نیشنل ڈائیلاگ کیوں ضروری ہے۔۔محمد فیصل

آج آپ کسی بھی   آدمی سے بات کریں وہ ملک کے حالات کو دیکھ کر پریشان ہی نظر آئے گا۔ آزادی ملے 70 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ہم آج تک اپنی منزل کا تعین ہی نہیں کرسکے ہیں۔ہمارے ہاں بنیادی طور پر “جس کی لاٹھی ا س کی بھینس” کانظام رائج ہے۔ ہم جمہوری ادوار میں بوٹ والوں کو یاد کرتے ہیں اور دور آمریت میں ہمیں جمہوریت سے پیار ہوجاتا ہے۔ ہمیں نہ آمر خالص ملے اور نہ عوامی لیڈر عوام کا درد رکھنے والے مل سکے۔ یہاں آمروں کو اقتدار میں آنے کے بعد جمہوریت کا دورہ پڑجاتا ہے اور وہ الیکشن الیکشن کھیلناشروع کردیتے ہیں، جبکہ ہمارے جمہوری حاکم خودکو بادشاہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ جمہوریت کوئی فائدہ پہنچا سکی اور نہ ہی ہمیں آمریت کے کوئی ثمرات مل سکے۔یہاں آپ کو ہر دوسرا آدمی نظام کو کوستا ہوا نظر آئے گا اور آپ جس سیاسی رہنما کو دیکھیں گے وہ نظام کی تبدیلی کی بات کررہا ہوگا, لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کون سا نظام ہیں ؟

ایک مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہوں۔ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان پر حکمرانی کرنے والا جمہوری لیڈر ہے یا اس نے بزور طاقت اقتدارحاصل کیاہے۔ ان کو اپنے مسائل کے حل سے دلچسپی ہوتی ہے۔آپ یہاں بے شک فلسفہ جھاڑ لیں کہ اس اکیسویں صدی میں جمہوری نظام سے ہٹ کر کوئی بات کرنا آپ کی تاریک سو چ کی عکاس ہے لیکن ان دانشوروں کو یہ بات کون سمجھائے گا کہ اس اکیسویں صدی میں بھی اس پیٹ کو روٹی کی ضرورت ہے اور یہ روٹی اب اس کو جمہوری نظام دےیا کوئی بادشاہت وہ اس کے لیے قابل قبول ہوگا۔ اس اکیسویں صدی میں بھی آپ محض جمہوریت کا نام لے کر کسی کا پیٹ نہیں بھرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی کا تن ڈھانپ سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے لوگ بھی اپنے گھر کی دہلیز پر انصاف چاہتے ہیں۔
آخر ہمارے ساتھ مسئلہ کیاہے ؟ہم آج تک وہ قیادت کیوں نہیں پیدا کرسکے ہیں ،جو کسی ملک کے نظام کومکمل طور پر تبدیل کرنے پر قادرہو۔ آپ نواز شریف، آصف زردای اور عمران خان کوتنقید کا نشانہ بنائیں یا پھر ایوب ، ضیاء اور مشرف کو کوسیں آپ کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ سمت کا درست تعین نہ ہونے کے باعث ہم جان ہی نہیں سکے ہیں کہ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ہمارے بچوں نے اردو میڈیم میں پڑھنا ہے یاانگلش میڈیم میں یا پھر ان کو دینی مدارس کی راہ دکھانی ہے؟ہمارا قومی بیانیہ کیاہوگا ؟ہمیں ایک مضبوط وفاق کی ضرورت ہے یا پھر ہمیں صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینی ہوگی؟ ہم تو آج تک اس بات کا بھی تعین نہیں کرسکے ہیں ہمارا دوست کون ہے اور ہمارا دشمن کون ہے ؟اور کیا یہ بھی سب سے تلخ حقیقت نہیں ہے کہ ہم آج تک خود کو ایک قوم کی شکل میں نہیں ڈھال سکے ہیں اورسب سے خطرناک بات وہ فرقہ وارانہ تفریق ہے جو آج باقاعدہ نفرت میں تبدیل ہوچکی ہے اور بدقسمتی سے یہ نفرت اتنی شدید ہے کہ جو ہمیں ایک دوسرے کی جان لینے سے بھی نہیں روکتی ۔
قوموں کی زندگی میں ستر برس کچھ نہیں ہوتے ۔ بظاہر آج ہمیں ہر طرف اندھیرا نظر آتا ہے لیکن ہم اگرآج بھی اپنی درست سمت کا تعین کرلیں تو باقی مسائل حل ہونے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اس وقت ملک کو ایک نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ،جس میں سیاستدان، جنرلز،ججز،بیوروکریٹس،علماکرام ،صحافی سب ہی شامل ہوں۔ہمیں اب، این آر او نہیں دوں گا اور سلیکٹڈ اور سلیکٹر کی گردان چھوڑنی ہوگی اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ وقت آگیا ہے کہ اس ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر آئیں اور ایک جامع ڈائیلاگ کا آغاز ہو اور پھر اس کی روشنی میں ترجیحات طے کی جائیں اور متفقہ فیصلہ کیا جائے کہ ملک کو کس ڈگر پر چلانا ہے۔ اگر ہم نے اس میں مزیدتاخیر کی تو ہمیں اس کا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *