ارشادات راشد پر جواب شکوہ۔ معاذ بن محمود

میں ضیاء الحق کو مملکت پاکستان میں پائے جانے والے کئی فتنوں کا باپ سمجھتا ہوں۔ آپ میں سے اکثر سمجھتے ہوں گے۔ لیکن پھر بھی کم از کم ضیاء کی برسی والے دن اصولاً ضیاء کی مغفرت ہی مطلوب رہتی ہے۔ یہ نشانی ہے کردار کی مضبوطی کی، والدین کی تربیت کی اور بندے کی طبیعت کی۔ حال ہی میں دور جدید کی کئی یورپی و امریکی اداکاراؤں کے جنسی استحصال کے چرچے اٹھے۔ آج کے دور میں میڈیا کی خود مختاری اور نسوانی آزادی کے باوجود عورت کا جنسی استحصال عروج پہ ہے، پھر دہائیوں قبل نور جہاں کے قصص پارینہ کو املی اچار کے ساتھ ملا کر ٹریفک بڑھانے کا کشتہ بنا کر پیش کرنا کیونکر منفی عمل نہ گردانا جائے؟ فرمایا گیا نہی عن المنکر۔ میں اور آپ مارول کے سپائڈر مین یا بیٹ مین نہیں، ایسے میں اپنے الفاظ کو اپنا کمزور سا ہتھیار بنا کر منکر کی نفی و نہی کرنے پہ تکلیف کاہے کی؟

ہمارا شمار ان ناہنجاروں میں کیا جاسکتا ہے جو انسان کا اصل اس کے عمل سے کشید کرتے ہیں۔ قصہ سنیے۔ بسام (فرضی نام) میرا سوریائی دوست اور ہمارے حلقہ احباب میں معصومیت و پارسائی کی بنا پر مشہور ہے۔ قریب تین برس قبل ہیلووین کی رات برستی بیچ بار میں ایک پارٹی چل رہی تھی جس میں ہم بھی موجود تھے۔ ماحول رعنائی و رنگینیوں سے تر تھا کہ اچانک بسام کا فون آیا کہ میں خودکشی کر رہا ہوں۔ استفسار پہ اصرار ہوا کہ ابھی میرے گھر پہنچا جائے۔ جو حضرات لے میریڈیان دبئی کی زندگی سے بھرپور شاموں سے آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ چھٹی والے دن یہ موقع محل چھوڑ کر کسی کو خودکشی سے روکنے جانا کس قدر تکلیف دہ عمل ہوگا۔ بہرحال ہم پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ موصوف کو سکائپ پہ کسی خاتون نے اپنے انتہائی خاص الخاص پیچ و خم کا دیدار کروایا اور جواباً اس سے بھی اس کی خفیہ تل اور زخم کے نشان دکھوا ڈالے۔ اس کے بعد ایک بے لباس ویڈیو ای میل کی جس میں موصوف کچھ غیر اخلاقی قابل سرزنش عمل کرتے پائے گئے۔ چند ہی لمحات میں ایک اور ای میل موصول ہوئی جس میں فیس بک پہ موجود بسام کے قریب ترین عزیز و اقارب کی پروفائل تھی اور پندرہ ہزار درہم اگلے چوبیس گھنٹے میں نہ ملنے کی  صورت میں اس  کی ویڈیو دوستوں کو بھیجنے کی دھمکی دی گئی۔ بہرحال اگلے چوبیس گھنٹے اپنی غربت ثابت کرنے کے بعد معاملات پانچ دو درہم سکہ رائج الوقت میں طے پائے۔ الحمد للہ۔ دنیا مگر آج بھی بسام کو معصوم اور پارسا ہی مانتی ہے۔ راشد صاحب فرماتے ہیں ہم سب کی ادارتی ٹیم سے دوستی ریٹنگ نہ لینے کی یقین دہانی کے لیے دلیل ہے۔ میری مانیے تو مذکورہ بالا قصے میں اپنی دلیل کی پھکی گھول کے غٹاغٹ پی جائیے۔

آپ فرماتے ہیں اہل مکالمہ کی جانب سے جوابی دلائل یا ہمارے اخذ کردہ نتائج پریشانی کا باعث ہیں۔ بندہ یاددہانی کرواتا چلے کہ مکالمہ کا مآخذ کسی ایک بیانیے کو ماں بن کر دودھ پلانے کی بجائے تمام بھائیوں کا موقف سننے سے ہے۔ یہی اور بالکل یہی وجہ ہے کہ “مدیر اعلی” کے نام پر ادارے کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ذاتی حملوں کے باوجود مکالمہ آپ کی جانب سے اس یکطرفہ محبت کو چھاپنے کا حوصلہ رکھتا ہے، جس کا جواب یہ تحریر ہے۔ آسان الفاظ میں، آپ پریشان ہونے کی بجائے خوش ہوں کہ مکالمہ ہر چھوٹی بڑی بات پر مکالمہ کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ ہاں اگر پریشانی ہی یہی  ہے تو اور بات ہے۔

میرے پاس مکالمہ کا کوئی بھی عہدہ نہیں لیکن جن کے پاس ہے وہ اس بات کا اعتراف برملا کرتے رہتے ہیں کہ مکالمہ سے غلطیاں ہوئیں۔ کسی وقت میں ایک غیر معیاری جنسی تحریر شائع ہوئی جس پر باقاعدہ معافی مانگی گئی اور اس کا تسلسل انڈے بچے دینے سے پہلے بانجھ کر دیا گیا۔ کعبہ کے بارے میں جس تحریر کا حوالہ آپ نے دیا، مکالمہ نے اس کے نصف درجن کے قریب جوابی مضمون چھاپے۔ کعبہ والا معاملہ یوں بھی کسی نیشنل ہیرو کی شلوار میں بکرم ڈھونڈنا نہیں تھا۔ میرا خیال ہے جس کی تصحیح کرنے کی درخواست رہے گی، کہ شاید، مطلب شاید مکالمہ علمی اعتراض اور نصف درجن  جوابات  کو ہی کہتے ہیں۔ ریٹنگ کے لیے ثانیہ کی چڈی کا استعمال مثبت ثابت ہونے کے باوجود مکالمہ کی جانب سے مردود قرار پایا جاچکا ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ راقم السنہری حروف چونکہ جہاں فانی سے کوچ کر چکے ہیں لہذا کوئی مضائقہ نہیں کہ ان کے حروف سے تھوڑا شغف فرما لیا جائے۔ میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ مسئلہ البتہ یہ ہے کہ میں شیخ مجیب الرحمن کے حامی کسی غیر معروف مرحوم کی جانب سے افواج پاکستان کی بابت لب کشائی کو مضمون بنا کر دور حاضر کی کسی بلاگ سائٹ پر ڈال دوں جیسے ابھی تازہ تندور سے نکلا ہو، تو بوٹ پالشیے میرا بوریا بستر اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ حضور، تاثر پہ غور تو کرنا چاہیے  ناں؟ تاثر دیا گیا  جیسے مضمون ابھی مارکیٹ میں آیا ہو؟ رائٹر نے اگر عالم بالا سے بھیجا نہیں تھا تو یاروں نے اس کو چھاپنا ضروری کیوں سمجھا؟ ایسے مضمون کا چھپنا فقط بدنیتی ہی شمار ہو گا۔

حضرت ایک ایسے  معاشرے  میں جہاں فنون لطیفہ کو کنجر خانہ کہہ کر پکارا جاتا ہے، ایک مرحومہ مغنیہ کے کردار کو لتاڑنا کہاں کی علمی بات ہے؟ حیرت ہے مضمون کے ابتداء میں جس قضیے کو آپ غیر اہم مسئلہ بتلا رہے تھے، اختتام میں آپ اسے علمی روایت قرار دینے پہ تلے ہوئے ہیں؟ منٹو نے لعنت اس حقیقت پر بھیجی کہ برصغیر کی عوام اپنے ہیروز کی زندگی میں انہیں ہیرو ماننے سے انکار کرتی ہے جبکہ موت کے بعد رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی پر ٹانگ دیتی ہے۔ آپ بہرحال نتیجہ اخذ کرنے میں آزاد ہیں۔

آخری بات، اور شاید اہم ترین بات یہ کہ جس شاخ پہ بیٹھے ہوں، مانگے کی آری سے اس کی جڑ کاٹنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

Shopping Revolution

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *