• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • وزیر اعلی گلگت بلتستان کا مسلکی احتجاج اور راء سےفنڈنگ کا الزام اور تردید۔ ۔ شیر علی انجم

وزیر اعلی گلگت بلتستان کا مسلکی احتجاج اور راء سےفنڈنگ کا الزام اور تردید۔ ۔ شیر علی انجم

محترم قارئین خطہ گلگت بلتستان ایک ایسے گلدستے کا نام ہے جو کئی رنگوں کے مختلف گلابوں کا مسکن ہے ۔ ہمارے مسائل مشترک ہیں آپس میں رشتہ داریاں قائم ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کاروبار کرتے ہیں یعنی اس خطے کا مسلہ یہ نہیں ہے کہ فلاں کا مسلک کیا ہے اور فلاں کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہمارے خطے کی ایک اور خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں بلاکسی خوف   و خطر کے ایک  دوسرے کی مساجد میں ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر نماز بھی ادا کرتے ہیں ۔ لہذا اس بات سے ہم سب  آگاہ ہیں کہ اس خطے کا مسئلہ مسلک نہیں بلکہ پہچان ہے مگر پہچان نہ دینے کیلئے یہاں فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی رہی ہے۔ یہ سلسلہ بھی کوئی آج کی بات نہیں بلکہ 16نومبر1947سے جاری ہے ۔ جہاں عوام کو منتشر کرنے کے  کاز کو نقصان پہنچانے کیلئے مسلک کا پتہ استعمال کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گوکہ بہت سی  من گھرٹ باتیں کیں۔جس کا قانون آئین اور مسئلہ کشمیر سے منسلک گلگت بلتستان سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ موصوف کئی دنوں تک ٹیکس پر سبق یاد کرنے کے بعد ٹیکس کی افادیت پر لیکچر دے رہے تھے  ورنہ اُن کی تعلمی قابلیت سے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ آشناء ہے اور متنازعہ حیثیت سے بھی بطور ایک کشمیر ی وہ بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ گلگت بلتستان کے غیر کشمیری عوام نے اُنہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچایا ہے ورنہ ماضی میں کشروٹ میں اُنکی سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ الیکشن کے دنوں میں کس طرح اندرون خانہ مسلکی کارڈ استعمال کرتے ہوئے عوام کو مائل کرنے کی کوشش کرتے رہے یہ بات بھی سب جانتے ہیں۔ لیکن حالیہ ٹیکس ایشو کو انہوں  نے فرقہ واریت سے جوڑ کر اور بیرونی ایجنڈا قرار دیکر ثابت کردیا کہ گلگت بلتستان میں اگر اُن کی حکومت نہ رہے تو امن اور امان کا مسئلہ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ سے گزر سکتا ہے۔

محترم قارئین وزیر اعلیٰ نے اپنی  پریس کانفرنس میں حالیہ عوامی تحریک کو مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی  ادنیٰ کوشش کرتے ہوئے اہلیان بلتستان خاص طور پر مسلک تشیع پر اُنگلیاں اٹھائیں  جسے گلگت بلتستان کے عوام نے بُری طرح مسترد کیا اور پہلے سے کہیں  زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہوگئے۔ لیکن جو تاثر سیاسی انداز میں دیا گیا اس پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم 2013گندم سبسڈی احتجاج پر تھوڑی  روشنی ڈالیں تو گلگت بلتستان کے سنئیر قانون دان احسان علی ایڈوکیٹ جو اُس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین تھے اور اُن کا تعلق مسلک جعفری سے ہے جبکہ اُس وقت گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ کا تعلق بھی فقہ جعفریہ سے تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اُس تحریک کا مرکز بھی بلتستان ہی رہے اور پورے گلگت بلتستان کی نسبت بلتستان میں سب سے  زیادہ عوام متحرک ہوئے اور پیپلزسیکرٹیریٹ جو یادگار شہدا سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے  اُسی مقام پر ٹھاٹھے مارتا عوامی سمندر گو مہدی شاہ گو کے نعرے لگاتا  رہا  اور بلتستان میں مسلک اہل حدیث کے امیر مولانا بلال زبیری صاحب قبلہ آغا علی رضوی کے ساتھ ملکر عوام کو جوش دلاتے رہے اور سکردو کی ہوائیں لبیک لبیک کی صداوں سے گونجتی رہی۔ بلتستان کے غیور عوام کا مسئلہ کبھی مسلک نہیں رہا بلکہ ہمارے عوام میں اتنی غیرت ہے کہ اپنے مسائل کے  حل کیلئے اُٹھ سکتے ہیں اسی طرح اُس تحریک میں جان ڈالنے کیلئے ضلع دیامر سے علمائے کرام اور اسماعیلی ریجنل کونسل کے اہم ممبران سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات نے عین احتجاج کے وقت سکردو کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ عوام سے خطاب بھی کیے  اور عوام نے اُن سے یہ نہ پوچھا کہ آپ کا تعلق ہمارے مسلک سے نہیں لہذا ہم آپکی تقریر پر لبیک نہیں کہتے بلکہ لاکھوں عوام نے اُٹھ کر اُن کا استقبال کیا اور بلتی روائتی ٹوپی پہنا کر اپنے مہمانوں کی عزت افزائی کی۔

اُس وقت حفیظ بڑے خوش تھے کیونکہ وہ اس تحریک کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح بلتستان کے علمائے کرام نے جب دیامر کا دورہ کیا تو چلاس کا صدیق اکبر چوک جسے ماضی میں گلگت بلتستان میں فتنہ فساد برپا کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے یہاں سے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں  اور شیعہ سُنی بھائی بھائی کے نعروں نے دیامر کے   پہاڑوں اور جنگلات کو بھی لرزاکررکھ دیا۔ دوسری طرف گلگت میں بیٹھے مہدی شاہ نے نہ ہی بلتی قوم سے شکوہ کیا نہ ہی اُن کے فرقے کی وجہ سے یہ سب کچھ کرنے کا الزام لگایا کیونکہ مہدی کے اندر ہزار کمزوریاں سہی لیکن اُنہوں نے جمہوریت کے جھنڈے تلے سیاسی پرورش حاصل کی ہے۔ لہذا وہ  عوام پر ربڑ کی گولیاں چلانے کا منصوبہ  بنانے  کے بجائے سیاسی طور پر ڈٹے رہے لیکن عوامی سمندر میں جب خود کو ڈوبتے دیکھا تو سرینڈر ہوگئے اور گندم سبسڈی کا معاملہ افہام  و  تفہیم کے ساتھ حل ہوگیا۔ حالیہ ٹیکس ایڈاپٹشن ایکٹ کی بات کریں تو یہ ایکٹ گوکہ پیپلزپارٹی کی مرہون منت ہے لیکن اُنہوں نے اپنے دور میں اس کو نافذ ہونے نہیں دیا ۔ اس سلسلے میں راقم نے پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک اہم رہنما سے بات کی  تو اُن کا کہنا تھا کہ اصل میں ہمارا مقصد گلگت بلتستان کو نام کی  پہچان دینا تھا کیونکہ ناردرن ایریا میں ہماری شناخت مبہم تھی لہذا کچھ ایسے ایکٹ  پر بھی خاموش رہے جو گلگت بلتستان میں متنازعہ حیثیت کی وجہ سے نافذ العمل نہیں تھے ،یہی وجہ تھی کہ ہم نے انکم ٹیکس ایکٹ کو چھیڑا ہی نہیں۔

اب حالیہ احتجاج کے حوالے سے بات کریں تو وزیر اعلیٰ نے جس کیمرے کی آنکھ سے دیکھا اُس کے مطابق بلتستان کے علاوہ باقی نو اضلاع میں نظام زندگی معمول پر تھے لیکن حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو ٹیکس کے خلاف عوامی موومنٹ میں دیامر سے لیکر بلتستان کے آخری گاوں تک عوام بغیر مسلکی اور سیاسی اختلاف کے غیر آئینی ٹیکس کے خلاف سخت سردی اور برف باری کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے لیکن منتخب نمائندے کے عوام میں جانے کے بجائے اسلام آباد میں بیٹھ کر  احکامات دیتے رہے۔ معاملہ جب حل ہوتا نظر نہیں آیا تو اس بار بھی بلتستان کے عوام نے آگے بڑھتے ہوئے تمام تر مشکلات اور سخت سردی کی پروا کیے  بغیر گلگت کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا اس اقدام نے یقیناً وزیر اعلیٰ کی پریشانیوں میں اضافہ کیا۔ یاد رہے حالیہ تحریک عوامی ایکشن کمیٹی کے  چیئرمین مولانا سلطان رئیس ہیں اور اُن کا تعلق بھی یقیناً مسلک جعفری سے نہیں ہے لیکن علمائے امامیہ سمیت اہل سنت مسلک جماعت اہلحدیث، مسلک دیوبند ، اسماعیلی ،نوربخشی علمائے کرام نے اُن کے ہاتھ میں بیعت کی اور لبیک کا نعرہ لگایا۔ حکومت کی جانب سے دیامر کے علماء سے منسوب کرکے ٹیکس مخالف احتجاج سے لاتعلی کا اظہار کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلسل پروپیگنڈے کرتے رہے لیکن دیامر علماء کونسل نے پریس ریلیز کے ذریعے تمام حکومتی دعووں کو مسترد کردیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کا ساتھ دینے کا عہد کیا۔ یوں حفیظ الرحمن نے تمام قسم کے حربوں کی مسلسل ناکامیوں کے بعد اسلام آباد کے گرم کمرے میں بیٹھ کر ویڈیو پیغام کے ذریعے سخت سردی اور برف باری میں سڑکوں پر بیٹھے عوام پر برس پڑے تو ایسا لگا کہ اُنہیں عوام نے منتخب نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے اس خطے کو ڈوگرں کے زمانے کی طرح پٹے پر حاصل کیا ہے۔

بس اُن کے اس غصے نے عوام کو مزید مضبوط کیا جس سے تحریک میں ایک نئی جان آگئی اور اعلان ہوا کہ جیسے ہی اہلیان بلتستان گلگت میں داخل ہوں گے   گلگت کے دیگر تمام اضلاع کے عوام جو بالکل تیار بیٹھے ہیں گلگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ اسی دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک اہم رکن کے مطابق اطلاع دی گئی کہ نواز شریف نے چونکہ اس وقت پاکستان میں ٹکراو کی سیاست کو پروان چڑانے کی ٹھان لی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ نے بھی رائے ونڈوالوں کی منشاء پرعوام کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا حکم دیا ہے اور یہ خبر پاکستان کے اہم ادارے تک بھی پہنچ چُکی ہے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کو جو کل تک ٹیکس نافذ کرنے کیلئے بضد تھے اُنہیں  عوام کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا۔ لیکن تعجب اس بات پر ہوا کہ شاید ہی دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہو کہ پراُمن احتجاجیوں پر غداری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا ہو لیکن حفیظ سرکار نے کرکے دکھایا جس میں پچاس سے زیادہ انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کے ممبران کے خلاف خاموشی سے سٹی تھانہ گلگت میں مقدمہ درج کیا ہوا ہے اس مقدمے کو ختم کرنے کے مطالبے پر مثبت جواب نہ ملا لیکن عوام تو عوام ہے پھر عوام کی  پشت پر عسکری ہاتھ بھی ہو تو طرز   نظام کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔

بحرحال مذاکرات کامیاب ہوئے لیکن اہلیان بلتستان پر لگائے گئے الزمات پر اُن کے خلاف احتجاج میں تیزی آئی تو دوسرے دن تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے موقف پیش کیا کہ کچھ مقامی اخبارات نے حکومت دشمنی میں خبر کو سیاق  و سباق سے ہٹ کر چھاپ دیا اور عوام سے اُس پریس کانفرنس کی ویڈیو دوبارہ دیکھنے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا لیکن فرض کریں کہ مقامی اخبارات نے اُن کے ساتھ بددیانتی کی جس کا سیاسی مذہبی مسلکی جسے وہ خود ہر معاملے میں استعمال کرتے ہیں شامل ہوگا ، مگر پاکستان کے قومی سطح کے اخبارات میں راء کی طرف سے فنڈنگ اور مسلکی احتجاج کی خبر پر کوئی جواب دینے کیلئے تیار نہیں۔ اور اُنکا یہ کہنا کہ اسلام آباد سے کچھ لوگوں نے فنڈنگ کی ہے جس کیلئے تحقیقات کی جارہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اپنے الیکشن کمپئین کیلئے جہاں سے پیسے لئے ہیں اُس پر بھی عوام کو آگاہ کریں ورنہ قومی تحریکیں عوامی فنڈز سے چلتی ہیں  یہ کوئی نواز شریف کی پارٹی نہیں کہ کرپشن کے پیسوں سے لوگوں کے نظرئیے کو خریدا جاتا ہو۔ مہذب دنیا میں تحریک کیلئے فنڈریزنگ کرتے ہیں۔ مگر چونکہ اُن کے پاس مزید کہنے کو کچھ رہ نہیں گیا لہذا یہ الزامات اُن کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں لہذا اُنہیں گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگنا چاہے۔

Shopping Revolution

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *