساتھ جہان←  مزید پڑھیے

غزل پلس(12)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مجھ کو قلم، فرہاد کو تیشہ ، رانجھے کو کشکول دیا عشق نے دل والوں کو جو بھی کام دیا انمول دیا سیپ سیپ سے پوچھ پوچھ کر ، ہم نے آپ کو ڈھونڈا تھا آپ نے تو ، اے←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (چوتھا حصّہ)۔۔خالد ولید سیفی

ہم لابی میں داخل ہوئے۔ بالکل سامنے کاؤنٹر تھا، جس پر 4 یا پانچ مرد و خواتین منیجرز بیٹھے ہوئے تھے۔ کاؤنٹر پر کمپیوٹرز کی قطار تھی، لابی کے بالکل وسط میں ایک بڑا پیانو رکھا تھا۔ “سنگِ مرمر پر←  مزید پڑھیے

اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط3)۔۔سلمیٰ اعوان

لاسکیلا ، لاسٹ سپر اور وایا دانتے کی سیر o ہوپ آن ہوپ آف پر چڑھنااُترنا اور شہر کو دیکھنا کیا مزے کا کام تھا۔ o لاسٹ سپر لیونارڈوونچی کا وہ شاہکار ہے جس پرآرٹ ہمیشہ ناز کرتارہے گا۔ o←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/زخم زخم ہے میرا چہرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

زخم زخم ہے میرا چہرہ خون پسینہ ایک ہوئے ہیں یہ رومال جو خون سے تر میرے چہرے سے لمحہ بھر کو چپک گیا ہے قرنوں تک میرے چہرے کا خاکہ اس کے خال و خد، رخسار، دہن، آنکھیں، پیشانی←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (تیسراحصہ)۔۔خالد ولید سیفی

کامران سے گفتگو کا دور چل رہا تھا، اس کی کوشش تھی کہ ہم انڈیا سے درآمد شدہ اس کی ڈربہ نما کار کو کولمبو سمیت سری لنکا کے دیگر سیاحتی مقام پر جانے کے لیے بک کریں، مگر زیادہ←  مزید پڑھیے

اندھیر نگری (دادا جان سے سنی ہوئی ایک کتھا)۔۔صبغت وائیں

میرے دادا جان مجھے بچپن میں گورو نانک، بھائی مردانے اور موُلے کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کہانی کچھ یوں تھی: ایک دفعہ گورو نانک جی اور ان کے دونوں چیلے ایک ایسے نگر میں چلے←  مزید پڑھیے

غزل پلس(11)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چیز چمکیلی سی بیٹھی تھی مر ے پھن میں تنی سنگ اسود کا کوئی ٹکڑا تھا یا پارس منی کھٹکھٹائیں کس کا در اس شہر کے دریوزہ گر گانٹھ کے پکے ہیں دونوں، شُوم کیا اور کیا غنی اک زمرد←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (دوسرا حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

میرا بازیاب شدہ پاسپورٹ خاتون کے ہاتھ میں، وہ آگے آگے، میں پیچھے پیچھے۔ کاؤنٹر سے بڑے افسر کے دفتر کا فاصلہ چند قدم تھا، مجھے لگا کہ بڑے افسر کے دفتر تک، میں کئی کلو میٹر کی مسافت طے←  مزید پڑھیے

پنکی۔۔عارف خٹک

“یہ محبت بڑی کتی شئے ہے۔ انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم کردیتی ہے۔ حد سے زیادہ عشق اور محبت کا انجام بہت دل شکن ہوتا ہے۔ میں چاہوں بھی تو  پنکی کو نہیں بھول سکتا” اس←  مزید پڑھیے