• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اٹھاؤ گلاس اور ماروجھک (ابراہیم جلیس کا سعادت حسن منٹو پر ایک مضمون)

اٹھاؤ گلاس اور ماروجھک (ابراہیم جلیس کا سعادت حسن منٹو پر ایک مضمون)

منٹو غلط زمانے میں پیدا ہوا اور صحیح وقت پر اس دنیا سے چلا گیا۔ اُس کے اِس دنیا سے چلے جانے کی خبر سن کر مجھے دُکھ تو بہت ہوا لیکن تعجب قطعاً نہیں۔
ہماری آخری ملاقات کراچی میں ہوئی تھی جب وہ فحش نگاری کے مقدمے میں ماخوذ لاہور سے کراچی آیا تھا۔ اُس وقت اُسے دیکھ کر میں یہ سمجھ گیا تھا کہ اب اِس کا چل چلاؤہے اور مجھے کسی دن بھی اِس خبر کو سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ منٹو جنت میں کسی حورِ لالہ رُخ کے کاشانے یا طہورہ کے میکدے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ۔۔۔
’’کھول دو‘‘
میں یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ میں منٹو کا بڑا قریبی اور گہرا دوست ہوں اور نہ ہی میرا شمار منٹو کی قبر کے نئے نئے ان گنت مجاوروں میں کیا جا سکتا ہے،البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ منٹو کی موت سے دو سال پہلے جب مجھے روز گار کی تلاش میں لاہور جانا پڑا تو شاید ہی ایسی کوئی شام آتی جب منٹوؔ :نصیر انورؔ ، احمد راہیؔ ، منیر نیازیؔ ،اے حمیدؔ اور مجھے ساتھ لے کر کھلی چھت والے تانگے میں سوار لاہور کی زندگی سے بھرپور سڑکوں پر نہ گھومتا رہا ہو۔

اس کی بیشتر شامیں اُس ہوٹل کے کمرے میں گزرتیں جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ منٹوؔ پر ان دنوں اس کے گھر والوں کی طرف سے پینے پر بڑی سخت پابندیاں عائد تھیں، اس لیے اُس نے میرے کمرے کو جائے پناہ اور شراب خانہ بنا رکھا تھا۔ اُن دنوں روز روز کی ملاقات اور درمیان میں شراب کی ایک بوتل کے باعث اُس سے میری خطرناک (اور شرمناک حد تک بھی) بے تکلفی ہو گئی تھی، یعنی ان ملاقاتوں میں بعض ایسے مواقع بھی آئے کہ جب میں نے منٹوؔ کو دیکھ کر یوں بھی محسوس کیا ہے جیسے اُس کے جسم پرتوکپڑے ہیں لیکن اس کا سارا وجود الف ننگا ہے۔

منٹوؔ سے مجھے جو قُرب حاصل رہا ہے اُسے جان پہچان کی وہ آخری منزل قرار دیا جا سکتا ہے جہاں سے دوستی کا آغاز ہوتا ہے۔ منٹوؔ سے ابھی دوستی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ منٹو اسی طرح اُٹھ کر چلا گیا جس طرح کبھی کبھی وہ آتا اور کمرے کے دروازے پہ کھڑے کھڑے کہتا :
’’میں آگیا ہوں اور اب جا رہا ہوں…. میں جانے کے لئے ہی آیا تھا۔‘‘
اس نے غالباً مجھ سے دوستی گویا داغِ مفارقت دینے کے لئے ہی کی تھی، لیکن میری اس سے دوستی جتنی مختصر تھی، اتنی ہی پر خلوص تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ جب بھی مجھے ملنے آتاصرف سعادت حسن کی طرح آتا اورمنٹوؔ کو کہیں باہر ہی چھوڑ کرآتا اور میں بھی جب بھی اس سے ملا جلیسؔ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابراہیم حسین کی طرح ملا۔ مجھے یاد ہے کہ منٹوؔ سے بے شمار ملاقاتوں کے دوران اس سے ادبی مسائل پر صرف ایک بار ایسی زبردست بحث ہوئی کہ ہم دونوں لڑ پڑے اور فوراً بغلگیر ہو گئے۔

اُن دنوں منٹوؔ کی ایک کتاب مشہور فلمسٹار نور جہاں سے متعلق شائع ہوئی تھی۔ ’نور جہاں سرورِ جاں‘ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں نے منٹوؔ سے کہا:
’’تمھاری یہ کتاب ’’نور جہاں سرورِ جاں‘‘ محض بکواس ہے، اب تم ہتک ،بابو گوپی ناتھ، موذیل اورکھول دوجیسے لافانی افسانے کیوں نہیں لکھتے؟ فلمسٹاروں کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟‘‘
منٹو نے کہا:
’’یار اب گوپی ناتھ کے مقابلے میں فلمسٹار آسانی سے بِک جاتے ہیں۔‘‘
میں نے جل کرکہا:
’’فلمسٹاروں سے زیادہ تو تم بِکتے ہو سعادت، مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ تم اب ادب کی شاہراہ پر خوشیا، سوگندھی ،گوپی ناتھ اور موذیل جیسے یاد گار مجسمے نصب کرنے کے بجائے پرانے بغداد کے بردہ فروش تاجر کی طرح آوازیں لگاتے ہوئے اپنے دوستوں کے اجسام سرِبازار نیلام کر رہے ہو۔‘‘

منٹو اس ریمارک پر ایک دم جِھلّا اُٹھا۔ یہ اُس کی عادت تھی جب اُس کے سامنے اُس کی تحریر کی برائی کی جاتی تو وہ ایک دم غصّے میں آجاتا تھا اور لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہ پھر اپنے آپ میں لوٹ آتااور کہتا:
’’ادب و دب سب بکواس ہے۔ انسان بڑی چیز ہے۔ اٹھاؤ گلاس اور مارو جھک۔‘‘

منٹوؔ کے کردار کے بارے میں بے شمار لوگوں کو، جو اُسے شخصی طور پر نہیں جانتے تھے، اُس کی تحریروں کے باعث بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ بڑا غلط قسم کا شرابی ، بے حد آوارہ عورتوں کارَسیا اور بڑا غلیظ لباس انسان ہے۔ منٹوؔ سے ملنے سے پہلے میرا تصوّر بھی کچھ کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن جب میں منٹوؔ سے ملا اور ملتا رہا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے منٹو دلدل کا کنول ہے۔

وہ سچ مچ بہت شراب پیتا تھا۔ کبھی کبھی جب آسمان پر خوب بادل چھائے ہوئے ہوں اور مینہ جھما جھم برس رہا ہو تو پھر دن، شام اور رات کو آہستہ آہستہ شراب کی خالی بوتلوں میں بھرتا رہتا تھا۔

شراب کی بوتلوں کے علاوہ اس کی کہانیوں میں اکثر و بیشتر آوارہ اور ننگی عورتیں نظر آتی ہیں، فحش گالیوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ اُس کا افسانہ ایک ایسا غلیظ کمرہ نظر آتا ہے جہاں ایک گندے بستر پر کوئی بے شرم عورت نیم عریاں لباس میں لیٹی ہے اور کوئی مرد پسینہ میں شرابور کھڑا ہے۔ میز پر شراب کی بوتل کھلی پڑی ہے۔ سگرِٹوں کا دھواں پھیلا ہوا ہے اور کمرے میں دھما چوکڑی سی مچی ہوئی ہے۔۔ ۔ لیکن منٹوؔ کے افسانے سے باہر لاہور کی ہال روڈ کے عقب میں واقع لکشمی مینشن کے کونے کے فلیٹ کا دروازہ کھٹکتا ہے تو اندر سے وہ منٹوؔ باہر نکلتا تھا جو بے حد صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ہوتا تھا۔ میں نے کسی دن بھی منٹو کے اُجلے لباس پر میل کا ہلکا سا دھبّہ تک نہیں دیکھا۔ وہ ایک اچھے فرنیچر سے آراستہ مکان میں رہتا تھا۔ ایک بے حد شریف بیوی کا وفادار شوہر اور تین پیاری ننھی بچیوں کا نہایت مشفق باپ تھا۔ اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھئے تو وہ یہ تک گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے کے بجائے فرش پر جھاڑ دے۔ ایک بار مجھ سے سگریٹ کی راکھ فرش پر گر پڑی تو منٹو نے میرے ہاتھ میں ایک جھاڑو پکڑا دی تھی کہ چلو یہ فرش صاف کرو۔

میں سمجھتا ہوں کہ منٹو کی شخصی اور ذہنی زندگی میں یہ تضاد ہی منٹو کی تخلیق کا باعث ہے۔ گویا کہ شخصی اور ذہنی زندگی کے ٹکراؤ سے ہی سعادت حسن میں ایک منٹوؔ نے جنم لیاتھا۔
منٹوؔ کے لیے دنیا میں شاید سب سے زیادہ پیاری چیزبوتل ہی تھی اور میرا یہ ماننا بھی ہے کہ زندگی خود بھی اس کے لیے شراب کی ایک بوتل تھی، جسے وہ بڑے مزے لے لے کر پیتا تھا اور اس کے نشے کو کہانیوں کی شکل میں اپنے اردگرد بکھیرتا رہا۔ لیکن زندگی کے ہر معاملے میں تلون مزاج اور عجلت پسند منٹو ڈسٹلری کی شراب کی طرح زندگی کی شراب کو بھی تیز تیز،جلدی جلدی پیتا گیا اور ساٹھ، ستر، اسّی، نوے اور شاید ایک سو سال تک نشہ دینے والی بوتل اس نے صرف 43 سال میں ختم کر دی۔ اور منٹو کے رشتہ داروں اور عقیدت مندوں نے اس خالی بوتل کو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکنے کے بجائے احتراماً میانی صاحب کے قبرستان میں مٹی کے ایک ڈھیر تلے چھپا دیا۔ بوتل توچھپ گئی لیکن اس کا نشہ جس کا نام منٹوؔ ہے ادب کی دنیا پر بدستور طاری ہے اور ہمیشہ چھایا رہے گا۔

اب منٹوؔ اِتنی دور چلا گیا ہے کہ اُس کا واپس آناناممکن ہے لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمین پر واپس آنے کے لئے تڑپ رہا ہوگا۔ اسے زمین سے عشق تھا۔
کبھی کبھی میں بھی اس کے لئے تڑپ اُٹھتا ہوں اور دل مچل کے مجھے اُکسانے لگتا ہے۔
’’اُٹھاؤ بوتل اور چلو منٹو کے پاس‘‘

’آسمان کے باشندے‘ (مطبوعہ 1973ء)

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *