• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نیا سال پاکستان کے لیے کانٹا نہیں کیل ثابت ہوگا۔۔اسد مفتی

نیا سال پاکستان کے لیے کانٹا نہیں کیل ثابت ہوگا۔۔اسد مفتی

اصل میں ہر گزرا ہوا دن آنے والے دن کے لیے اور ہر گزرا ہوا سال آنے والے سال کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ ہم گزرے ہوئے واقعات اور حادثات سے کچھ سیکھنے کی دیانتدارانہ کو شش کریں ۔ اس کام کے لیے میں تو تیار ہوں ۔کیا آپ بھی تیار ہیں ؟
مسلمانوں کا نیا سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن وہ حسبِ معمول اور حسبِ سابق ،حسبِ روایت کاروباری،تجارتی،دفتری اور عملی دنیا میں نیا سال یکم جنوری سے ہی شروع کرتے ہیں ۔ا س لیے اگر یہ کہا جائے کہ یکم جنوری ہی سال کا پہلا دن یعنی”نیو ائیر “ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس حوالے سے یکم جنوری اور نیو ائیر کی اپنی اہمیت ہے جس سے انکار “ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے والے بھی نہیں کرسکتے”۔
جانے والے سال تواتنے گہرے زخم دے گئے ہیں جو برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے۔ 2014 جاتے جاتے اپنی موت کے آخری لمحوں میں سکول کے بچوں کی موت کی خبر دیتا گیا۔ لیکن زندگی ہے کہ آگے ہی کی سمت دیکھتی ہے۔ہر انسان نئے سال کے لیے اپنے ارادوں کو بار آور دیکھنے کے لیے اپنی سی کوشش کرتا ہے لیکن ایک یورپی ماہر نفسیات کا یہ کہنا ہے کہ یکم جنوری سے یہ کوشش شروع نہ کی جائے بلکہ جنوری کے تیسرے ہفتے کے اختتام سے یعنی 25 جنوری سے اس کا ڈول ڈالا جائے ۔ماہر نفسیات ڈونا ڈوسن نے 25 جنوری کے دن کو زندگی میں بہتری لانے کے لیے اچھا قرار دیا ہے۔اور کہا ہے کہ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جو آپ کے لیے نقصاندہ ثابت ہوں۔اور آپ کفِ افسوس ملتے رہیں۔
علمِ نفسیات کے ماہرین کی طرح مشرقی علوم کے ماہرین و مورخین بھی جانتے ہیں کہ مشرق میں علوم کو زندگی، انسان اور کائنات کے وسیع تناظر میں دیکھا گیا ہے لیکن مشرقی علوم کی ساخت میں تجربہ گاہ اتنی اہم نہیں تھی جتنی کہ مغربی سائنسی دنیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سائنس کے بنیادی اصولوں میں مشاہدات ،تجربات اور پھر ان کی روشنی میں  طے کیے گئے نظریات قائم کیے گئے ۔ مشاہدات ،تجربات کے تسلسل نے پھر مغربی سائنس کی عقل کی بنیاد پر کائنات اور اس کے مظاہر کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا اور پھر عقل سا ئنسی رویے کی بنیاد بنی۔
یہی وجہ ہے کہ ماہر نفسیات ڈونا ڈوس نے شخصیت اور رویوں کے تجزیے میں اپنی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے اعدادوشمار سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر آپ جلد بازی اور بے صبری کے بجائے غوروفکر کے بعد منصوبہ بندی کریں تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں بہت سے افراد جنوری کے آغاز ہی میں اپنی “ترقی” کا حساب کتاب لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔مسز ڈوسن کے خیال میں تیزرفتاری کے نتیجے میں منہ کے بل گرنے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ آپ کچھ وقت سوچنے اور پھر آگے بڑھ کر تبدیلیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ہالینڈ میں نئے سال کے موقع پر ایک مہم چلائی گئی ہے جس کا مقصد عوام میں ورزش کو روزمرہ میں شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ڈونا ڈوس اسی مہم کا ایک حصہ ہے یہ مہم سپورٹ انگلینڈ نے شروع کی تھی۔گزشتہ سال یہ بات سامنے آئی تھی کہ انگلینڈ میں 75 فیصد خواتین اور 62 فیصد مرد صحت مند طرزِ زندگی کے لیے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کرتے ہالینڈ نے عوام میں ترغیب پیدا کرنے کے لیے ایک ہدف متعین کرلیا ہے۔جس میں ہر سال ایک فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں دنیا بھر کے ماہرینِ علم ِ نجوم نے نئے سال کی آمد کے ساتھ رواں سال میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں دلکش پیشگوئیاں بھی شروع کردی ہیں ۔
تازہ ترین پیش گوئی حسبِ سابق اور حسبِ معمول قیامت کے بارے میں ہے ۔اب کے کچھ ماہرین ِ قیامت نے قیامت برپا ہونے کے لیے بہترین سال 2019 تجویز کیا ہے۔ ایک دوسرے ماہر نجوم کے مطابق ایک عظیم الحبثہ شہاب ِ ثاقب اس سال کے وسط میں زمین سے ٹکرائے گا اس کے لیے اس نے 13 اگست کا خوں آشام دن مقرر کیا ہے۔
امریکہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو معمول سے دو گنا تباہ کن سمندری طوفانو ں سےسامنا ہوگا۔ پیش گوئیاں کرنے والے ماہرین نے علمِ نجوم کے علاوہ بائبل کے پرانے نسخوں سے لے کر کمپیوٹر کے جدید ترین سافٹ وئیر استعمال کرنے کا دعویٰ کیا ہے
ایک دلچسپ دعویٰ جو میرے اس کالم لکھنے کا باعث بنا یہ ہے کہ آئی بی ایم کمپیوٹر کے ایک ماہر نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان میں روٹی کی قیمت 15 روپے ہوگی اور زمین سے نکلنے والا پانی 45 فٹ مزید نیچے چلا جائے گا۔ جس سے پانی حاصل کرنے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔جیوے جیوے پاکستان۔
یہی وجہ ہے کہ تابوت بنانے والی کمپنی کا یہ دعویٰ میری سمجھ میں آتا ہے کہ “لائف ٹائم گارنٹی دی جاتی ہے”۔

Shopping Revolution

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *