انڈیا: نئی کرنسی، نئی مصیبت

انڈیا میں “زربندی (demonitization)” کے سبب اب تک قریبا 55 لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں.

مودی سرکار کو کرنسی بدلنی تھی. کچھ نئے کرنسی نوٹ لانے تھے کچھ پرانے ختم کرنے تھے. مبینہ مقصد یہ تھا کہ جعلی کرنسی کو ختم کر کے دہشت گردی، منشیات فروشی اور کالے دھن کا کاروبار اور کرپشن ختم کی جائے. پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا، شہریوں کو کہا گیا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر پانچ سو اور ہزار کے کرنسی نوٹ بینک کو دے کر دو ہزار روپے والے کرنسی نوٹ لے لیں. سب نے پانچ سو اور ہزار کا نوٹ لینا بند کر دیا. تاجروں، دکانداروں اور ملازموں نے پانچ سو اور ہزار کے کرنسی نوٹ لینا چھوڑ دیے اور سب لوگ بینک میں اپنے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کرنے میں جت گئے. انڈین ریزرو بینک کے مطابق مارکیٹ میں سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی تعداد کل کرنسی نوٹوں کا چھہتر فیصد تھی اور کرنسی کی مجموعی مالیت میں ان کرنسی نوٹوں کی مالیت چھیاسی فیصد۔ گویا مارکیٹ میں خرید و فروخت کرنے کے لیے دستیاب اسی فیصد کرنسی نوٹ اور قوتِ خرید کو ختم کر دیا گیا۔ انڈیا میں ماہانہ سوا سات ہزار روپے آمدنی والے گھرانے کل آبادی کا تراسی فیصد ہیں گویا ہر دس میں سے آٹھ خاندان. نتیجہ یہ نکلا کے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر لائن لگی ہوئی ہے.

انڈیا میں دس میں سے آٹھ لوگوں کے پاس بینک اکاؤنٹ ہے ہی نہیں. اس کا مطلب ہے وہ بینک سے پیسے کا لین دین نہیں کرتے. ان کے پاس جو پیسہ ہوتا ہے وہ بینک سے نہیں لیا جاتا بلکہ منڈی میں خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتا ہے. لیکن کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لیے انہیں بینک ہی جانا ہو گا. نئے کرنسی نوٹ لوگوں کو اے ٹی ایم مشین سے دیے جا رہے ہیں. ایک ضلع میں اس کام کے لیے ایک مشین ہے جن میں سے بہت سی اے ٹی ایم مشینیں فنی تعطل اور تبدیلی کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہیں. بینک کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی دوہزار والا کرنسی نوٹ نہیں لینا چاہتا کیوں کہ اس کے کھلے نہیں ملتے. کئی جگہ لوگوں نے تلخ کلامی کی ہے اور بہت سی جگہوں پر ہاتھا پائی تک نوبت آپہنچی. لوگ اپنے پانچ سو اور ہزار روپے والے کرنسی نوٹوں کے بدلے میں سو روپے والے نوٹ لینا چاہتے ہیں تاکہ جب وہ کوئی چیز خریدنے کے لیے کرنسی نوٹ استعمال کریں تو وہ ایسا کرنسی نوٹ ہو دکاندار کے پاس جس کے کھلے ہوں. اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سو روپے کے اتنے کرنسی نوٹ نہیں کہ وہ اس کمی کو فورا پورا کر سکیں. ریزرو بینک آف انڈیا کے ایک ناقد افسر کا کہنا ہے کہ کرنسی کی تبدیلی کا یہ کام بغیر کسی منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا. حد تو یہ ہے کہ سو روپے کے کرنسی نوٹوں کی طلب کو پرانے کرنسی نوٹوں سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. نئی کرنسی متعارف کرانے کی پالیسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ سو روپے کے پرانے کرنسی نوٹ کرنسی مارکیٹ میں ڈالنے پڑے!

شائننگ انڈیا کی تراسی فیصد آبادی، دس میں سے آٹھ شہری، سوا سات ہزار روپے ماہانہ کمانے والے خاندان، سو روپے کا نوٹ لینا چاہتے ہیں کیوں کہ دو ہزار کے نوٹ کا “کھلا” نہیں ملے گا. سو روپے کا کرنسی نوٹ اور دو ہزار کا کرنسی نوٹ، یہ دونوں ہی انڈیا کے غریب عوام کے لیے وبالِ جاں بن چکے ہیں. دوہزار کا نوٹ کھلا نہیں ہو گا اور سو کے نوٹ مل نہیں رہے. جیسے جیسے کرنسی کی تبدیلی کی حکومت کی جانب سے مقررہ مدت ختم ہو رہی ہے لوگ اپنے کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لیے بے صبرے ہو رہے ہیں.

مودی سرکار کی زربندی کی اس پالیسی کے نتیجے میں قریبا پچپن لوگ ہلاک ہو چکے ہیں. بعض عمررسیدہ افراد کرنسی نوٹ تبدیل کروانے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے کھڑے گر کر مر گئے. بعض لوگ وقت پر ہسپتال اس لیے نہ پہنچ سکے کہ گاڑی والوں نے پرانے کرنسی نوٹ لینے سے انکار کردیا. ایک خاتون نے انتہائی مایوسی کے سبب اس وقت خود کشی کر لی جب کسی بھی سبزی والے نے ان کے پرانے کرنسی نوٹ قبول نہیں کیے. بمشکل اپنی چھوٹی سے زمین بیچ کر رقم جمع کرنے والے ایک عمررسیدہ شخص کو زربندی کی خبر سے دل کا دورہ پڑگیا.

سو, پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی صورت میں اجرتیں پانے والے، نچلی ترین سطح کا کاروبار اور تجارت کرنے والے (ریٹیلرز دوکاندار، سبزی فروش، قصاب، ٹھیلے والے) اور سروس مہیا کرنے والے (رکشہ، ٹیکسی چلانے والے) مودی سرکار کی اس پالیسی کا نشانہ بنے ہیں. متوسط طبقے کے لوگ دوہزار کے کرنسی نوٹ سے کام چلا سکتے ہیں. پانچ سو کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا جا رہا ہے لیکن ہزار روپے کا کرنسی نوٹ بند کردیا گیا ہے.

کیش آن ڈیمانڈ (سی او ڈی) یا بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) یعنی الیکٹرونک مارکیٹنگ اور ٹریڈنگ کرنے والوں نے اس پالیسی کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ہے. بڑے کاروبار کرنے والوں کے لیے دوہزار کے کرنسی نوٹ کی گردش کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ بڑے اور درمیانے سرمایہ دار طبقے اور مڈل کلاس کے لیے دو ہزار کا کرنسی نوٹ مسائل پیدا نہیں کرتا، اس کا استعمال غریب مزدور طبقے کے لیے تباہ کن ہے. یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حماقتیں ابھی بھی جاری ہیں اور اس نظام کو عوام سے زیادہ اپنے نمائیندوں کا مفاد عزیز ہے۔

Shopping Revolution

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *