شملہ پہاڑی سے کے ٹو تک۔۔عارف انیس

آج کل موٹیویشن کی شامت آئی ہوئی ہے اور اس پر مختلف حوالوں سے حاشیہ آرائی ہوتی رہتی ہے. موٹیویشن کے ماہرین اس امر پر برسوں غور کرتے رہے ہیں کہ انسان کو کون سی چیز عمل پر اکساتی ہے اور اس میں کسی خاص کام کو کرنے کے لیے جذبہ پیدا کرتی ہے. اس حوالے سے گولڈی لاک اصول بہت معروف ہے اور اسے کافی کامیابی کے ساتھ نئی مہارتوں، عادتوں اور رویوں کے سیکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اور آپ نہ جانتے ہوئے بھی یقیناً اس اصول کو اپنی زندگی میں برت چکے ہیں اور اس حوالے سے ذاتی تجربات شیئر کرسکتے ہیں.

گولڈی لاک ایک چھوٹی بچی اور بچوں کی ایک مشہور ترین کہانی کا کردار ہے. اسے تین ریچھوں والی کہانی میں دلیہ مختلف طریقوں سے بنا کر مختلف برتنوں میں پیش کیا گیا. اسے جو دلیہ پسند آیا اور اس نے شوق سے کھایا وہ تھا جو کہ “نہ زیادہ گرم تھا، نہ زیادہ ٹھنڈا، بالکل مناسب درجہ حرارت تھا”. دو گولڈی لاک اصول کا دل یہی بات ہے “نہ زیادہ مشکل کہ ناممکن لگے، نہ اتنا آسان کہ بچوں کا کھیل ہوجائے”. نہ تو کل صبح بغیر کسی تیاری کے، کے ٹو پر چڑھنے کی ٹھان لیں کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے. اور اگر شملہ پہاڑی سر کرنے کی نیت کریں گے تو شاید صبح اٹھ ہی نہیں پائیں گے، کہ اس میں بھلا کون سی خاص بات ہے.

جب سے نیا سال آیا ہے، نیو ائیر ریزولیوشن اور گولز پر بات ہوتی رہی ہے. اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ بس تین فیصد افراد اپنے خوابوں کو تحریر میں لاتے ہیں اور پھر ان کی بھی ایک محدود تعداد انہیں سچا کرپاتی ہے. کیونکہ کچھ ایسی غلطیاں ہیں جو اس سفر پر چلنا ناممکن بنادیتی ہیں. یا تو وہ گولز اور اہداف اتنے اونچے طے ہوجاتے ہیں کہ ان تک پہنچنا ایک معجزے سے کم نہیں لگتا اور کوشش میں ہی بندہ ہانپ کر رہ جاتا ہے. یا وہ اہداف اتنے عامیانہ لگتے ہیں کہ وہ بندے کو بستر سے اٹھا نہیں پاتے. یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں اگر گولڈی لاک اصول کو اپنایا جائے. “نہ ناممکن، نہ بچوں کا کھیل، بالکل درست، بالکل وسط کا کام”. جیسے کہ ارشاد نبوی ہے کہ “بہترین کام وسط کے کام ہیں”. میں اسے وسط کا قانون کہتا ہوں، اور میرے خیال میں یہ اپنے بدلاؤ کے لیے یہ بہترین قانون ہے. دو انتہاؤں کے بیچ میں زندگی ممکن ہوجاتی ہے.

مثال کے طور پر نیا سال شروع ہوا ہے اور آپ اپنے موٹاپے کے پیچھے ڈانگ لے کر پڑ جاتے ہیں. یکم جنوری کو صبح پانچ بجے اٹھ کر پانچ میل دوڑ لگتی ہے. کھانے میں میٹھا ترک کردیا جاتا ہے. گھر میں سبزیوں اور پتوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور اعلان عام ہوجاتا ہے کہ اب ڈریم باڈی یا ڈریم فٹنس پروگرام شروع کر دیا گیا ہے اور ڈھائی ہزار کیلوریز کی بجائے اب ہزار کیلوریز استعمال ہوں گی. چارٹ بن جاتے ہیں اور مشکیں کس لی جاتی ہیں. تاہم ٪90 ایسے ارادے سات دن سے پہلے ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں.

وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ “کولڈ ٹرکی پرنسپل” کی کہانی ہے. جس کا مطلب ہے آناً فاناً ہر چیز کی چھٹی. دی گیم از اوور. آج، ابھی اور اسی وقت سے تمباکو نوشی یا شراب نوشی یا میٹھا نوشی کی چھٹی. اعدادوشمار کے مطابق ٪5 لوگ ایسا کر بھی لیتے ہیں، مگر یہ ایک انتہا ہے. نتیجتاً ٪95 ایک مہینے سے چھ مہینے کے اندر واپس اپنی ڈگر پر آجاتے ہیں اور اگلی مرتبہ پھر ایسے ہی کسی پلان کی نیت کرلیتے ہیں.

یاد رکھیں آپ کی عادتیں آپ کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہیں. ان سے نمٹنے کے لئے آپ کو روز پنجہ آزمائی کرنی پڑے گی. اگر قوت ارادی کے زور پر جنگ کریں گے تو کیسے پہلے بتایا گیا کہ ول پاور ایسا مسل نہیں جو کہ استعمال دے تگڑا ہو، بلکہ وہ کمزور ہوتا ہے. دو چار دن تو آپ ہمت کرتے ہیں اور پھر ڈھیر ہوجاتے ہیں.

گولڈی لاک اصول یہ بتاتا ہے کہ پانچ میل کی بجائے ایک میل بھاگیں. ڈھائی ہزار سے دو ہزار کیلوریز پر آئیں. چینی چھوڑیں تو پھلوں سے میٹھا کشید کرلیں. ہر روز ورزش کرنی مشکل ہے تو ہر دوسرے دن کرلیں. توانائی بحال رکھیں. تاہم اپنے کئے پر قائم ہوجائیں. چھوٹے قدم اٹھائیں، مگر روز اٹھائیں. وہی ہاتھی کھانے کا فارمولا. پورا ہاتھی کھایا جاسکتا ہے اگر بھورا بھورا روز کھلایا جائے. عادتیں اسی طرح ہمارے خودکار نظام کا حصہ بنتی ہیں، انہیں سسٹم سے نکالنے کے ان کو روز بروز تھکانا ضروری ہے.

گولڈی لاک اصول بہت سی جگہوں پر کارآمد ہے. ہماری اکثر حکومتیں اور خاص طور پر موجود حکومت اسی بحران کا شکار ہے. ایک کروڑ نوکریاں، ڈیڑھ کروڑ گھر، پانچ ہزار ارب ٹیکس میں اضافہ، منہ پر مارنے کے لیے دو سو ارب ڈالر اسی انتہائی نفسیات کی عکاسی ہیں. اس کا نقصان یہ ہے کہ جب آپ اس اونچے پہاڑ کو نہیں پھلانگ پاتے تو بالکل ڈھے جاتے ہیں. جب کہ زندگی کےٹو کی چوٹی اور شملہ پہاڑی کے درمیان میں واقع ہے. اگر آپ وسط کے اصول کو پکڑ لیں گے تو ناکام نہیں ہوں گے.

عارف انیس

مصنف کی زیر تعمیر کتاب “صبح بخیر زندگی” سے اقتباس

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *