• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اورسید صلاح الدین ؛ پس پردہ محرکات

امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اورسید صلاح الدین ؛ پس پردہ محرکات

حزب المجاہدین کے سپریم لیڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے “عالمی دہشت گرد”قرار دینے کے حوالے سے مختلف آراء گردش کر رہی ہیں ، ایک طرف کشمیر کے اندر جاری نئی تحریک اور حریت پسندوں کی طرف سے متشدد کارروائیوں کو فائر بندی کی لکیر کی، اس طرف اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے عسکری کارروائیوں کے پشتی بان کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایک سودیشی کشمیری کمانڈر کو دہشت گرد قرار دینے پر پاکستان کے دانشور اور لکھاریوں کی طرف سے امریکہ اور بھارت کی منافقانہ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔ ایک معتبر صحافی اور کالم نگار نے سید صلاح الدین کی تحریکی خدمات کو بولیویا کے عظیم انقلابی چی گویرا اور لیبیا کے معمر قذافی سے بھی ملایا اور تاویل پیش کی کہ سید صلاح الدین کشمیر میں جاری تحریک کے وارث ہیں اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا بھارت کی خوشنودی کے لئے ان کو عالمی دہشت گرد قرار دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ایک جذباتی فیصلہ کرتے ہوئے سید صلاح الدین کو مظفرآباد میں مدعو کیا اور کلاشنکوف بردار نجی سکیورٹی میں سید صلاح الدین نے مظفرآباد میں ایک طویل پریس کانفرنس کے ساتھ ساتھ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی(یاد رہے کہ سید صلاح الدین زیادہ تر راولپنڈی /اسلام آباد میں سکونت پذیر رہتے ہیں)۔

سید صلاح الدین کوعالمی دہشت گرد قرار دینے کے پس پرد ہ حقائق اور متوقع مضمرات جاننے کے لئے ماضی قریب کو ٹٹولنا ضروری ہے ۔ 26 مئی 2017 کو سرینگر سے شائع ہونیوالے روزنامہ کشمیر آبزرور نے “الارم کی گھنٹیاں زور سے بج رہی ہیں” کے عنوان سے ایک اداریہ شائع کیا جسے بعد میں ترمیم کے ساتھ بی بی سی اردو نے بھی ایک خبر کے طور پر شائع کیا۔ اداریے کا پہلا حصہ فائر بندی کی لکیر پر دونوں افواج کی گولہ باری سے فوجی ٹھکانوں کی تباہی کے بیانات ، پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کرنے کے بھارتی الزامات اور پاکستانی ائیر چیف کے جنگ کے متعلق ہے، جبکہ اداریے کے دوسرے حصے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ نے کانگریس کو متنبع کیا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن سے بھاری گولہ باری کے بہانے پاکستان کے اندر متشدد کارروائی کر سکتا ہے اور ایسا عمل دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک بلا واسطہ تنازعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس نے مزید کہا کہ ایسا عمل دونوں پڑوسیوں کے درمیان 2017 میں مزید حالات خراب کر سکتے ہیں، انٹیلی جنس کے سربراہان کا کہنا تھاکہ بھارت کے اندر ایک بڑا دہشتگرد حملہ جس کو پاکستانی مدد سے موسوم کیا جاسکے حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر جاری نئی تحریک جو ایک غیر متشدد تحریک ہے اور دنیا نےکشمیر کی اس نئی تحریک کو کسی حد تک کشمیریوں کی اپنی تحریک کہا اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی طاقت اور جبر کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اسی دوران کشمیر کے اندر عسکری جدوجہد کرنے والے اکثر نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے جن کا تعلق بھارتی ریاست اور بھارتی میڈیا نے لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین سے جوڑا اور بلا شبہ مقامی لوگوں کے بقول وہ حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ سے ہی تعلق رکھتے تھے جو جہاد اور متشدد جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ سید صلاح الدین سمیت پاکستان کی کئی کالعدم تنظیموں کے رہنما بھی سرحد کی اس طرف بیٹھ کر ان نوجوانوں کو اپنی اپنی تنظیم سے جوڑتے رہے۔ بھارتی حکومت اور فوج کواکتوبر 2016 کے سرجیکل سٹرائیک کے حوالے سے پورے بھارت میں شدید تنقید اور نقطہ چینی کا سامنا ہے ۔ امریکہ بھارت کا اتحادی ہے اوروزیر اعظم نریندرا مودی کے حالیہ امریکی دورے کے دوران ایک طرف پاک چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اور دوسری طرف چین کی طرف سے بھارتی حکومت پر عسکری دباؤ موضوع گفتگو رہا۔ بھارت کوپاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اندر ممکنہ حملے کے لئے ایک قانونی جواز کی تلاش تھی۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دینا بھارتی وزیر اعظم کے لئے کسی تحفے سے کم نہیں کیونکہ وہ کسی بھی وقت ایک عالمی دہشتگرد کو نشانہ بنانے کے لئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر پر حملے کا عالمی قوانین کے تحت جواز رکھتا ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ کشمیر کے اندر جاری پر امن تحریک جس کے لئے بھارتی عسکری اداروں کے سربراہ دو ٹوک کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کے اندر ایک مربوط عسکری سرگرمی کی راہ میں کشمیر کے لوگ رکاوٹ ہیں کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنے کا اور عسکریت پسند عناصر کو ہوا دینے کا عمل ہے۔ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے عمل کی جوابی کارروائی کشمیر کے اندر عسکریت کا فروغ ہو اور چھاپہ مار کارروائیاں بھارت کو کشمیر کے اندر ایک مربوط عسکری کارروائی کا بہانہ فراہم کریں۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کا سید صلاح الدین کو سرکاری پروٹوکول دینے کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اکثر ارباب دانش ایک مثبت عمل گردان رہے ہیں ،اور ایسا کرنا شائد وقت کی ضرورت بھی تھی تاکہ بھارت اور امریکہ کو ایک واضع پیغام دیا جاسکے کہ دونوں طرف کے کشمیر وادی میں جاری تحریک کو اپنی تحریک سمجھتے ہیں اور بھارتی ایماء پر ایک کشمیری کو دہشت گرد قرار دینے کے عمل کو مسترد کرتے ہیں، لیکن اگر جذباتی ہوئے بغیر اس عمل کو باریک بینی سے دیکھا جائے اور بدلتے عالمی سیاسی اور سفارتی حالات کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے ممکنہ مضمرات میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم بشمول کابینہ بالخصوص اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے باشندگان کو بالعموم یہ عمل بیرون ملک کے ویزہ کے حصول اور سفر میں دشواری کا باعث ہو سکتے ہیں ۔

سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے بعد بحیثیت مجموعی کشمیر کی تحریک پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں مگر سید صلاح الدین کی حمایت بیرونی دنیا میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی قیادت کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے اس عمل کو بین الاقوامی طور پر پروپیگنڈہ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ، بھارتی زیر انتظام کشمیر کے معصوم عوام پر ظلم و ستم کو جائز قرار دے سکتا ہے او ر عالمی چوہدری امریکہ بھی اس کا حمایتی ہو سکتاہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی طرف سے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر جاری مزاحمتی تحریک کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جاتی اور بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے خلوص نیت سے سفارتی کوشش کی جاتی مگر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے عمل سے بھارتی پروپیگنڈے کو سید صلاح الدین کی حکومتی سر پرستی کے الزام کو نہ صرف تقویت ملے گی بلکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کسی بھی طرح کی عسکری مہم جوئی کو جواز مہیا ہوگا اور بھارت کی کسی بھی طرح کی عسکری مہم جوئی دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک اور جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Shopping Revolution

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *