ہوائی اڈے سے کھیل کے میدان تک۔۔محمد اظہار الحق

1960ء کی دہائی کا وسط تھا۔ایوب خان کی بادشاہی عروج پر تھی ۔ دارالحکومت زیرِ تعمیر تھا۔ابھی وفاقی وزارتیں اور محکمے زیادہ تر راولپنڈی کی آغوش میں تھے ۔ حکومت نے  ایک رواج سا بنا لیا تھا کہ جب بھی کوئی غیر ملکی آتا سکولوں کے طلبہ و طالبات کو چک لالہ ائیر پورٹ پر لائن حاضر کیا جاتا ہے۔ ننھے ننھے ہاتھوں میں مہمان اور میزبان ملک کی جھنڈیاں  پکڑائی جاتیں ۔بچے نغمے گاتے مہمان شخصیت یہ “ویرائٹی” پروگرام چند اڑتے لمحوں کے لیے دیکھتی اور پھر لیموزین میں بیٹھ کریہ جا وہ جا ۔ واپسی پر ان بچوں اور بچیوں کو ذلت اور خواری اٹھانا پڑتی ۔ کبھی کھلے ٹرکوں میں ڈالے جاتے ، کبھی بسوں کی چھتوں پر بٹھائے جاتے’ کچھ رُلتے کچھ ٹھوکریں کھاتے۔ اس وقت عدالتیں تھیں ۔ مگر شاید”از خود”نوٹس کا کلچر نہ تھا۔پریس زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔

پھر ایک حادثہ پیش آیا،بچوں کو ہوائی اڈے لے جایا جارہا تھا یا ان کی واپسی تھی۔ کھلے ٹرک میں بیٹھےتھے۔ نہ جانے کیا ہوا۔  شاخ کسی درخت کی جھکی ہوئی تھی یا درخت سے ٹوٹ کر ایک طالب علم کے سر پر گری ۔ تفصیل یاد نہیں کالم نگار گیارہویں یا بارہویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ لڑکا ہلاک ہوگیا۔ اگر یادداشت غلطی نہیں کررہی تو  اس کے والد پروفیسر عاشق گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن میں  انگریزی کے استاد تھے ،ہماری کلاس کو نہیں پڑھاتے تھے مگر وہ ہمیشہ سفید براق قمیض اور  سفید براق پتلون زیب تن کرنے کے لیے کالج میں معروف تھے۔ کسی عدالت نے اس  ظلم، دھاندلی اور قتل کا نوٹس نہ لیاہوگا نہ پریس ہی واویلا مچا سکی ہوگی! آمریت تھی ایوب شاہی آمریت!!

اس سانحے کو نصف صدی گزر چکی ہے ۔وہ 1965ء یا 66ء تھا ۔ یا اس کے لگ بھگ ،اب نئی صدی کے سترہ سال بیت چکے۔ عدالتیں خواب استراحت کی طویل رات گزار کر بیداری کی نئی لہر پر بیٹھ چکیں ۔الیکٹرانک میڈیا کی آزادی دور افتادہ بستیوں میں ہونے والے معمولی واقعات کو بھی بریکنگ کی شکل میں ہائی لائٹ کررہی ہےاسمبلیاں  ہیں جمہوریت  ہے۔ مگر افسوس! صد افسوس! سکولوں کے بچے بچیاں اب بھی غلام زادوں  اور کنیززادیوں کی طرح ہانک کر ہوائی اڈوں پر حاضرکی جارہی ہیں ۔ یعنی؎

انجم غریب شہر تھے اب تک اسیر ہیں

سارے ضمانتوں پہ رہا کردئیے گئے!

تمام پرنٹ میڈیامیں تصویر چھپی ہے الیکٹرانک میڈیا  پر بھی دکھائی گئی ہوگی ،دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر پرنس کریم آغا خان کا استقبال ہورہا ہے۔وفاقی وزیر برائے کیڈ  تصویر میں سرجھکائے پرنس کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ساتھ سکولوں کی بچیاں  نظر آرہی ہیں۔چھ سات سال سے آٹھ نو سال تک کی عمر کی بچیاں  !ان کے ہاتھوں میں جھنڈیاں ہیں جو وہ لہرا رہی ہیں  ۔یونیفارم غالباً سرکاری سکولوں کی ہے۔ سفید  شلوار،سفید قمیض اور نیلے رنگ کا ڈوپٹہ جو وی شکل میں سینوں میں  پڑا ہے ۔  یہ بچیاں کن سکولوں سے لائی گئ ہیں؟ کیا ان کے والدین سے اجازت لی گئی ہے؟ کیا انہیں معلوم بھی ہے کہ وہ کس کے استقبال کے لیے حاضر کی گئی ہیں ؟ پرنس کریم کو اگر ریاست کے سربراہ کا پروٹوکول دیا جاتا ہے تو یہ حکومت کا اور پرنس کا معاملہ ہے۔ اس میں ان معصوم بچیوں کا کیا لینا دینا؟ پھر’آخر سرکاری سکولوں سے غریب عوام کی بچیاں ہی اس خدمت کے لیے کیوں اٹھائی اور لائی جاتی ہیں ان تعلیمی اداروں  کی بچیاں استقبال کے لیے کیوں کھڑی نہیں کی جاتیں جہاں امرا اور عمائدین کی شہزادیاں  زیور تعلیم سے آراستہ ہورہی ہیں ؟ کیا دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہوتا ہے؟

مدرسہ حفصہ کی بچیوں کے ہاتھوں میں جب لاٹھیاں پکڑا کر انہیں شاہراہ پر لایا گیا تھا تو سوال  اٹھایا گیا تھا  کہ کیا ان کے والدین  نے اس مقصد کے لیے مدرسہ والوں کے سپرد کیا تھا؟ اسی سوال کا  اطلاق یہاں بھی ہوتا ہے ۔والدین جب بچے یا بچی کو تعلیمی اداروں میں ڈالتے ہیں تو ایک خاموش معاہدہ طے پاتا ہے یہ معاہدہ ادارے کی انتظامیہ اور والدین کے درمیان ہوتا ہے اس کی رُو سے بچے یا بچی کو تعلیم و تربیت سے آراستہ  کیا جائے گا۔ والدین اس کے اخراجات برداشت کریں گے ۔اس معاہدے سے ہرگز یہ مطلب نہیں نکلتا کہ بچی کو ائیر پورٹوں پر استقبال کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ کسی مہذب ‘قانون پسند ملک میں  ایسا ہوتا بھی تو والدین سے ایک سرٹیفکیٹ پر دستخط کرائے جاتے کہ ہمیں اس استقبال پر کوئی اعتراض نہیں  اور یہ کہ ہم اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ایسے سرٹیفکیٹ میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں  کون ذمہ دار ہوگا ؟والدین ؟یا تعلیمی  ادارہ ؟

یہ تصویر اعلیٰ عدلیہ کے منصفوں  نے بھی دیکھی ہوگی۔ یہ سوالات  یقیناً ان کے بلند  فکر اذہان میں بھی  پیدا ہوئے ہوں گے۔ کیا عدالت ِ عظمیٰ  اس غلامانہ جبری رواج کو ختم کرنے کے لیے از خود نوٹس  لے گی؟

ریاست کی رِٹ یوں تو پورے ملک میں کہیں نہیں دکھائی دے رہی مگر  دارالحکومت تو بالکل ہی لاوارث بیوہ ہوچکا ہے۔ ایک نازوں پلا شہزادہ تیر اندازی کی مشق کررہا تھا۔ کوئی تیر ہدف پر تو کیا ‘اس کے نزدیک بھی نہیں جارہا تھا۔ درباری مسخرہ ساتھ تھا۔ ہدف کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا کہ محفوظ ترین جگہ یہی ہے! دارالحکومت بھی لاقانونیت کا مرکز  بن چکا ہے۔ گاڑیاں چوری ہورہی ہیں ۔ ڈاکوؤں  کے گروہ سیکٹر سیکٹر ترتیب سے مصروف کار ہیں! پلازوں ہوٹلوں مارکیٹوں کی تعمیرات ترقیاتی ادارے کے قوانین کی دھجیاں  اڑا رہی ہیں۔ کوئی غیر قانونی  منزلیں آسمان کی طرف مسلسل لے جارہاہےاور کوئی زمین پر ‘اپنی حدود کو وسیع سے وسیع تر کیے جارہا ہے۔ مگر ستم ظریفی اور بربادی کی آخری حد یہ آگئی ہے کہ قانون کے رکھوالے خود ہی قانون کے سینے میں خنجر گھونپ رہے ہیں اور  مسلسل گھونپے جارہے ہیں ۔ دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں ترقیاتی ادارے نےایک گراؤںڈ فٹ بال کے لیےمخصوص کررکھا ہے۔ مبینہ طور پر وکیل برادری اس گراؤنڈ کو قسطوں میں ہڑپ کئے جارہی ہے۔ پہلے 2013ء میں  اس پر غیر  قانونی تعمیر کرائی گئی۔ اب گراؤنڈ کے ایک حصے پر وکیل حضرات اپنے چیمبر تعمیر کرانے پر تلے ہیں ۔ وکیل دلیل یہ لاتے ہیں کہ حکومت  وکیلوں کو چیمبر  بنانے کے لیے جگہ کیوں مہیا نہیں کررہی؟ہر سال بڑی تعداد میں نئے وکیل آتے ہیں جنہیں بیٹھنے کے لیے جگہ درکار ہوتی ہے۔مگر یہ دلیل بودی ہے۔اس کا یہ مطلب کہاں سے نکلتا ہے کہ زد عوام کی سہولتوں پر پڑے اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرلیا جائے؟ترقیاتی ادارہ کتنے سالوں سے کہہ رہا ہے کہ کچہری ایف سے جی ٹین منتقل کی جائے گی! سوال یہ ہے کہ چیف کمشنر کا دفتر منتقل کرنا زیادہ ضروری تھا یا کچہری اور وکلاء کے ٹھکانے؟

کوئی ترتیب ہے نہ منصوبہ بندی ! پارکنگ کے لیے مخصوص کیے گئے مقامات پر ناجائز  دکانیں  سٹال اور کھوکھے بن چکےہیں۔

ترقیاتی ادارے  میں ایک مثبت تبدیلی ضروری ہے کہ سکہ بند نوکر شاہی کی جگہ منتخب میئر نے انتظامات کی عنان سنبھال لی ہے۔ میئر کی سیاسی وابستگی اپنی جگہ’مگر یہ ایک خوش آئند آغاز ہے۔ میئرفرشتہ نہیں ہوتا جسے عوام کے سامنے جواب دہی کا کوئی خیال ہوتا ہے نہ خوف! اسے تو اپنی اگلی تعیناتی کی فکر ہوتی ہے۔اصولی طور پر شہر کی ذمہ داری منتخب میئر کی ہی ہوتی ہےاسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کارکردگی جانچی  پرکھی ٓجائے  گی اور آئندہ انتخابات میں اسے پھر ووٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس وقت دارالحکومت کے میئر کے پاس ٹیم بھی لائق ‘مستعد اور چُست ہے،جس کی قیادت یاسر پیرزادہ جیسا دانشور بیوروکریٹ کررہا ہے۔اس ٹیم نے لائبریریوں کی تزئین نو کر کے شہریوں کی ایک جائز شکایت بحسن و خوبی دور کردی ہے۔

مگر وکیل برادری سے نمٹنا آسان نہیں !معاملے کی نوعیت جو بھی ہو ‘حکم امتناعی لے آنا وکیل برادری کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ پولیس ہو یا کسی ادارے کی قوت نافذہ وکیلوں سے سب ہی ڈرتے ہیں!

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *