سوویت یونین میں سوشلزم کی پسپائی کے محرکات۔۔شاداب مرتضٰی

اکتوبر سوشلسٹ انقلاب نے ظالم روسی سلطنت کو ایک متحدہ اشتراکی جمہوری وفاق میں ڈھال دیا تھا جسے عام طور پر سوویت یونین کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس میں ہر قومی ریاست رضاکارانہ طور پر شامل تھی اور علیحدگی کا حق بھی رکھتی تھی۔ 1991 میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے فیصلے کے تحت سوویت یونین کو تحلیل کر دیا۔ عالمی کمیونسٹ تحریک کے لیے یہ اقدام ایک سانحہ تھا۔ روس کے مزدوروں نے اپنی لازوال قربانیوں اور عظیم جدوجہد سے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار جو مزدور ریاست قائم کی تھی اسے ختم کر دیا گیا اور سرمایہ دار طبقہ ایک بار پھر روس کے اقتدار پر براجمان ہو گیا۔

عالمی کمیونسٹ تحریک میں یہ سوال اب تک زیرِ بحث ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کے سبب سوویت یونین میں سوشلسٹ نظام ختم ہوگیا اور سرمایہ دارانہ نظام پھر سے بحال ہو گیا؟ اس سوال کے دو پہلو ہیں ایک معروضی یا خارجی پہلو جس کا تعلق مزدوروں کی اشتراکی ریاست کے خاتمے کے لیے عالمی سرمایہ دار ریاستوں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے ہتھکنڈوں سے ہے اور دوسرا پہلو موضوعی یا داخلی پہلو ہے جس کا تعلق خود سوویت معاشرے میں پیدا ہونے والے ان عوامل سے ہے جو اس کی تحلیل میں معاون و مددگار بنے۔ ہم اپنے جائزے کو سوویت یونین کی تحلیل کے داخلی عوامل تک محدود رکھیں گے کیونکہ یہ داخلی اسباب ہی تھے جنہوں نے سوویت یونین کی تحلیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

سوویت یونین میں ردِ انقلابی تحریک انقلابی تحریک کے ساتھ ساتھ چلتی رہی تھی۔ تاہم لینن اور اسٹالن کی قیادت میں بالشویک پارٹی اور مزدور طبقے نے مارکسی سائنسی اصولوں کے درست اطلاق کے  ذریعے ردِ انقلاب تحریک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ سوویت یونین میں ردِ انقلابی تحریک نے جوزف اسٹالن کے انتقال کے بعد 1956 میں دوبارہ اس وقت سر اٹھایا جب روسی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں کانگریس میں نکیتا خروشچیف سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری منتخب ہوا۔ خروشچیف نے اپنی سربراہی کی ابتداء جوزف اسٹالن کی کردار کشی سے کی اور اس مہم کی آڑ میں سوویت یونین کی منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کو بتدریج منڈی کی آزاد سرمایہ دارانہ معیشت میں تبدیل کرنے کے ابتدائی اقدامات اٹھائے گئے۔

اکتوبر سوشلسٹ انقلاب کے رہنماؤں خصوصا لینن اور اسٹالن نے ہمیشہ اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ کسی ملک میں سوشلزم کے قیام کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ وہاں طبقاتی کشمکش ختم ہوگئی ہے۔ اس کے برعکس یہ کشمکش مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے جاری رہتی ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے سوشلزم کے قیام سے متعلق نظریاتی اور سیاسی مسائل پر اٹھنے والے سوالوں میں مارکسی سائنس کے یہ تین اصولی نکات بار بار واضح کیے تھے کہ اول، سوشلزم مزدور طبقے کی آمریت کا نظریہ ہے، دوئم، صرف مزدور طبقہ ہی سوشلسٹ نظام قائم کرنے کا اہل ہے اور سوئم یہ کہ کمیونسٹ پارٹی صرف اور صرف مزدور طبقے کی سیاسی پارٹی ہوتی ہے۔ جب دوسرے طبقوں کے افراد کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو وہ اپنے طبقاتی رجحان بھی پارٹی میں ساتھ لاتے ہیں جس سے پارٹی کی طبقاتی ساخت اور نتیجے کے طور پر اس کا انقلابی کردار متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے لینن اور اسٹالن کی قیادت میں روسی کمیونسٹ پارٹی نے بوقتِ ضرورت پارٹی میں تطہیر کا عمل انجام دیا جس سے پارٹی نیم انقلابی، غیر انقلابی یا انقلاب مخالف عناصر سے صاف ہوتی رہی اور اس میں نئی توانائی آتی رہی۔

تاہم عالمی سرمایہ دارانہ کیمپ کی جانب سے سوویت یونین پر مسلط کی گئی دوسری عالمی جنگ میں روسی کمیونسٹ پارٹی کی درمیانی اور نچلی قیادت اور اس کے کیڈر کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے سبب کسان طبقے، دانشوروں اور طالبِ علموں کے نظریاتی طور پر غیر مستحکم  عناصر بڑی تعداد میں روسی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی اداروں میں شامل ہوئے۔ چنانچہ یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی میں ردِ انقلاب اقدامات اٹھانے  والے رہنما چاہے خروشچیف ہو یا برزنیف، گوربا چوف ہو یا بورس یلسن ان کا تعلق سابقہ زمیندار یا کسان طبقوں سے یا ردِ انقلاب سرگرمیوں میں ملوث دانشور پرتوں سے تھا۔ چنانچہ سوویت یونین میں ردِ انقلاب قوتوں کی کامیابی کا ایک اہم سبب سوویت کمیونسٹ پارٹی کی طبقاتی ساخت کی کمزوری تھا۔

دوسرا اہم سبب جو سوویت یونین کی تحلیل میں معاون ثابت ہوا وہ سوویت کمیونسٹ پارٹی اور سوویت معاشرے میں مارکسی تعلیم کی ترویج اور نظریاتی جدوجہد کو جاری رکھنے کی اہمیت کو فراموش کرنا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اور خصوصاً  اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سوویت کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہونے والے نئے افراد اور سوویت یونین کی نئی نسل کی انقلابی تعلیم و تربیت اشد ضروری تھی۔ مثلا 1951 میں جوزف اسٹالن نے اس بات کی کلیدی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نئی اور نوجوان قوتیں ہماری قائدانہ صف میں شامل ہو رہی ہیں جو ہماری مدد کرنے کی اور اپنی قدر و منزلت ثابت کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہیں لیکن ان کی مارکسی تعلیم ناکافی ہے اور وہ ان حقائق سے بخوبی واقف نہیں جو ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں اور اسی لیے وہ اندھیرے میں بھٹک رہی ہیں۔۔۔ان رفیقوں کی جانب ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ ہم ان کی مارکسی لیننی تعلیم و تربیت کے لیے کیا کریں؟ میرا خیال ہے کہ “عمومی طور پر جانے پہچانے حقائق” کا منظم انداز سے دوہراؤ اور صبر و تحمل سے ان کی وضاحت ان رفیقوں کو مارکسی تعلیم دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔”

سوویت یونین کی تحلیل کا ایک اور بہت اہم سبب سوویت یونین میں پیداواری صلاحیت اور پیداوار کی تقسیم کے درمیان تفاوت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سوشلسٹ معیشت کو مکمل طور پر قدر کے قانون اور کموڈٹی پروڈکشن کے تابع کردینا تھا۔ حالانکہ جوزف اسٹالن نے 1951 میں اپنی تصنیف “سوویت یونین میں سوشلزم کے اقتصادی مسائل” میں واضح کیا تھا کہ قدر کا قانون یا کموڈٹی پروڈکشن کا قانون سرمایہ دارانہ معیشت یا سوشلسٹ معیشت کے بنیادی قوانین نہیں ہیں اور نہ ہی سوویت یونین میں محنت کی تقسیم قدر کے قانون یا کموڈٹی پروڈکشن کے قانون کے تابع ہے۔ اسٹالن نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سوویت یونین کے معاشی مسائل کا سبب یہ ہے کہ پیداواری رشتوں کی پسماندگی (چھوٹے  پیمانے کی وسیع زراعت) پیداواری قوتوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے جسے دور کرنے کے لیے چھوٹے کمیونٹی فارمز (کولخوزی) کو بڑے کمیونٹی فارموں میں ضم کرنے کی اور بعد ازاں انہیں ریاست کے مشترکہ زرعی فارموں (سوفخوزی) کی حیثیت سے سماجی ملکیت بنا دینے کی ضرورت ہے۔

تاہم، خروشچیف کے دور میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی نے سوشلسٹ معیشت کو مزید ترقی دینے کے بجائے  مراجعت کی طرف قدم بڑھائے۔ ترمیم پسند معیشت دانوں کے نزدیک سوویت یونین میں اشتراکی معیشت کے مسائل کا سبب یہ تھا کہ سوشلسٹ معیشت قدر اور کموڈٹی پروڈکشن کے قوانین کی بنیاد پر استوار نہیں کی جارہی تھی۔ سوویت کمیونسٹ پارٹی نے یہ نکتہ نظر قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی سوویت یونین کی معیشت میں “سوشلسٹ کموڈٹی پروڈکشن” اور “منڈی کی معیشت کے ساتھ سوشلزم” جیسے موقع پرستانہ سرمایہ دارانہ نظریات اور ان کے ماتحت پالیسی کو غلبہ حاصل ہونے لگا۔

صنعتی پیداوار کی مرکزی طور پر منظم وزارتوں کو 1957 میں ختم کر دیا گیا اور علاقائی بنیادوں پر اقتصادی کونسلیں قائم کی گئیں جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار کی مرکزی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچا۔ 1958 میں زرعی معیشت میں محنت کی افزودگی بڑھانے کے لیے چھوٹے کولخوزی فارموں کو بڑے فارموں میں ضم کرنے کے بجائے الٹا انہیں مزید مشینری مہیا کی گئی یہاں تک کہ بعض اوقات ایک چھوٹے کولخوزی فارم کے پاس بیک وقت 10 ٹریکٹر کام کے لیے موجود ہوتے تھے! کولخوزی فارموں کی پیداوار میں ریاست کے لیے مختص حصہ کم کر دیا گیا۔ انہیں اضافی پیداوار کو کھلی منڈی میں من پسند قیمتوں پر مہنگے داموں فروخت کی اجازت دی گئی۔ ان پر اسٹیٹ بینک کے قرض معاف کر دیے گئے۔ اس طرح زرعی معیشت میں مہنگائی اور منافع  کے محرکات کو بڑھایا گیا۔

صنعتی شعبے میں 1966 میں کوسیجن اصلاحات کے  ذریعے صنعتی یونٹوں میں ڈائریکٹرز کا بونس پیداوار میں اضافے کے بجائے فروخت میں اضافے کے تناسب سے مشروط کر دیا گیا جبکہ مزدوروں کا بونس پیداوار میں اضافہ  سے مشروط کر دیا گیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں اجتماعی معاشرتی مفاد کے بجائے ذاتی منافع صنعتی پیداوار اور تقسیم کا محرک بن گیا جبکہ اجرتوں میں تفاوت پیدا ہوگئی اور  ذرائع پیداوار پر مزدور طبقے کی سماجی ملکیت کمزور پڑنے لگی۔

سوشلسٹ معیشت کی ترقی کے لیے پیداواری صلاحیت میں مستقل اضافہ ضروری ہے اور اس کے لیے  ذرائع پیداوار کی پیداوار میں مسلسل بہتری لازم ہے۔تاہم، 1971 میں 9ویں پنج سالہ منصوبے میں  ذرائع پیداوار کی پیداوار پر اشیائے صرف کی پیداوار کو فوقیت دی گئی۔ اس پالیسی کے تباہ کن نتائج لازمی تھے۔ نتیجتا، عوامی ضروریات کی تسکین کے لیے درکار اشیائے صرف کی پیداوار کے مقابلے میں پیداواری صلاحیت کم ہونے لگی۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ طلب و رسد کے تعین کو منڈی کے اتارچڑھاؤ کے “فطری” عوامل پر چھوڑ دیا گیا۔ تاہم، اس سے پیداواری قوتوں اور پیداواری تعلقات کے درمیان نزاع میں مزید اضافہ ہو گیا اور معیشت کی ترقی میں رکاوٹ شدید تر  ہوگئی۔ 1982 سے 1984 کے دوران جنرل سیکریٹری منتخب ہونے والے آندروپوف کے دو سالہ دور میں ان سرمایہ دارانہ اور اصلاح پسندانہ معاشی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف مزاحمت سامنے آئی لیکن یہ ترمیم پسند سوویت قیادت کا راستہ نہ روک سکی۔

سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی 1986 میں منعقدہ 27ویں کانگریس کے فیصلوں نے ترمیم پسندی کی حامل ردِ انقلاب قوتوں کو مزید مضبوطی فراہم کی۔ 1987 میں ملکیت کی مختلف شکلوں کو تسلیم کرنے کی آڑ میں سرمایہ دارانہ معاشی تعلقات کو قانون کے  ذریعے  ادارہ  جاتی  تحفظ  دے دیا گیا۔ 1990 کے آغاز میں 28 ویں کانگریس نے “منصوبہ بند مارکیٹ اکانومی” کی پالیسی کو ترک کر کے “ریگولیٹڈ مارکیٹ اکانومی” کی پالیسی اپنا لی جسے بعد ازاں “آزاد  منڈی کی معیشت” کی اعلانیہ پالیسی سے تبدیل کر دیا گیا۔

مارچ 1988 میں لینن گراڈ ٹینیکل انسٹیٹیوٹ میں کیمسٹری کی معلمہ نینا آندریوا نے اس صورتحال میں ایک طویل خط سوویت کمیونسٹ پارٹی کے اخبار “پراودا” کو لکھا۔ اپنے خط میں نینا آندریوا نے گورباچوف کی پیرسترائیکا پالیسی پر شدید تنقید کی۔ ترمیم پسند سوویت قیادت نے اسے “پیرسترائیکا کی مخالف قوتوں کا منشور” قرار دیا۔ نینا اندریوا نے گوربا چوف کی قیادت پر سوویت یونین میں سوشلزم کی تعمیر کے بارے میں اور سوشلزم کی شاندار کامیابیوں سے متعلق  تاریخی حقائق کو شعوری طور پر مسخ کرنے اور سوویت یونین کی نئی نسل کو سوشلزم کے خلاف تعلیم دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سوویت یونین کی تاریخ میں ردِ انقلاب مہم کی ابتداء خروشچیف کی جانب سے اسٹالن کی کردار کشی سے شروع ہوئی اور اس مکروہ عمل کو انجام دینے کے لیے گورباچوف کی قیادت خصوصا ٹراٹسکی کے ردِ انقلاب پروپیگنڈہ کا سہارا لے رہی تھی۔ بعد ازاں، 1991 میں نینا آندریوا نے روس کی آل یونین کمیونسٹ پارٹی آف بالشویک کی بنیاد ڈالی۔ تاحال وہ اس کی جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔

اس ضمن میں سوویت فلسفی، ماہرِ سماجیات اور ادیب الیکزنڈر زینوویف کا تزکرہ بھی اہم ہے۔ وہ 1922 میں پیدا ہوا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد  ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں معلم کی حیثیت سے تعینات ہوا۔ 1939 میں اسے سوویت کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کرنے والے دائیں بازو اور ٹراٹسکائیٹوں کے بلاک کے ساتھ تعلق رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2005 میں شائع ہونے والے اس کے ایک انٹرویو میں وہ یہ اعتراف کرتا پایا گیا کہ  “سترہ سال کی عمر تک میں ایک پکا اسٹالن مخالف تھا۔ اسٹالن کے قتل کا خیال میرے ذہن و دل پر چھایا رہتا تھا۔ ہم نے اس پر حملہ کرنے کے تیکنیکی امکانات کا بغور جائزہ لیا۔۔۔حتی کہ ہم نے اس کی مشق بھی کی۔ اگر وہ مجھے 1939 میں موت کی سزا دیتے تو یہ فیصلہ درست ہوتا۔ میں نے اسٹالن کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ کیا یہ جرم نہیں تھا؟ جب اسٹالن زندہ تھا میں چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھتا تھا۔ لیکن جب میں اس صدی پر نظر ڈالتا ہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ اسٹالن اس صدی کا عظیم ترین فرد اور سب سے ذہین و فطین سیاستدان تھا۔ کسی شخص کے بارے میں   سائنسی رویہ اختیار کرنا اس کے بارے میں ذاتی رویہ اختیار کرنے سے بالکل مختلف بات ہے۔۔۔”

یہاں ان حقائق کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 1956 میں اسٹالن کی کردار کشی پر مبنی خروشچیف کی تقریر کے خلاف روس کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جنہیں بزور طاقت دبا دیا گیا۔ اسی طرح سوویت یونین کے انتشار کی خاطر ترمیم پسند سوویت قیادت نے سوویت یونین کی اقوام کے درمیان 1980 کی دہائی میں قومی تعصب اور نفرت کو بھی ہوا دی۔ 1987 میں سوویت یونین کو تحلیل کرنے کے سوال پر ریفرنڈم کرایا گیا جس میں سوویت یونین کے 70 فیصد سے زائد رائے دہندگان نے تحلیل کے خلاف ووٹ دیا۔ 1991 میں سوویت یونین کی ترمیم پسند ردِ انقلاب قیادت نے سوویت یونین کو از خود تحلیل کردیا تاہم، روس کی سپریم سوویت بورس یلسن کو اضافی صدارتی اختیارات دینے کی مزاحمت کرتی رہی جس پر بورس یلسن نے 1993 میں فوجی طاقت کے زریعے روسی سپریم کو تحلیل کیا اور عوامی بغاوت کو کچل ڈالا۔

سوویت یونین میں سوشلزم کی پسپائی کے اسباب کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ سوویت یونین میں سوشلزم کی پسپائی اور سرمایہ دارانہ نظام کی بحالی کی وجہ مارکسزم لینن ازم کی سائنس میں موجود کوئی دائمی نقص نہیں۔ نہ ہی اس کا تعلق سرمایہ دارانہ معیشت سے زیادہ ترقی یافتہ سوشلسٹ معیشت کے اصولوں میں کسی خرابی سے ہے۔ اور نہ ہی اس کا سبب سرد جنگ میں سوویت یونین کی اسلحے کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ سوویت یونین میں سوشلزم کی پسپائی کے  محرکات سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی ترمیم پسندانہ روش اور انقلابی تحریک کے نئے مسائل کو مارکسی لیننی سائنسی اصولوں کی روشنی میں حل کرنے کی اہلیت سے محروم رہنا ہے۔ اگر جوزف اسٹالن کے بعد سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی مزدور طبقے کی آمریت اور مارکسی لیننی سائنس کے اصولوں سے پہلے کی طرح وفادار رہتی تو سوویت یونین کو تحلیل اور سوشلزم کو پسپائی کا راستہ نہ دیکھنا پڑتا۔

Shopping Revolution

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سوویت یونین میں سوشلزم کی پسپائی کے محرکات۔۔شاداب مرتضٰی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *