عام ہو نا ایک جرم۔۔مرزا مدثر نواز

اسے سعودی عرب میں پر کشش تنخواہ کے عوض ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ ویزہ کے لیے سعودی کلچرل مشن سے تعلیمی اسناد کی تصدیق لازمی ہے اور ادارے کے مطابق بیچلر ڈگری کی تصدیق کے لیے متعلقہ یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات سے سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔ اس اعتراض کے بعد اس نے اپنی پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات میں سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواست دی۔ کنٹرولر امتحانات کا پرسنل اسسٹنٹ ایک انتہائی بدتمیز شخص واقع ہوا,جو کوئی بھی بات سننے اور کسی بھی قسم کے تعاون کے لیے تیار نہیں تھا‘ ہر عام طالبعلم و فرد کے لیے اس کا آفیسر ہر وقت انتہائی اہم میٹنگ میں ہوتا ہے۔ اس نے کسی نہ کسی طرح کنٹرولر امتحانات تک رسائی حاصل کی جو کہ اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے بھی زیادہ بد اخلاق ثابت ہوا اور کسی بھی قیمت پر سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے معذرت کی تاوقتیکہ سعودی کلچرل مشن اسے مخاطب کر کے درخواست کرے۔ اس نے بے شمار عاجزانہ درخواستیں کیں کہ سعودی کلچرل مشن ہماری بات نہیں سنتا لیکن آپ تو ہماری یونیورسٹی کے ہیں‘ آپ ہماری مدد نہیں کریں گے تو کون کرے گا‘ آپ کے ایک جائز دستخط سے میں برسرِ روزگار ہوسکتا ہوں لیکن کنٹرولر امتحانات کے پتھر دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔
؂ ذرا سابھی نہیں پگھلتا دل تیرا
اتنا قیمتی پتھر کہاں سے خریدا؟

اس کے برعکس ایک شخص پی۔اے کے پاس آیا اور اپنا تعارف ایک ریٹائرڈ سیکرٹری کے طور پر کرایا‘ پی۔اے نے اپنی نشست سے اٹھ کر سلام کیا اور اسے پروٹوکول کے ساتھ اپنے آفیسر کے پاس چھوڑ آیا جو اس وقت عام لوگوں کے لیے ایک انتہائی اہم میٹنگ میں گیا ہوا تھا۔ ریٹائرڈ سیکرٹری بمشکل دو منٹ کے بعد دستخط کروا کرخوشگوار موڈمیں کمرے سے باہر آ گیا۔یہ منظر دیکھ کر اسے عام و خاص ہو نے کا فرق معلوم ہوا۔ وہ وہاں سے اٹھا اور اپنی درخواست لے کر وائس چانسلر کے دفتر پہنچ گیا‘ پی۔اے نے اسے انتظار گاہ میں بٹھا دیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے اس نے مشاہدہ کیا کہ وی۔سی ہر خاص ملاقاتی کا خود انتظارگاہ تک آ کر استقبال کرتا ہے۔ کافی انتظار کے بعد اسے پیغام ملا کہ آپ اپنی شکایت یا مسئلہ لکھ کر پی۔اے کو دے جائیں۔ یہاں پھر خاص و عام کا فرق اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔

پاکستان جیسے ممالک کے معاشروں میں ایسے مشاہدات عام ہیں جہاں ایک عام و کمزور شہری روزانہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آخر میرا قصور کیا ہے؟ کیا یہ میرا ملک نہیں ہے؟‘ میرے کوئی حقوق نہیں ہیں؟ میرے مقدر میں کیا صرف در در کی ٹھوکریں اور رسوائی ہے؟ میرے بزرگوں اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنی جانوں اور عزتوں کے نذرانے اس لیے پیش کیے تھے کہ یہ ریاست صرف طاقتور کو تحفظ فراہم کرے اور غریب‘ نادار‘ مظلوم و کمزور کا استحصال کرے؟ اگر آپ کی نسبت کسی طاقتور ادارے کے ساتھ ہے تو جو آپ کے جی میں آئے، کریں‘ دو دفعہ آئین کو توڑیں‘ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کریں‘ ستر ہزار سے زائد افراد کی موت کی وجہ ہوں‘ لاشیں گرنے پر مکے لہرائیں‘ اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ مضبوط کریں‘ ڈالروں کے عوض اپنی قوم کی بیٹیوں کو غیروں کے حوالے کریں‘ خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو اس ملک کا سب سے بڑا وفادار و محب وطن اور دوسروں کو غداری کے لیبلوں سے نواز دیں‘ ریاست آپ کو تحفظ فراہم کرے گی اور کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا‘۔ریٹائرڈ ہو نے کے باوجود مرتے دم تک اپنے آپ کو اعلیٰ ترین خیال کریں اور اپنے نام کے ساتھ جڑے سابقوں کو برقرار رکھیں۔

قائد و اقبالؒ نے کیا ایسے ملک کا تصور دیکھا تھا جو فلاحی ریاست کی بجائے سکیورٹی ریاست بن جائے‘ جہاں مذہب کے نام پر کسی بھی بے قصور کی جان لے لی جائے‘ ہجوم ملک کی سب سے بڑی عدالت بن کر سزا صادر کر دے‘ عوام ایسے لوگوں کو لیڈر ماننا شروع ہو جائے جن کی پہچان گالی اور بد اخلاقی ہو اور معتقدین ان کے ہر جائزو ناجائز افعال کا دفاع کرنے لگ جائیں‘ بھائی کی بدکاریوں کی سزا اس کی بہن کو دی جائے‘ ایک نوجوان لڑکی کو ننگا کر کے علاقے میں گھمایا جائے اور اس پر آسماں گرے نہ زمین پھٹے‘ اپنی بہن کی عزت پر مر مٹنے والا منوں مٹی تلے چلا جائے اور قاتل فتح کا نشان بنا کر پورے سسٹم کو روندھتا ہوا آزاد ہو جائے‘ سابقہ چیئرمین سینٹ کا بیٹا سر عام ایک سرکاری ملازم کو اپنی ڈیوٹی ایماندارانہ طور پر بجا لانے کی پاداش میں تھپڑ مارے‘ قصوروار اور قتل کی مستحق کمزور بنتِ حوا کی ذات ہے نہ کہ اس کو سیدھے رستے سے بھٹکانے والا نفس و حوس کا پجاری کسی وڈیرے‘ چوہدری‘ زمیندار‘ سرمایہ دارو صنعت کار کا بدکار بیٹا‘ پولیس الٹا مقتول کے لواحقین پر مقدمہ درج کر دے‘ اگر کوئی ہمت کر کے قانونی طریقے سے اپنا حق لینے کی ٹھان لے تو اس کی آدھی زندگی گزر جائے اور جو پاس ہو سب لٹ جائے‘ علاقے کا تھا نیدار صرف بااثر افراد کے جائز و ناجائز امور کا محافظ ہو؟

اس ملک کی اساس وہ مذہب ہے جس میں خلیفہ وقت کو کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑتی ہے جبکہ اس ملک کے صدر مملکت کو استثناء حاصل ہے‘ ہمیشہ سے مقتدر ادارے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور جواب دینے سے گریزاں ہیں‘ حکومت وقت ایسے بل پاس کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ فلاں فلاں ادارہ احتساب سے بالاتر ہے۔ قصہ مختصر ‘ لکھنؤ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے خاندان سے تعلق کی دعویدار خاتون نے ایک دفعہ صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عام ہونا ایک جرم ہی نہیں بلکہ گناہ ہے۔

Shopping Revolution

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *