جیسا کام ویسا نام۔۔سلیم فاروقی

اللہ مبارک کرے، بچی کو دین و دنیا کی تمام کامیابیوں سے نوازے، اس  کی قسمت اچھی کرے اور والدین کے لیے حقیقی رحمت کا ذریعہ بنائے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب ہم نے اپنے ایک بھائی کی بیٹی کی پیدائش پر اس کو اور اس کی اہلیہ کو مبارک باد دی تو کچھ اسی قسم کے الفاظ سے مبارکباد دی تھی۔ بیرونِ شہر کچھ مصروفیات کے  باعث   یہ مبارکباد دینے کوئی چار پانچ دن بعد جانا ہوا تھا۔ یہ بیٹی ان دونوں کی دوسری اولاد تھی، پہلے ایک بیٹا ہوچکا تھا۔ یوں بظاہر یہ گھرانہ مکمل تھا۔ ہم تو ان دعاؤں کے بعد گپ شپ میں لگ گئے، لیکن خاتون خانہ نے بھاوج سے پوچھا بچی کا نام کیا رکھا ہے؟ اس کا نام رابعہ رکھا ہے، کیوں اچھا نام ہے نہ؟ بھاوج نے ہماری تائید چاہی۔ ہاں نام تو اچھا رکھا ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم تم نے یہ نام ہی کیوں چُنا ہے؟ میں اگر تمھاری جگہ ہوتا تو رابعہ کی جگہ ثانیہ نام رکھتا، ہم نے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا۔ ہائے اللہ کاش میں آپ سے پہلے پوچھ لیتی ثانیہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔ ممکن ہے تمھارانام رکھنے کا صرف یہی معیار ہو کہ زیادہ اچھا کون سا لگ رہا ہے، لیکن میں تو ثانیہ اس لیے کہہ رہا تھا کہ یہ تمھاری دوسری اولاد ہے اور عربی میں ”دوسرے“ کے لیے ثانی کا لفظ ہے اسی رعایت سے اس کی تانیث ثانیہ ہوگی۔ خیر وہ بات آئی گئی ہوگئی اور اس بچی کا نام رابعہ ہی طے ہوگیا۔

بچوں کا نام رکھنا بھی ایک مرحلہ ہی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر ایک کا اپنا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ کوئی صرف سننے میں اچھا نام رکھتا ہے، کوئی جدید اور انوکھے نام کو ترجیح دیتا ہے، کوئی کسی شخصیت کی نسبت سے اس خیال سے نام رکھتا ہے کہ اس شخصیت کے اثرات بچے میں آئیں گے، کوئی نام کے معنی کو اہمیت دیتا ہے یہاں خیال یہ ہوتا ہے کہ بچے کی شخصیت پر نام کا اثر پڑے گا۔ہمیں ذاتی طور پر ان میں سے کسی خیال پر کوئی اعتراض نہیں اور اس کو والدین کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ جو چاہے نام رکھیں۔

بچوں کے نام رکھنے میں کافی آزادی ہے جو جس طرح چاہے نام رکھے لیکن جب بات کسی بھی قسم کے ادارے کا  نام رکھنے کی آتی ہے تو نام رکھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کے نام سے ہی اس کا بنیادی تعارف ہوجائے۔ مثلاً وزارتِ تعلیم کا نام سن کر ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہ وزارت تعلیمی امور کو دیکھتی ہوگی اور وزارتِ صحت کا کام صحت کے امور کو دیکھنا ہوگا۔ اب اگر کوئی ادارہ اپنا نام تو سیاحت سے متعلق رکھ لے لیکن کام صرف خوراک کا کرے اور عذر یہ پیش کرے کہ سیاحت اور کھانے پینے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔تو یقیناً اس بات پر اعتراض بھی ہوگا، کہ جناب کھانا پینا سیاحت میں ضمنی کام ہوتا ہے اصل مقصد تو سیاحت ہوتی ہے، اس کے لیے کام کرو۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بہت بڑے سرکاری ادارے کی جانب سے گھی تیل بنانے والے اداروں سے سال بھر کی خریداری کے لیے ٹینڈر مانگے گئے۔ ہم بھی ایک گھی کمپنی کی جانب سے ٹینڈر کھلتے وقت موجود تھے ۔ کسی کمپنی کا کیا معیار تھا؟ یا کیا نرخ تھا ؟ ان سب کا اس کالم سے کوئی تعلق نہیں۔ جو بات یہاں قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ایک ایسی کمپنی نے بھی ٹینڈر جمع کروایا جس کے نام میں ہی ٹیکسٹائل ملز کے الفاظ تھے۔ (آپ فرضی نام الف بے جیم ٹیکسٹائل ملز سمجھ لیجیے۔) حقیقت یہ ہے کہ اس کمپنی کا گھی کافی مناسب معیار کا مانا جاتا تھااور ان کے نرخ بھی مناسب تھے۔ اور امید یہ تھی کہ اپنے مناسب نرخ کے باعث ٹینڈر ان کو ہی مل جائے گا۔ جب ٹینڈر کھلنے کے بعد تمام اداروں کے نرخ کا اعلان ہوا اور ٹینڈر کمیٹی نے شارٹ لسٹڈ اداروں کے ناموں کا اعلان کرنے کے بعد اعتراضات مانگے تو ہم نے اعتراض کردیا کہ آپ نے گھی تیل تیار کنندگان سے نرخ مانگے تھے اور شارٹ لسٹڈ کمپنیو ں میں ایک ایسے ادارے کا نام شامل ہے جو ٹیکسٹائل ملز ہے، ظاہر ہے کہ وہ مارکیٹ سے گھی خرید کر آپ کو فراہم کریں گے لہٰذا معیار کی کوئی ضمانت نہ ہوگی۔ مذکورہ کمپنی کا نمائندہ بہت چیخا چلایا کہ ہماری اپنی گھی مل ہے ہم اس کا دورہ کرواسکتے ہیں۔ ہم نے کہا آپ کا نام تو یہ نہیں بتا رہا ہے، رہی بات دورہ کروانے کی تو ہم بھی کسی اسٹیل مل کا دورہ کروا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری کمپنی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس کمپنی کا ٹینڈر منسوخ ہوگیا اور ہماری کمپنی سمیت تین مختلف اداروں کو ٹینڈر مل گیا۔

ریاست کی تشکیل کے عمرانی معاہدے کے تحت ایک شہری اپنے حقوق سے ریاست کے حق میں اس لیے دستبردار ہوتا ہے کہ ریاست اس کے کچھ بنیادی حقوق کی ضامن بن جاتی ہے اور عدل و انصاف بھی ایک شہری کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔اسی لیے ایک ریاست وجود میں آتی ہے۔علمی طور پر ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں۔مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ ان تینوں اداروں کے نام ہی ان کی ذمہ داریاں ظاہر کر رہے ہیں۔ یعنی مقننہ کا کام قانون سازی ہے، عدلیہ ریاست میں انصاف قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے اور انتظامیہ مقننہ کے تیار کردہ قوانین کی روشنی میں ریاست کے معاملات چلانے کی ذمہ دار ہے۔ اس میں کہیں کوئی ابہام نہیں ہے۔ لیکن ابہام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی ایک ادارہ اپنی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کرے یا اپنے حلقہ کار سے تجاوز کرے۔

اب ہمارے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ عدلیہ کا ادارہ قائم تو کردیا گیا۔ اور ایک عام شہری بجا طور پر اس ادارے کو عدل و انصاف کا نگہبان سمجھتا ہے ۔ اس ادارے کا نام بھی اسی تعارف کا آئینہ دار ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری عدلیہ نے انصاف فراہم کرنے کے لیے قانون کا ترازو اٹھا رکھا ہے اور ہر مقدمہ کو قانون کے باٹ سے تولتی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ قانون ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتا ہے، اسی لیے قوانین میں ترمیم ہوتی رہتی ہے۔ مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوجاتا ہے جب ہماری عدالتیں قانون کے ہاتھوں مجبور ہوکر عدل و انصاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے برخلاف فیصلے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں ایک عام شہری کا نظامِ عدل و انصاف سے اعتماد اٹھ جانے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر تنگ آکر کوئی شہری بذاتِ خود انصاف کرنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو سول سوسائٹی اس پر لعن طعن شروع کردیتی ہے۔

اس سلسلے میں مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے جب انصاف کو ایک طرف رکھ کر قانونی موشگافیوں کا فائدہ اٹھا کر مجرم بچ نکلے اور مظلوم اپنی جان چھپاتے پھر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین مثال شاہ زیب قتل کیس ہے۔ اس کیس میں قانون کو کس کس طرح موم کی ناک گردانتے ہوئے موڑا گیا۔ مقتول شاہ زیب اور قاتل شاہ رخ جتوئی اس پورے کیس میں حقیقت میں دو طبقات کے نمائندہ کی حیثیت اختیار کرگئے تھے۔ شاہ زیب کا خاندان ایک مظلوم خاندان کے طور پر عوامی ہمدردی کا نمائندہ تھا اور شاہ رخ پیسے والے با اثر طبقے کی نمائندگی کر رہا تھا، جو یہ ثابت کر رہا تھا کہ جس کے پاس طاقت اور پیسہ ہواس کے سامنے عدل و انصاف کی حیثیت کسی لونڈی سے زیادہ نہیں ہے۔ کیس کے ابتداء میں ہی شاہ رخ مقتدر حلقوں کی مدد سے ملک سے فرار ہوکر یہ ثابت بھی کرچکا تھا۔ پھر عوامی دباؤ پر اس کو بیرون ملک سے گرفتار کر کے لایا گیا۔ جب واضح طور پر انصاف کی دھجیاں اڑتی نظر آئیں تو چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور کیس کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں شنوائی کی نگرانی شروع کردی۔ بعد ازاں شاہ رخ اور اس کے ساتھیوں کو عدالت نے سزائے موت سنائی تو شاہ رخ کی کمینگی سے بھری فاتحانہ انداز کی مسکراہٹ نے مظلوم طبقے کے دلوں پر کتنی چھریاں چلائیں یہ سب کو یاد ہے۔

کیس کی گرد بیٹھنے کے بعد آج پانچ سال بعد ہماری عدلیہ کو یاد آگیا کہ یہ کیس ناجائز طور ہر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں بھیجا گیا تھا، یہ تو سیشن عدالت کا کیس تھا۔ اور پھر یہ کیس سیشن عدالت میں گیا اور وہاں کس طرح مشکوک طور پر مقتول کے گھر والوں نے ”اللہ کی رضا کی خاطر“ قاتل کو معاف کردیا اور اب قاتل آزاد فضاؤں میں ہے۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے عدل کا مظاہرہ کیا یا قانونی موشگافیوں میں الجھ کر عدل کی بجائے قانون پر عملدرامد کرنے کو ترجیح دی۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ کے اس فیصلے سے کیا ایک عام آدمی کو عدل و انصاف ملنے کے امکانات ختم تو نہیں ہو گئے ہیں۔ عدلیہ نے یہ فیصلہ تو دے دیا کہ یہ کیس دہشتگردی کا کیس نہیں بنتا ہے۔ لیکن کیا عدلیہ نے دہشتگردی کی تشریح کردی کہ دہشتگردی کس کو کہتے ہیں۔ اگر شاہ رخ کا کیس دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا ہے تو ممتاز قادری کا کیس دہشتگردی میں کیسے آگیا؟ کیا عدل کا یہی معیار ہے کہ اگر طاقتور اور پیسے والا قتل ہو تو کیس دہشتگردی کا ہے اور اگر ایک متوسط طبقے کا فرد قتل ہو تو دہشتگردی نہیں ہے۔

کیا شاہ رخ کی جانب سے قانون کا برسرِ عام مذاق اڑانا، سزا کے باوجود وکٹری کا نشان بنانا مظلوم طبقے کو چیلنج کرنے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا عدلیہ اپنے اس رویے پر غور کرے گی کہ وہ اس کی وجہ سے مظلوم طبقے میں انصاف ملنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، اور نتیجہ بد امنی اور انارکی کی صورت میں نکلے گا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا اب شاہ زیب کا خاندان بھی دہشتگردی میں ملوث نہیں ہوگیا ہے؟ کیونکہ جس طرح پورا معاشرہ ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور انہوں نے دوران مقدمہ جس طرح عوامی تائید کی مدد سے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا اور پھر خبروں کے مطابق اربوں روپے لے کر ”اللہ کی رضا کی خاطر“ صلح نامہ کر لیا، کیا یہ پورے معاشرے کی توہین نہیں ہے؟ اگر اس توہین کے اثرات کے تحت کوئی فرد خود انصاف کرنے اٹھ کھڑا ہوا تو اس کی ذمہ داری سے آپ خود کو کس طرح مبراء قرار دیں گے۔

آخر میں ہم عدلیہ سے درخواست کریں گے کہ اپنا نام تبدیل کر کے قانونیہ یا ایسا ہی کوئی نام رکھ لیں۔ کیونکہ آپ عدل نہیں قانون کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہم عدل کے لیے کوئی اور ادارہ تشکیل دے لیں گے جو قانون کی بجائے عدل وا نصاف کو زیادہ اہمیت دے۔کیونکہ ریاست کا ستون ”عدلیہ“ ہے نہ کہ ”قانون“۔

Shopping Revolution

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *