مشرقی عورت جیسا ادب، لاہور پھر لہُو لہُو

برصغیر کی خواتین کی یہ خوش بختی سمجھیں یا بد بختی، گھر میں سب کو کھانا کھلانے کے بعد خود کھانے کو ہاتھ لگانا ہے۔اسی طرح مشرقی خواتین کے اندر یہ بات اچھے انداز سے ٹھونس دی جاتی ہے کہ خاوند آپکا مجازی خدا ہے اور آپ اسکا نام لے کر نہیں پکار سکتے،بلکہ ”منے کے ابو” ،مُنّی کے اباّ وغیرہ صیغہ ء راز والے اسماۓ گرامی سے مخاطب کریں تو ادب و احترام کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ ایک خاتون خانہ تھیں جن کے خاوند کا نام ” رحمت اللہ” تھا، اور خاتون مشرقی تہذیب کو مدنظر رکھتے ہوۓ خاوند کو ” منے کے ابو” کے نام سے پکارتی تھی۔ ایک دفعہ خاتون کو نماز پڑھنی تھی، خاتون نے نماز کی نیت کی اور پڑھنا شروع کردی۔ رکوع کیا قیام کیا اور سجدہ کیا، حتی کہ بات جب اتحیات تک پہنچی اور جب خاتون نے سلام پھیرنا چاہا تو اسکے ذہن میں ایک دم مشرقی تہذیب جاگی اور سوچا کہ اگر میں ” السلام و علیکم و رحمتہ اللہ” کہوں گی تو ادب اور احترام نہیں رہے گا، میری خاندانی تربیت پر حرف آۓ گا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد خاتون نے سلام کچھ اس انداز سے پھیرا کہ” اسلام علیکم منے کے ابو” ، ” السلام علیکم منے کے ابو”، احترام کا احترام اور سلام کا سلام۔

اس وقت حکومت وقت کا رویہ مشرقی عورت جیسا ہو چکا ہے۔ لاہور میں دہشتگردی کے واقعه میں ،تیرہ افراد کا شہید ہونااور پھر لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی دراندازی کی وجہ سے تین جوانوں کی شہادت صرف ایک جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہمارا دشمن صرف اس وقت ایک ہے اور اسکا نام بھارت ہے۔ بھارت طالبان کا اسپانسر ہے، بھارت بلوچ باغیوں کا فنڈریزر ہے اور بھارت ہی ہمارے منفی امیج کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اس ساری صورت حال میں حکومت وقت کی جانب سے کوئی مدلل موقف کا سامنے نہ آنا اور حکومت کی جانب سے ہارڈ لائن نہ کھینچنا ان ابہامات کو مزید تقویت بخش رہا ہے۔

آج بھارت سفارتی سطح پر ایک اژدہے کا روپ دھار چکا ہےدنیا اسکی ہاں میں ہاں ملاتی ہے۔ لیکن ہم بدبخت ایسے ہیں کہ ایک وزیر خارجہ کا بھی تقرر نہیں کرسکتے۔ ہم آج اتنے مظلوم ہیں کہ ہمارے پاس مذمت کے لئے الفاظ ختم ہو چکے ہیں۔ آج ہم انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ آج ہم اس قدر مجبور ہیں کہ اچھے اور برے طالبان کی جماعت بندی کرہے ہیں۔ ہم اپنے ستر ہزار سے زائد شہری مروانے کے باوجود بھی اچھے طالبان کی تلاش میں ہیں۔ دراصل یہ تلاش نہیں ہےہم اتنے نااهل ہیں کہ ہم کسی خدائی مدد کے انتظار میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔ آج ہم غیرت کو جیب میں رکھ گھوم رہے ہیں کہ کوئی ہے جو اس نایاب گوہر کو خرید لے؟

سانحہ لاہور کے کئی محرکات ہو سکتے ہیں۔

۱۔ احتجاج کا راستہ بند کرنا اور احتجاجیوں کو پیغام دینا۔

۲۔ پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں ہونے والے فائنل کی راہ میں دشواریاں پیدا کرنا۔

۳۔ اہل ایمان کی جانب سے یہ پیغام دینا کہ ہماری کمر ابھی مضبوط ہے، کمر تو آپ کی توڑ دی ہم نے۔

۴۔ آپ اقتصادی راہداری کی بات کرتے ہو ہم نے کبھی امن ہونے ہی نہیں دینا۔ وغیرہ وغیرہ

اس ساری صورت حال میں کئی باتیں غور طلب ہیں۔ انڈیا تو ہمارا دشمن ہے ہی لیکن سات فروری سے نیکٹا کی جانب دہشت گرد حملے کی اطلاع کے باوجود اس واقعے کا ہونا دراصل ادارہ جاتی ناکامی کے سواء کچھ بھی نہیں ہے۔معلومات کے تبادلہء خیال کا کوئی منظم میکانزم نہیں ہے۔ ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوۓ اگر حکومت وقت کا رویہ دیکھیں تو اس میں جارحانہ پن نظر نہیں آرہا ہے۔ ساڑھیوں کا تبادلہ گھر کی چاردیوار تک محیط تھا لیکن قومی مفاد کہاں سے قربان ہونے لگا۔ حکومتی رویہ اور انداز اسلوب مشرقی عورت سے کم نہیں ہے۔

Shopping Revolution

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *