مجھے اب ڈر لگتا ہے

کہتے ہیں ظالم کا ظلم سہنے والا بھی ظالم ہے۔ جو انسان ظلم کہ خلاف آواز نہیں اٹھاتا وہ اصل میں ظالم کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔ مگر شاید یہ کہنا بھول گئے کہ ظلم کہ خلاف آواز اٹھاو گے تو کچلے جاؤ گے۔
کہتے ہیں حق کی سر بندی کے لیے کوشاں رہو۔ خواہ کوئی بھی حالات ہوں،حق کی راہ میں بھلائی ہے۔ مگر یہ کہنا بھول گئے کہ حق کی بات کرو گے تو خاموش کروا دیے جاؤ گے۔
کہتے ہیں سچائی ایک نعمت ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ ایک لعنت ہے۔ سچ انسان کو کبھی رسوا نہیں کرتا اور رسوائی جھوٹے کا مقدر ہے۔ مگر شاید یہ غلط کہتے ہیں۔
کہتے ہیں جمہوریت کا مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جو عوام کی مرضی سے عوام کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے قائم کی جائے مگر شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ جمہوریت کا مقصد تو صرف اور صرف عوام کو ان کہ اپنے فیصلے کے نتیجے میں ضروریاتِ زندگی تک سے محروم کرنے کا نام ہے۔
اور تو اور، کہتے ہیں مسلمان مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ مگر شاید وہ یہ بتانا بھول گئے کہ اپنے بھائی کو کافر کہنے سے کئی ایوانوں کہ دروازے کھل جاتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں۔ انھوں نے ہی آگے بڑھ کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے، مگر وہ شاید ان کو وہ علم نہیں کہ اپنے بچوں کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ آگے چل کر یہی بچے اپنے ملک کا کیا حشر کریں گے۔
میں شاید ابھی ناسمجھ ہوں۔ اپنے بڑوں سے صرف اتنا پوچھنا چاہوں گا کہ آنے والی نسل کو یہ کیا سبق دینا چاہ رہے ہیں؟ کیا کوئی یہ حالات دیکھ کر کبھی سچ کا ساتھ دے گا؟ کیا کوئی کبھی ظلم کہ خلاف آواز اٹھائے گا؟یہ کون سا اسلام ہے جس کی پیروی یہ کرتے ہیں؟ کیا اگلی نسلوں سے کوئی اس کو اپنائے گا؟ پھر یہ کیوں روشن مستقبل کی امید کرتے ہیں جب اپنا آج نہیں بہتر کرسکتے۔
مجھے اب ڈر لگتا ہے کہ شاید میں ان جیسا نہ ہو جاؤں ۔

مجھے اب ڈر لگتا ہے
سچ بات کہنے سے
مجھے اب ڈر لگتا ہے
اپنے آنے والے کل سے
کہ شاید میں بھی کہیں
ان جیسا نہ ہو جاوں
اگر ظالم کو ظالم کہ کر
میں کُچلا جاوں گا
حق کہ راستے پر چل کر
گہری نیند سلا دیا جاؤں گا
اگر سچ میں میری رسوائی ہے
جھوٹ ہی میں میری بھلائی ہے
تو میں کیونکر جھوٹ نہ بولوں؟
مجھے بھی اپنا نام کرناہے
آخر مجھے بھی کام کرنا ہے
میں کیوں ان کا مذہب اپناؤں؟
کہ جب ان کو اپنے ہی بھائی
کسی بھی آنکھ نہیں بھاتے
ہاں مجھے اب ڈر لگتا ہے
اپنے آنے والے کل سے

Shopping Revolution

Avatar
جہانزیب بٹ
کھوٹا سِکہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *