توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟

توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟
محمد بلال
کیا کبھی کسی مسلمان نے اس نکتے پر بھی غور کیا ہے ؟ کہ توہین رسالت ہوتی کیوں ہے؟ عرب کا وہ معاشرہ جو جہالت اور خون ریز لڑائیوں کے سبب زنگ آلود ہوچکا تھا اس معاشرہ میں امن و سکون و انسانیت کا پھریرا لہرانے والے میرے اور آپ کے عظیم نبی امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تھے
جن کے راستے مسدود کئے گئے، لیکن وہ رب کے بندوں کو رب کی طرف بلانے سے نہیں رکے، آقائے دوجہاں ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے تو آپ نے ان کانٹوں کو خود راستے ہٹا دیا کہ کسی اور کی تکلیف کا سبب نہ بنیں
آقائے دوجہاں ﷺ کو گالیاں دی گئیں آپ نے جواب میں دعائیں دیں، آپ ﷺ کا شعب ابی طالب میں اپنوں نے بائیکاٹ کیا لیکن آپ نے فرمایا تین دن سے زیادہ کسی سے قطع تعلقی نہ کی جائے،
لیکن افسوس کہ جو رویہ چودہ سو سال قبل کفار مکہ کا امام الانبیاء ﷺ کے ساتھ تھا آج وہی رویہ مسلمانوں کا غیرمسلموں کے ساتھ ہے، ہم نے اپنے ملکوں اور ریاستوں میں مذہب کو اتنا تقسیم کردیا کہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوگئے اور غیر مسلم جنہوں نے قرآنی اصولوں کے مطابق اپنے ممالک امن یافتہ بنائے ہمیں ان کا امن بھی ہضم نہیں ہوا ، اور اسلام جو اپنے معانی میں سلامتی لئے ہوا تھا اسے اپنے جسم پر نافذ کرنے کی بجائے ہم نے اپنے جسموں پر آگ باندھی اور کود پڑے غیرمسلموں کے درمیان،
جہاد جو کہ قیام امن کے لئے کیا جاتا ہے، قوموں کو عروج دینے کے لئے کیا جاتا تھا، جس کا مقصد ذلت کی پستیوں سے حضرت انسان کو نکال کر کامیابی کی طرف لے جانا تھا اس جہاد کو ظلم بنا دیا گیا،
کیا اس وقت دنیا کا کوئی بھی مسلمان کوئی ایک مسلم عالمی رھنماء دکھا سکتا ہے کہ یہ ہمارا مسلم رھنماء ہے یہ اسلام کی عملی تصویر ہے ہم اس اسلام کی بات کرتے ہیں، یورپ نے اپنی اقوام کو لیڈر دئیے، رھنماء دئیے مغرب نے اپنی ریاستوں کو دیانت لیڈر دئیے مسلمان نے دیانت کا سبق یاد تو کیا اس بتایا نہیں گیا کہ عمل بھی کرنا ہے، ہمیں یہ تو پڑھایا گیا کہ راستے چلتے چڑھائی چڑھتے اللہ اکبر کہو نیچے اترتے سبحان اللہ کہو لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ راستے کشادہ کرو، راستے میں رکاوٹیں نہ آنے دو ، راستے میں ملنے والے کسی بھی انسان سے مسکرا کر ملو، ہمیں یہ تو سکھایا گیا کہ نماز پڑھو، لیکن یہ نہیں سکھایا گیا کہ پانچ وقت اپنی مسجد میں بلا کر اپنے سامنے کھڑا کردینے والا رب ہمیں بتا رہا ہے کہ انسانی مساوات زندگی کی سب سے اھم چیز ہے، ہمیں یہ تو بتا دیا گیا کہ کفار کے خلاف لڑنا فرض عین ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ہمارا نبی ﷺ تو راستے مسدود کرنے والے کفار کی بیماری پر بھی ان کی عیادت کے لئے جایا کرتا تھا،
ہمین یہ تو بتایا گیا کہ “کنتم خیر امت اخرجت للناس” کے تحت ہم سب سے افضل امت ہیں ہم بخشے بخشائے ہیں ہم اچھا کریں یا برا کریں ہمیں قیامت کے دن حوض کوثر ملے گا ہم عمل کریں یا نہ کریں لیکن ہمیں بتایا گیا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمارے لئے راتوں کو جاگ جاگ کر دعائیں کی ہیں کوئی ٹینشن نہیں لیں،
مسلمانوں
میرا اور آپ کا نبی ﷺ جو سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آیا اس کی رحمت کیا تھی ؟
مسئلہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اسلام بطور مذہب اور دین کے کامیاب ترین مذہب و دین ہے لیکن مسلمان بطور مسلمان کی سب سے ناکام ترین امت بن چکی ہے، ہم نے اپنے آقا ﷺ کی زندگی ان کی سیرت مبارکہ کو اپنے اعمال کے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیا، انہوں نے ہمیں جھوٹ سے منع کیا ہم نے جھوٹ بول کر کام کرنے کی قسم کھائی، آقا ﷺ نے ہمیں صلہ رحمی سکھائی ہم توڑنے پر عمل پیراء رہے، آقا ﷺ نے ہمیں غیرمسلموں کو اسلام کا فلسفہ امن سمجھا کر مسلمان بنانے کی تلقین کی ہم نے مسلمانوں پر بھی اسلام کے دروازے بند کئے،
ہم نے کیا کیا ہے اگر بطور پاکستانی مسلمان بھی دیکھا جائے تو ہم نے ہمیشہ “بند” ہی کیا ہے، ہم نے پڑوسیوں سے تعلقات “بند” کرکے “بارڈر بند” کئے، ہم نے کفر کے فتووں کے دروازے کھول کر اسلام میں داخلے کے دروازے بند کئے، ہمارے اذہان میں پیدائش سے یہ بات بھر دی گئی کہ ہم سب سے افضل ترین امت یا قوم ہیں، اس لئے اب ہم عمل کریں یا نہ کریں لیکن یہ فخر اور غرور ہم سے ٹوٹنا گوارہ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جب بھی توہین رسالت کا جرم ہوتا ہے تو “ضرب انانیت” پر لگتی ہے، “ضرب اس احساس تفاخر” پر لگتی ہے جس سے ہم دنیا کے ہر دوسرے مذہب کے ماننے والے کو اپنے سے کم تر و گھٹیا سمجھتے ہیں،
میرے بھائی آؤ سب کچھ بند کردو
بارڈر بند کردو
سوشل میڈیا بند کردو،
غیر مسلموں سے تعلقات بند کردو،
امن کی بات کرنے والوں سے صلح بند کردو ،
پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کی بات کرنے والے سے بات کرنا بند کردو،
ہم سب میں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہیں لیکن صرف ایک کام اور بھی کرلو
مروجہ روایتوں کو توڑ کر اپنے نبی ﷺ کی نافرمانی کرنا بھی بند کردو،
یاد رکھو دنیا دور سے دیکھ کر کہے گی وہ دیکھو “مسلمان آرہا ہے محمد ﷺ کا غلام آرہا ہے”
پھر نہ تو گستاخی ہوگی نہ آپ کی انانیت پر آنچ آئے گی،

Shopping Revolution

Avatar
محمد بلال
نہ میں موسی نہ فرعون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *