ابن رشد کا مجسمہ

ابن ِ رشد کا مجسمہ
اعجازالحق اعجاز
قرطبہ میں ابن رشد کا مجسمہ اپنی پوری تبحر ِعلمی اور دانشورانہ شان سے آب روان کبیر کے کنارے ایستادہ ایک نئی دنیا کا خواب دیکھنے میں ابھی تک محو ہے۔ابن رشد کا یہ مجسمہ علم و دانش کا ایک لائٹ ہاؤس ہے جس سے شرق و غرب نے صدیوں اپنی علمی منزلوں کے نشاں ڈھونڈے ہیں۔اس مجسمے کی آنکھوں میں علمیت کی چمک کے ساتھ ساتھ ایک استعجاب بھی ہے اور استفہام بھی۔اس کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جو اپنے دور میں فکر و دانش کا ایک اہم منبع تھی۔مسلم دنیا کے عظیم فلسفی،یورپ کو ایک خاص علمی ڈگر پر ڈالنے اور اس کی لیلائے علم کے گیسو سنوارنے والے کو دانتے نے اپنی شہرۂ آفاق طربیہ خداوندی (Divine Comedy)میں الشارح The Commentator کے لقب سے یاد کیا ہے اس لیے کہ وہ ارسطو کے فلسفے کا ایک عظیم شارح تھا۔اس ارسطویعنی یہ جاننے کے لیے کہ ارسطو کا فلسفہ کیا تھا،مشرق و مغرب ابن رشد کی طرف دیکھتے تھے کہ وہ ارسطو کے بارے میں کیا کہتا ہے۔دانتے نے ایک اور عظیم مسلمان فلسفی ابن سینا کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ابن رشد کی ارسطو سے محبت اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ راسخ العقیدہ لوگوں نے اس پر یہ الزام تھوپ دیا کہ وہ اسلام کے پردے میں ارسطو کا پرچار کرنا چاہتا ہے۔جارج سارٹن نے اسے یوں خراج تحسین پیش کیا ہے:
“He was great because of the trmendous stir he made in the minds of men for centuries. A history of Averroism would include all the elements of a history of thought from the end of the 12 century to the end of sixteenth_ a period of four centuries which would perhaps deserve as much as any other to be called the Middle Ages, for it was the real transition between ancient and modern methods.”

ابن رشد کا ایک بہت مشہور نظریہ صداقتین (Two Truths) ہے۔جو بقول میکڈانلڈ یورپ کی یونی ورسٹیوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔اس نظریے کی رو سے صداقتیں دو ہیں اور وہ ہیں مذہبی صداقت اور فلسفیانہ صداقت۔ ابن رشد کے مطابق ان صداقتوں کو متوازی صداقتوں کی حیثیت سے قبول کرلینا چاہیے اور ان کو باہم خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔اس سے مذہبی راسخ العقیدگی کے مقابلے میں سائنس و فلسفہ کو مغرب میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔کولٹن کے نزدیک یہ ابن رشدکی اثر انگیزی اس زمانے میں ویسی ہی تھی جیسی ہمارے دور میں ڈارون کی ہے۔ابن رشد کا فلسفہ پیرس کی یونی ورسٹیوں میں نصاب کا خصوصی حصہ تھا۔خاص طور پرجامعہ پادوا(Padva)ابن رشد کے فلسفے پر بحث و مباحثے کا مرکز تھی۔یہ فلسفہ عیسائی راسخ العقیدگی کے خلاف اتنا بڑا خطرہ بن کر ابھرا کہ پیرس کونسل کو ابن رشد کی کتابوں کو ممنوع قرار دینا پڑا۔مگر اس فلسفے کے آگے بند باندھنا ممکن نہ تھا۔رینان اپنی کتاب ”ابن رشد اور ابن رشدیت “ Averroes & Averroism میں لکھتا ہے کہ سولہویں صدی کے لگ بھگ یہ فلسفہ ایک طرح سے اطالیہ کا سرکاری فلسفہ
بن کر سامنے آیا۔اس کے بقول جوکچھ ابن رشد نے پیش کیا وہ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس کی لبرل روح کے عین مطابق تھا کیوں کہ اسلام اس طرح کی راسخ العقیدگی کے حق میں نہیں جیسا کہ عیسائیت ہے۔وہ لکھتا ہے:
” There is nothing to prevent out supposing that Ibn Rushd was a sincere believer in Islamism,especially when we consider how little irrational the supernatural element in the essential dogmas of this religion is, and how closely this religion approaches the purest Deism”

روم کا شہنشاہ فریڈرک دوم ابن رشد کا زبردست مداح تھا۔ابن رشد مطالعے کا بے حد شوقین تھا۔ کہتے ہیں اس نے صرف دو راتیں مطالعے کے بغیر گزاریں۔ایک اس کی شادی کی رات اور دوسر ی وہ جب وہ فوت ہوا تھا۔ وہ اشبیلیہ اور قرطبہ کا قاضی بھی رہا۔ بطور ایک منصف وہ جسمانی سزا ؤں کے خلاف تھا۔ابن رشد کی بطور ایک جدید دانشور خاص بات یہ ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کا علم بردار تھا۔ اس نے اس وقت تانیثیت کا پرچار کیا جب مغرب میں اس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔اس نے ہر لحاظ سے عورتوں کو مردوں کا ہم پلہ قرار دیا بلکہ بعض معاملات میں انھیں مردوں پر فوقیت دی۔یہ خیالات ابھی مغرب میں بھی قابل قبول نہ تھے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کم بہادر ہوتی ہیں۔ابن رشد نے ان خیالات کی تردید میں افریقہ،یونان،اور عرب کی بعض ایسی ریاستوں کی مثالیں دیں جہاں عورتوں میں بھر پور عسکری رجحانات پائے جاتے ہیں۔ابن رشد کی طرح ابن عربی بھی عورتوں کو معاشرے میں بلند مقام دینے کے حامی تھے۔ان عظیم مسلمان مفکرین نے تانیثیت کو ایک باقاعدہ تحریک دینے کی کوشش کی۔تانیثت پسندوں (Feminists)کو ان کے عورتوں سے متعلق خیالات پر ضرور تحقیق کرنی چاہیے۔اور آخر میں فلپ کے ہٹی کا یہ بیان کہ وہ ابن رشد کے بارے میں کس قسم کے خیالات کا اظہار کرتا ہے:
” The intellectual movement initiated by Ibn Rushd continued to be a living factor in European thought until the birth of modern experimental science”
ابن رشد نے ارسطو کی کتاب Categories کی جو شرح اوسط لکھی تھی اورجس کا انگریزی ترجمہ چارلس بٹر ورتھ نے کیا تھااسے پڑھنے کا مجھے اتفاق ہوا تو میں ابن رشد کی تبحر علمی کا قائل ہو گیااور اسی سے مجھے تحریک ہوئی کہ میں اس پر یہ مضمون لکھوں۔اس کے فلسفے کے عمیق پہلووں پر جلد لکھوں گا۔

Shopping Revolution

Avatar
اعجازالحق اعجاز
PhD Scholar at Punjab University,Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *