اسراف و تبذیر مومن کا شیوہ نہیں

ماہ ِ رمضان میں ہمارے اکثر متمول حضرات اپنے خاندانوں کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حرمین حاضر ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ یہ ایک سعادت ہے اور ایک درجے میں غنیمت بھی کہ وہ دیگر ممالک کی بے قید سیر و تفریح کی بجائے حرمین کی مقدس فضاوُں میں اس با برکت مہینے کے ایام گذارنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایک بات مشاہدہ میں بھی آئی ہے اور بعض احباب نے بھی بیان کی ہے کہ اس موقع پر اسراف و تبذیر سے کام لیا جاتا ہے اور ایک ایک خاندان وہاں ایک لاکھ ریال سے لے کر چھ چھ لاکھ ریال تک خرچ کرتے ہیں ۔ کچھ تو اس سے بھی بڑھ کر وہاں خرچ کرتے ہیں ۔ اسی طرح بعض حضرات کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ حرمین میں سخاوت کی دھوم مچانے والے اپنے ذاتی ملازمین کے ساتھ اس ماہ ِ مواسات میں نیکی اور ہمدردی کرنے کی بجائے ا ن کی تنخواہیں بھی بروقت ادا نہیں کرتے ۔ دراصل یہ افراط و تفریط اسلامی تعلیمات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ،لہذا ضروری ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیمات اجاگر کی جائیں ۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ بات اصولی طور پر سمجھنی چاہئے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس کا ہمیں مالک و مختار نہیں بلکہ امین بنایا ہے ۔ مالک و مختار خود اللہ کی ذات ہے ۔ امانت سنبھالنے والا تبھی امین کہلا سکتا ہے جب وہ مالک و مختار کی مرضی کے مطابق اس مال میں تصرف کرتا ہے ۔ اس کے برعکس جو مالک و مختار کے حکم کے بر عکس اپنی خواہش کے مطابق اس مال میں تصرف کرتا ہے وہ امین کے منصب سے گر جاتا ہے اور خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے ۔ دوسری اصولی بات یہ سمجھنے والی ہے کہ جب وہ ہمارے اموال کا حقیقی مالک و مختار اللہ تعالیٰ خود ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ اس نے ہماری راہنمائی کیلئے کوئی پہلو تشنہ چھوڑا ہو ۔ چنانچہ اللہ نے قرآن ِحکیم اور حضور ﷺ کی سنت و سیرت کے ذریعے ہمیں کامل راہنمائی فراہم کر دی ہے کہ وہ مال جو ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے اس پر ہمارا کتنا حق ہے ، ہمارے علاوہ اور کس کس کا حق ہے اور یہ کس کس پر خرچ ہونا چاہئے ؟ اللہ کی مرضی کے برعکس اور محض اپنی خواہش کے مطابق خرچ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

اب ان سوالات کی روشنی میں وہ تعلیمات سامنے لاتے ہیں ۔
1۔ پہلی تعلیم تو یہ ہے کہ ہمیں اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی بلکہ اسے ہماری ذمہ داری قرار دیا گیا ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سورہ الفرقان میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے ۔
وَالَّـذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُـرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا (67)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
اس سلسلہ میں اللہ رب العزت نے یہ واضح فرما دیا کہ جس طرح وہ فضول خرچی کو نا پسند فرماتا ہے اسی طرح بخل بھی اس کو پسند نہیں . ہمارے ہاں یہ بھی سوچ بنا دی گئی ہے کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا شاید اسلام کا مطلوب ہی نہیں ہے یا اسلام تمول اور مالی آسودگی میں بھی اس کی نعمتوں اور جائز آسائشوں سے منہ موڑے رکھنے کا نام ہے . ایسا ہر گز نہیں اور اللہ رب العزت نے خود اس کی تصریح فرما دی ہے . سورہ الاعراف میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے .
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّـٰهِ الَّتِىٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (32)کہہ دو اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اور کس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں)، کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں ،قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی، اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح فرمادی کہ خرچ کرتے وقت توازن برقرار رکھنا ہے .کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سب کچھ خرچ کر ڈالیں اور بعد میں عند الضرورت ہاتھ ملتے رہیں .سورہ اسراء میں ارشار باری تعالیٰ ہے .وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَـةً اِلٰى عُنُـقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (29)اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے کھول دے ،بالکل ہی کھول دینا پھر تو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی آئندہ ضروریات کی تکمیل کیلئے مال جمع کرنا منع نہیں ہے . اگر جمع شدہ مال پر ایک سال کا عرصہ بیت جائے اور اس کی مقدار نصاب سے زائد ہو تو اس پر زکوٰة ادا کرنا ہوگی . اگر یہ اموال نصاب کی حد سے نیچے رہتے ہیں تو پھر ان پر زکوٰة نہیں بنتی .

2. دوسری تعلیم یہ ارشاد فرمائی کہ ہمارے اموال میں غربا , مساکین اور محروم المعیشت افراد کا بھی حق ہے اور ہمیں ان کا حق ادا کرنے کا حکم دیا . سورہ الذاریات میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے. وَفِىٓ اَمْوَالِـهِـمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (19)اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محتاج کا حق ہوتا تھا.
ایک اور مقام پر سورہ المعارج میں فرمایا .وَالَّـذِيْنَ فِىٓ اَمْوَالِـهِـمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ (24)اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے۔
لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (25)سائل اور غیر سائل کے لیے۔
سورہ اسرا ہی کا ایک اور مقام ملاحظہ ہو .وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٝ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْـرًا (26)اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو .

3. تیسری تعلیم اسی آیت میں مذکور ہے جسے اوپر نقل کیا گیا ہے .”ولا تبذروا تبذیرا” کے الفاظ کے تحت جس فضول خرچی سے روکا گیا ہے یہ اپنے حوالے سے نہیں بلکہ اپنے اموال میں سے کسی غیر مستحق پر خرچ کرنے کے حوالے سے ہے . اس اقدام سے چونکہ مستحقین کی حق تلفی ہوتی ہے اس لئے نہ صرف اس سے روک دیا گیا بلکہ ایسا کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا . اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے .اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُـوٓا اِخْوَانَ الشَّيَاطِيْنِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا (27)بے شک بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرگزار ہے۔
مفسرین نے یہاں بے جا خرچ کرنا یعنی تبذیر کو اسی معنیٰ میں لیا ہے کہ انسان مال تو خرچ کرتا ہے لیکن غیر مستحقین پر . لہذا جو لوگ صدقہ اور خیرات کرنے کیلئے اپنے قریبی ضرورتمندوں سے صرف نظر کر کے حرمین کا رخ کرتے ہیں جہاں اس خیرات کے مستحقین خال ہی نظر آتے ہیں اور بزعم ِخویش یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں خیرات کرنے کا زیادہ اجر ہے , انہیں اس ارشاد ِالہی پر خوب غور کرنا چاہئے . پھر یہ عمل تو اور بھی ناپسندیدہ ہے کہ آپ اپنے فرائض کی بجا آوری میں تو متساہل اور متکاسل ہوں لیکن نوافل ادا کرنے میں رغبت اور مستعدی ظاہر کریں ۔

شریعت اسلامیہ کا مسلمہ اصول ہے کہ فرائض ترک کرنے والے کے نوافل قبول نہیں کئے جائیں گے ۔ ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا فریضہ ہے ۔ جو ملازم سے کام لینے کے بعد اس کی مزدوری ادا نہیں کرتا ایسے شخص کے بارے میں رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے خلاف مزدور کی طرف سے مقدمہ بروز قیامت میں خود اللہ کی عدالت میں لڑوں گا ۔ دل تھام کر سوچنے والی بات ہے کہ ایسے شخص کی بد قسمتی کا کیا عالم ہو گا ؟ماہ ِ رمضان میں تو ملازموں اور ماتحتوں کے ساتھ تخفیف اور رعایت والا معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ان میں سے جو صدقات کے مستحق ہوں ان کے ساتھ سب سے پہلے بھلائی کرنی چاہئے ۔ حرمین میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے کم از کم زکوٰة یا صدقات کے مستحق تو نہیں ہوتے جبکہ وہاں کے مقامی لوگ زیادہ تر متمول ہیں اور وہ حرمین میں رمضان المبارک میں دل کھول کر خیرات کرتے ہیں ۔ حاصل کلام کے طور پر عرض ہے کہ جو متمول حضرات پاکستان یا دیگر ممالک سے تنہا یا اپنے خاندان کے ہمراہ حرمین جائیں وہ وہاں پر اسراف اور اظہار ِثروت سے اجتناب فرمائیں اور اپنے صدقات واجبہ و نافلہ کو وہاں خرچ کرنے کی بجائے اپنے ملک میں مستحقین پر خرچ کرنے کو ترجیح دیں ۔

Shopping Revolution

Avatar
محمدخلیل الرحمن
بندہ دین کا ایک طالب علم ہے اور اسی حیثیت میں کچھ نہ کچھ لکھتا پڑھتا رہتا رہا ہے ۔ ایک ماہنامہ کا مدیر اعلیٰ ہے جس کا نام سوئے حجاز ہے ۔ یہ گذشتہ بائیس سال سے لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔ جامعہ اسلامیہ لاہور کا ناظم اعلیٰ ہے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ممبر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *