زلزلوں کی نئی قسم جو پوری دنیا کا صفایا کرسکتی ہے

برطانوی ماہرین کی تحقیق میں نئی قسم کے زلزلوں کا انکشاف ہوا ہے جو عام زلزلوں کی نسبت کہیں زیادہ تباہ کن ہیں اور جدید ترین زلزلہ پیما مراکز بھی ان کا سراغ نہیں لگا پاتے۔

لاطینی امریکا کے ملک چلی میں 2011ء میں ایک زلزلہ آیا جس کی شدت 8.8 تھی۔ اس پر تحقیق کرنے والے برطانوی ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے۔

یونیورسٹی آف لیور پول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘جڑواں زلزلے’  کہلانے والے یہ زلزلے سطح زمین کے نیچے رونما ہونے والی تباہی کی وہ قسم ہیں جو آج تک سائنسدانوں کی نظروں سے اوجھل رہی۔

چلی میں آنے والے زلزلے کو بھی ماہرین نے روایتی انداز میں ہی دیکھا تھا کیونکہ جڑواں زلزلے، زلزلہ پیما مراکز پر ریکارڈ ہی نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق چلی میں آنے والا زلزلہ ابتدائی طور پر نازکا بر اعظمی پلیٹ اور جنوبی امریکی براعظمی پلیٹ کے ٹکراﺅ کے نتیجے میں پیدا ہوا لیکن اس کے محض 12 سیکنڈ بعد 19 میل کی دوری پر گہرے سمندر میں ایک اور زلزلہ پیدا ہوا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سونامی لہریں پیدا ہوئیں اور شدید تباہی کا سبب بنیں۔

لیورپول یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ جڑواں زلزلے کا دوسرا حصہ زلزلہ پیما سسٹم کی نظر میں نہیں آتا لہٰذا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سونامی لہروں کی پیش گوئی بھی نہیں ہوسکتی، نتیجتاً اس سونامی سے نمٹنے کے لئے مناسب اقدامات بھی نہیں کئے جاسکتے۔

یونیورسٹی کے سیزمالوجسٹ ڈاکٹر سٹیفن ہکس کا کہنا ہے کہ جب پہلے زلزلے کی طاقت ور لہریں مرکز سے باہر کی طرف پھیلتی ہیں تو قریب موجود کسی اور فالٹ لائن میں بھی ارتعاش کے باعث زلزلہ پیدا ہوجاتا ہے، جسے ماہرین نے ‘جڑواں یا خاموش زلزلے’ کا نام دیا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر جیوسائنسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے نئی قسم کے زلزلہ پیما نیٹورک کی تنصیب پر کام شروع کردیا ہے، کیونکہ مستقبل میں ان زلزلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کا خدشہ ہے

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *