• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کے 72سالہ اُتار چڑھاؤ کے اعداد و شماراور موجودہ صورتحال۔۔اعظم معراج

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کے 72سالہ اُتار چڑھاؤ کے اعداد و شماراور موجودہ صورتحال۔۔اعظم معراج

دی کنسلٹنٹ
پاکستان مین رئیل اسٹیٹ کی ابتداء باقاعدہ پیشے اور مارکیٹ کے طور پر کراچی سے ہوئی۔ کراچی میں پاکستان بننے سے پہلے بھی ایک اسٹیٹ ایجنسی کے وجود کا پتہ چلتا ہے اور یہ اسٹیٹ ایجنسی اولڈ کراچی یعنی بندر روڈ پر واقع تھی۔ اولڈ کراچی میں پرانا روایتی سیٹھ بلڈنگ بناتا تھا اورپگڑی پر لوگوں کو بیچتا تھا۔ کبھی کبھار ہی کوئی پلاٹ بکتا تھا جو کہ پہلے سینکڑوں یا ہزاروں پر پھر کبھی کبھار کوئی لاکھوں میں بکتا تھا۔ پھر جب 50کی دہائی میں سندھی مسلم سوسائٹی، پی ای سی ایچ ایس، نرسری اور طارق روڈ کے علاقے آباد ہونے شروع ہوئے تو پھر کراچی میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا وجود پنپنے لگا۔ پچاس کی دہائی کے آخری سالوں میں ڈیفنس سوسائٹی بنی اور 60کی دہائی میں ڈیفنس کے پلاٹوں میں کام بڑھا لیکن زمین کے ریٹ پھر بھی نہایت کم تھے۔ روپوں میں زمین آلاٹ ہونا شروع ہوئی اور سینکڑوں میں بکتی۔ جب ڈیفنس سوسائٹی میں 60کی دہائی میں پلاٹوں کی خرید و فروخت شروع ہوئی تو بھی زمینوں کے ریٹ روپوں اور سینکڑوں میں ہی تھے۔ الاٹمنٹ سینکڑوں میں ہوتی اور پلاٹوں کی خرید و فروخت ہزاروں میں ہوتی۔ ہاں! یہ ضرور ہوا کہ جیسے جیسے یہ مارکیٹ بنتی گئی تو زمین جائیداد کی خوبیاں لوگوں پر کھلتی گئیں۔ گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت بڑھی اور کراچی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے یہ ہی رجحانات پورے ملک میں پھیلتے گئے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کے ضلع جنوبی کے سندھی مسلم، ڈیفنس اور کلفٹن کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پورے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی نرسری ہے اور یہ مارکیٹ جو باقاعدہ طور پر1960ء کی وسطی دہائی میں شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ پاکستانی معیشت کا اہم جز بنتی گئی۔ آج زمین جائیداد کا کاروبار اتنی ترقی کر گیا ہے کہ اگر زمین کا ایک ٹکڑا چاہے رہائشی مقصد کے لئے خریدا یا بیچا جاتا ہے یا کمرشل مقصد کے لئے اور جب اس پر تعمیر شروع ہوتی ہے تو تقریباً 48سے 50تک صنعتوں انڈسٹریز کا پہیہ گھومتا ہے۔(یہ علیحدہ بات ہے کہ غیر پیداوار مقصد کے لئے صرف تیزی مندی کرنے والے ٹریڈرز بھی اس بات کا ریفرنس دیتے ہیں جبکہ 48یا 50انڈسٹریز صرف پلاٹ پر تعمیرات شروع ہونے سے چلتی ہیں نہ کہ پلاٹ چند کاغذات کی صورت میں مختلف ہاتھوں میں گھومنے سے)

شروع کی مارکیٹ کے اُتار چڑھاؤ کے اعداد و شمار دستیاب نہیں لیکن 70کے اوائل سے مختلف سینئر اسٹیٹ ایجنٹس حضرات سے حاصل کردہ اعداد و شمار چارٹ کی صورت میں پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ مین نئے آنے والے لوگوں کے کام آسکے اور اگر کوئی اس تحقیق کو اپنے کسی استعمال میں لائے اور اس انڈسٹری میں پیشہ ورانہ رجحانات کی حوصلہ افزائی ہو۔
1970ء سے 1974ء تک رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بالکل نارمل طریقے سے آہستہ آہستہ بڑھتی رہی پھر جب 1973ء یا 1974ء میں بھٹو صاحب نے ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی تو اس مارکیٹ میں تیزی آئی جو پھر 1977ء تک بڑھتی رہی یعنی 1974ء سے 1977ء تک تقریباً 4سال مارکیٹ میں مسلسل تیزی رہی، پھر یہ مارکیٹ ڈیفنس میں سیلاب کی تباہی اور ملک میں الیکشن کے بعد ہنگامے شروع ہونے کی وجہ سے رُکی اور پھر یہ مندی کا رُجحان 1977ء سے لیکر 1982ء تک قائم رہا۔ جب مارشل حکومت آہستہ آہستہ مستحکم ہوتی گئی اور افغان جنگ کی بدولت پوری دُنیا سے پیسہ اور عالمی طاقتوں کی پاکستانی حکومت کو سپورٹ اور حکمران طبقے اور ہر طرح کی اشرافیہ کی ہر طرح کی کرپشن سے چشم پوشی کی وجہ سے یہ مارکیٹ 1982ء سے 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کا جہاز کریش ہونے تک مسلسل بڑھتی رہی۔ ضیاء الحق کے کریش کے بعد غیر یقینی صورت احوال اور پچھلے 7سالہ تیزی کے بعد 1988ء سے 1992ء تک 4سال مسلسل مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور 1992ء سے لیکر 1994ء تک معمولی بہتری لیکن مجموعی طور پر مندی کا رجحان بھی رہا۔ پھر 1994ء سے 1997ء تک کے 4سال تیزی رہی اور یہ تیزی 1997ء میں ختم ہوئی۔ لیکن اب کی بار بظاہر بہانہ بارشیں اور بجلی کے بندش بنی۔ 1997ءمیں شروع ہونے والی مندی ستمبر 2001ء تک قائم رہی۔ 2001ء میں 9/11کے واقع کے بعد مارکیٹ نے اس سے پہلے کی سب تیزیوں کے ریکارڈ توڑ دےئے اور مارچ 2005ء تک قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں۔ اور ایسی بڑھیں کے پاکستانی رئیل اسٹیٹ کے 1947ء سے لیکر 2001ء تک کی 54سالہ تاریخ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور اوپن پلاٹ میں ٹریڈنگ کا رجحان ایسا بڑھا کہ سفید پوش، نوکری پیشہ اور عام پاکستانی کے لئے پوش علاقوں کے علاوہ درمیانے درجہ کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بھی چھت کا تصور محال ہوگیااور 90ء کی دہائی کے آخر اور 2000ء کے شروع میں جوکوئی پاکستانی پاکستان کے کسی بھی شہر کے مناسب رہائشی علاقے میں یا خاص کر کراچی کے ساحلی علاقوں میں پلاٹ لینے سے کسی بھی وجہ سے چُک گیا وہ تقریباً اس کھیل سے باہر ہوگیا۔ 2005ء میں ایک بار پھر مندی کا دور شروع ہوا اور یہ دور جون 2010تک جاری رہا۔ اس مندی کے رجحان کی بڑی وجہ ماہرین رئیل اسٹیٹ قیمتوں کا بہت زیادہ بڑھ جاتا بتاتے ہیں۔ جولائی 2010ء میں مارکیٹ نے آہستہ آہستہ پھر سے بہتری کے طرف سفر شروع کیا اور 2012کے آخر میں اس سفر میں تیزی آئی جو نومبر 2015ء تک جاری رہی۔ اب جو مارکیٹ رُکی اُس کی وجہ بھی اوور پرائزنگ (Over Pricing)یعنی قیمتوں کا بہت بڑھ جانا ٹھہری۔ تیزی کا یہ دور بھی تقریباً 5سال پر محیط ہے۔

نومبر 2015ء کو معمولی سی رکاوٹ کے بعدرئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے پچھلے 8/9سال کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔7جون کو وفاقی حکومت نے بجٹ میں فنانس بل 2001ء میں ترمیم منظور کروائی جو کہ 28جون 2016 کو اخباروں کے ذریعے منظر عام پر آئیں تو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شارٹ ٹرم سرمایہ کاری اور اس کاروبار سے وابستہ افراد میں کہرام مچ گیا کیونکہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو بائی پاس کرتے ہوئے آئیندہ سے زمین جائیداد کی سرکاری قیمت یعنی ڈی۔ سی ریٹ کو منڈی کی مارکیٹ کے برابر لانے کا عندیہ دیااور یہ عندیہ بغیر کسی میکنزم اور باقاعدہ ہوم ورک کے دیا جبکہ وفاق میں 12سال اور کئی صوبوں میں،6سال بعد زمین کے سرکاری ریٹ کو یک لخت مارکیٹ ریٹ پر لانے کی کوشش کی لیکن پھر وفاقی حکومت اور اسٹیٹ ایجنٹوں کی انجمنیں، تعمیرات کے شعبوں سے وابستہ افراد کے دس روزہ مذاکرات سے منڈی کی قیمت اور سرکاری قیمت کا 90سے 95فیصدفرق تھا۔ اسکو تقریباً 80/20 یعنی20فیصدسفیدی مائل سرمئی معیشت اور ڈاکومینٹڈ اور باقی 80فیصدسیاہی مائل ان ڈاکوینٹڈ پر اتفاق ہو گیا۔ لیکن قلیل المیاد سرمایہ کاری جسکو لوگ سٹّہ بازی اور کسادبازاری بھی کہتے ہیں، کہ پچھلے تقریباً 6سال سے بلکہ 9/11فیکٹر کے بعدسے اور اسکے بعدُ شترِ بے مہار جمہوریت کے اثرات و ثمرات چند سو یا چند ہزار گھرانوں نے دیکھے ہیں ان دونوں دورانیوں کے فیکٹر پاکستان کے ہر بزنس اسکول میں اور پالیسی میکر اداروں کے زیر نگرانی چلنے والے تعلیمی اداروں میں زیر بحث لانے چاہئیں یعنی 2001ء سے 2005ء نائن الیون فیکٹر اور اس کے بعد جولائی 2010ء سے 28جون 2016ء تک کا جمہوری ترقی اور خوشحالی کا سنہرا دور جس میں رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ میں شارٹ ٹرم ٹریڈنگ نے پاکستان کی معیشت میں ایسے اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں جس کے ثمرات پاکستان کی آنے والی نسلیں (چند انجوائے کریں گی اور زیادہ بھگتیں گی) اسکی وجہ سے اب اس شارٹ ٹرم انویسٹمنٹ یا سٹّے بازی کی منڈی جو کہ بنیادی طور پر معاشی دہشت گردوں کی تباہ کاریوں کی بدولت پیدا ہوئی ہے اور اس میں منافع کی شرح بہت ہی زیادہ ہونے کی وجہ سے سفید پوش بزنس مینوں نے بھی اپنی صنعتوں اور دوسرے کاموں سے اپنے اَن ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ اور اَن ڈاکومنٹڈ سرمائے نکال کر اس منڈی میں لگا دےئے ہیں ۔ اس دوران حیران کن اور دلچسپ صورتحال یہ سامنے آئی کہ اس ساری کساد بازاری اور شارٹ ٹرم غیرپیداواری سرمایہ کاری کے چھ سالہ دور میں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت نے اپنی لاپرواہی یا جانتے بوجھتے ان آسمان سے چھوتی زمین جائیداد کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کچھ نہ سوچا کہ جس سے زمین جائیداد کی قیمتیں عام پاکستانی کی پہنچ میں رہیں اور اس ضمن میں آسان ترین کام جو صوبائی اور وفاقی حکومت کرسکتی تھی یعنی ہر سال ڈی سی ریٹ کو ہر سال بڑھانے کا سادہ سا کام بھی انجام نہ دیا۔ لہٰذا اس وجہ سے بہت سارا ڈاکومنٹڈ اور رجسٹرڈ سفید معیشت کا سرمایہ بھی اس اَن ڈاکومنٹڈ اور سرمئی مائل سیاہ معیشت کا حصہ بن گیا شائید اسی لئے اب فیڈریشن ،چیمبر اور آباد کے نمائندے بھی اسکی مخالفت کر رہے ہیں۔(جوکہ پہلے اس بات سے پریشان تھے کہ پیداواری صنعتوں سے پیسہ نکل کر پلاٹوں کی ٹریڈنگ کے غیر پیداواری کام میں جارہا ہے اب شائید ایسے افراد کے پیسے اس منڈی میں پھنس گئے ہیں) اب کسی طور پر 20% ڈاکومنٹڈاکانومی پر بھی وقتی طور پر تو تیار نہیں کیونکہ معاشی دہشت گردوں کے پیسے کی کھپت کی وجہ سے سفید پوش معززین کا سرمایہ بھی جمع تفریق نہیں بلکہ ضرب ہو رہا تھا اور ہر منٹ اور ہر گھنٹے ہو رہا تھا۔لہٰذا 28جون2016 کے بعد سے پورے پاکستان کی مارکیٹ میں جمود طاری ہوا۔ یہ جمود مختلف اتار چڑھاؤ کے ساتھ آج تک طاری ہے۔مثلا کبھی کوئی اچھی (رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے نقطئہ نظر سے)

یا مزید بری خبر آجاتی، جیسے مفتاح اساعیل نے بائے بیک کا شوشا چھوڑا ،کے اگر آپ مارکیٹ پرائس سے کم پر زمین جائیداد کے سودوں کی لکھت پڑھت کریں گے، تو حکومت آپ کو اس قیمت سے زیادہ دے کر واپس خرید لے گی۔لیکن پھر کچھہ عرصے بعد زمین جائیداد کے کاروبار سے وابسطہ افراد کی انجمنوں اور حکومتی اداروں کے مزاکرات سے جولائی دو ہزار اٹھارہ میں (جولائی 2018) میں ڈیبلو 236معتارف کروایا گیا، یعنی ایف بی آر ویلیو اور صوبائی حکومتوں کی قیمتوں کے فرق پر تین فیصد کی شرح سے ایمنسٹی متعارف کروائی گئی۔جس سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کچھ لین دین شروع ہوا۔ لیکن پھر فروری دو ہزار انیس میں پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے ایف بی آر ویلیو میں بیس فیصد سے ایک سو بیس فیصد اضافہ کردیا۔اور مزید ایسے اقدامات کیئے کہ صوبائی حکومتوں کے زمین جائیداد کے مقرر کردہ ریٹ غیر متعلق ہوگئے۔ گو کہ یہ قوانینِ متعارف کروانے سے پہلے حکومت نے ایک ایمنسٹی بھی متعارف کروائی کہ لوگ اپنے اثاثے ڈیڑھ فیصد ٹیکس دے کر ظاہر کر لیں۔لیکن اس ایمنسٹی میں بہت کم لوگوں نے اپنے اثاثہ جات کو مارکیٹ ریٹ پر ظاہر کیا۔ اور جس نے اثاثے ظاہر بھی کئیے، ایف بی آر کے سرکاری ریٹ پر کئے۔ جو کہ ابھی بھی بہت سی جگہوں پر تو مارکیٹ پرائس کے قریب ہیں۔لیکن ملک بھر میں بہت سے جگہوں پر مارکیٹ پرائس سے بہت کم ہیں۔ساتھ ہی حکومت نے گین ٹیکس کا قانون نافذ کیا ۔جس سے ایک نئےبحران نے جنم لیا،وبحران یہ ہے، کہ ا اگر کسی نے ایمنسٹی کی سولہت سے فائدہ نہیں اٹھایا تو اب وہ کوئی زمین جائیداد پلاٹ آٹھ سال کے اندر اور تعمیر شدہ جائیداد چار سال کے اندر بیچتا ھے ۔ تو گین ٹیکس کی بھاری شرح جو نفح کے پانچ فیصد سے شروع ہو کر بیس پچیس فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اور کئی کیسز میں ٹیکس ہی کروڑوں میں پہنچ جاتا ہے۔ جس سے حکومت جو کہ برملا اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ ہم نے زمین جائیداد میں سرمایہ کاری کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ وہ بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کر پارہی ھے۔ کیونکہ پاکستانی سرمایہ کاروں کی ٹیکس نہ دینے کی نفسیات کی بدولت اب پچھلی تین دہائیوں میں اس کسادبازاری کےکاروبارمیں لگا سرمایہ بھی وہی مجمند ہوگیا ہے۔ اور اس کاروبار سے منسلک افراد کی انجمنیں کہتی ہیں۔کہ حکومت اس کاروبار میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، اور اس شبعے میں ٹریڈنگ کےلئے نئے سرمائے کی آمد کی راہیں ہموار کرے۔جبکہ حکومت اس کی حوصلہ شکنی کے درپے ہے۔اور اپنے اس نقطہء نظر پر ڈٹی ہوئی ہے ۔لیکن اس کے پاس اس کاروبار میں لگے سرمائے کو یہاں سے نکالنے کی بھی کوئی مناسب بلکہ غیر مناسب حکمتِ عملی بھی نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جمود کتنی دیر رہتا ہے ۔ گو کہ یہ پانچ سالہ راؤنڈ جون دو ہزار بیس جون 2020 میں اپنا یہ سرکل مکمل کرلے گا۔لیکن بظاہر جہاں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے یہ 13 راؤنڈ کے اعداد و شمار تقریباً ایک جیسے لگتے ہیں لیکن گزرتے وقتوں کے مقابلے میں قومی اور بین الاقوامی معاشی ترقی اور جغرافیائی حالات بہت بدل چکے ہیں اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ رُجحانات اور پاکستان خاص طور پر کراچی کے بڑھتی ہوئی آبادی اور زمین کی کمیابی، زمین جائیداد کے کاروبار میں معاشی دہشت گردوں اور سفید پوش کاروباری حضرات کے اَن ٹیکس اَن ڈاکومنٹڈ غیر رجسٹرڈ سرمائے کی بدولت پلاٹوں کی غیرپیداواری ٹریڈنگ پاکستان کے بدلتے ہوئے طرز معاشرت اور اس انڈسٹری سے وابستہ افراد کے پیشہ وارانہ روّیوں میں بھی زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اپنے پچھلے72 سالہ رحجانات بلعموم اور 45سالہ رُجحانات بلخصوص (Trend)کو برقرار رکھے گی (یا) اوپر بیان کئے گئے عوامل کی بدولت اس دفعہ کچھ فرق روش اختیار کرے گی۔ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ بہانہ چاہے کوئی بھی بنا ہو لیکن شاید مندی کی خاص وجہ ہمیشہ قیمتوں کا بے تحاشہ بڑھ جاناہی رہاہے اور 72 سال میں سے تقریباً 45سال مارکیٹ نے ایک ہی طرح کا رویہ رکھا ہے۔ یعنی ان تیزی مندیوں کے 13راؤنڈز میں مارکیٹ نے ایک ہی طرح کا رویہ رکھا ہے۔ ہر مندی کے نقط انتہا کی شروع سے پھر نقطہ تیزی کی انتہا تقریباً ساڑھے چار سے پانچ سال کے عرصے پرمحیط ہوتی ہے اور قیمتوں کے بڑھنے کا تناسب آباد علاقوں میں چار سے پانچ گنا اور غیر آباد علاقوں میں تقریباً دس گنا ہوتا ہے، پھر جب مندی کا دور شروع ہوتا ہے تو واپس قیمتیں گرنے کا تناسب آباد علاقوں میں ایک آدھ گنا اور غیر آباد علاقوں میں پانچ گنا (یا) جتنی قیمتیں بڑھی ہوتی ہیں اُن کا 50%فیصد گر جاتی ہیں۔ پچھلے 45سال کا رئیل اسٹیٹ کا یہ رجحان اس دفعہ قائم رہنا بظاہرمشکل لگتا ہے کیونکہ اوپر بیان کئے گئے عوامل کی بدولت زمین جائیداد کے بنیادی عناصر گو کہ وہ ہی ہیں لیکن دیگر بے تحاشہ عناصر اور عوامل تبدیل ہو چکے ہیں۔ لہٰذا دیکھئے اس دفعہ مارکیٹ کیا رویہ اپناتی ہے اور رئیل اسٹیٹ منڈی کی طاقتیں (Market Forces)رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔کیونکہ جہاں بہت سارے عشاریے مثلآ بڑھتی ہوئی آبادی۔اورتقریبا ایک کروڑ گھروں کی قلت ،بدلتے کاروباری رحجانات، طرز، رہاش میں تبدیلیاں، دنیا کا سمٹ کر عالمی گاؤں بننا ، ملکی سطح پر کروڑوں رہائشی یونٹوں کی کمی۔پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور رقبے میں تناسب کے غیر معمولی فرق، سی پیک پراجیکٹ، ٹورازم پر حکومتی زور و دیگر ایسے کئی عوامل انتحائی مثبت ہیں۔ لیکن معروضی حالات کے پیش نظر پچھلے پنتالیس سالوں کے مقابلے میں پہلی دففہ معاشی دہشتگردی پر بین الاقوامی طاقتوں کے سخت موقف کی بدولت مثلآ ،ایف اے ٹی ایف ( فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) جیسے اقدامات حکومت کے میشعت کو رجسٹرڈ کرنے کے اقدامات اور برملا اس بات کا اظہار کہ ہم نے اس منڈی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ کیوں کہ اس منڈی میں ٹریڈنگ سے دیگر پیداواری صنعتوں میں سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ٹیکس کلچر نہ ہونا، لوگوں کا رجسٹرڈ میشعت سے ڈرنا اور طرز کوہن پر اڑنے کی روش اور رویے۔ حکومت کا بغیر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے اتنے بڑے معاشی انقلاب کی بڑھکیں۔اور بہت ہی طاقتور لوگوں پر معاشی بدعنوانیوں پر مقدمات اور آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کی پچھ پرتیت اس طرح کے دیگر کئی عوامل کو کو اس کاروبار سے منسلک افراد اور انجمنوں نے اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے۔ان بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی بجائے محاز آرائی میں اپنا وقت اور توانائیاں ضائع کر رھے ہیںِ۔ لہذہ ایک شدید جمود اور مندی کا رحجان زمین جائیداد کے کاروبار پر طاری ہے

اس جمود میں تین طرح کی رائے سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ تو پچھلے 72 سالہ مندی، تیزی کے رجحانات کو بنیاد بنا کر وہی چار سالہ مندی کا عندیہ دے رہے ہیں،ان کا خیال ہے کہ سرکار چاہے اپنے اقدامات واپس بھی لے لے پھر بھی یہ مارکیٹ ابھی فوراً نہیں چلے گی۔ کیونکہ مارکیٹ کو ہر تیزی کے بعد ایک بہانہ چاہئے ہوتا ہے اور یہ بڑا ہی غیرمعمولی قسم کا بہانہ ہے۔لگتا ایسا ہے اس دففہ کیونکہ بہانہ کیونکہ غیر معمولی ہے اور اسے لئے مارکیٹ کا ردعمل بھی غیر معمولی رھے گا۔ اور اگر حکومت اپنے موقف پر ڈٹی رہی تو اب ٹریڈنگ کے وہ تیزی مندی کے رحجان شائد کبھی نہ آئیں۔ جبکہ دوسرے قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پلاٹوں کی یہ ٹریڈنگ اب ایک اسٹاک طرز کی منڈی بن گئی ہے لہٰذا یہ اب لمبی مندی نہیں ہوگی۔ اور ذرا سی کوریکشن کے بعد یہ منڈی پھر مستحکم ہوجائے گی ۔ تیسری قسم کی رائے ان لوگوں کی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر حکومت یہ اقدامات مثلاً نیب کو ختم کردے۔ زمین جائیداد کی سرکاری قیمتوں کو مارکیٹ پرائس سے ملک بھر میں پانچ فیصد سے نہ بڑھنے دے،اور ایسے دیگر اقدامات واپس لے لے جس سے سرمائے کی بابت پوچھ گچھ کا اندیشہ اور”میرا پیسہ کہاں سے آیا تمہیں  کیا۔”کے آ زاد معاشی ڈاکٹرائن کو پروان چڑھانے پر ہی رھے۔تو یہ تیزی تقریباً ہزار سال چلے گی اور تقریباً ہزار میل فی گھنٹے کے حساب سے چلے گی۔ انھوں نے کیونکہ شدید تیزی کی توقعات لگا رکھی ہیں لہٰذا ان کے رد عمل بھی شدید بلکہ شدید تر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تینوں طرح کی رائے رکھنے والوں میں سے کن لوگوں کی توقعات پوری ہوتی۔ ہیں ۔ سب لوگوں کی رائے کی اپنی اہمیت ہے لیکن اگر تاریخ اورڈیٹا بیس ریسرچ(تحقیق) کی بنیاد اور حکومت کی اس سیکٹرکی حوصلہ شکنی کی پالیسی اور اس منڈی میں سرمائے کی آمد کو روکنے کی پالیسی (بظاہر چاہے حکومت کہتی رہے لیکن انکے 28جون 2016 سے پہلے اور فوری بعد کے بیان اور اقدامات اور پھر موجودہ حکومت کے اس سے بھی بڑھ کر بغیر کسی طویل المدتی منصوبہ بندی کے زمین جائیداد کی خرید وفروخت میں ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کو دیکھنے سے لگتا ہے ۔
کہ وہی ہوگا جو پچھلے خصوصاً 45سال ہوتا رہا ہے۔بلکہ اگر حکومت نے معیشت کو سفید ڈاکومنٹ کرنے کی پالیسی کو جاری رکھا تو یہ مندی اور بھی لمبی یا بدتر ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر اس پیشے سے وابستہ افراد ان حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور زمین جائیداد میں سرمایہ کاری کو کسادبازاری کی نیت کی بجائے اسے ایسی بنیادی ضروریات زندگی سمجھتے ہوئے، جس کی پاکستان میں شدید قلت ھے اور گاھک زیادہ ہیں،سرمایہ کاری کریں یا کروائیں اوراسے ایک بطور خدماتی پیشے کے لیں تو شائد موقعیں پہلے سے زیادہ پیدا ہونے جارہے ہیںِ۔ دیکھئے اب اس ان ٹیکس ، ان ڈاکومنٹڈ سرمائے کو حکومت کی سفید معیشت کے دھارے میں لانے کی کوشش کتنی کامیاب رہتی ہے اور اس منڈی کے رجحانات پر کیا منفی کیا مثبت رجحانات مرتب کرتی ہے۔ لیکن ایک چیز طے ہے چیزیں نہ چاہتے ہوئے بھی شفافیت کی طرف جارہی ہیںِ۔ اور اسی معاشی ماحول میں زندہ رہنا اور کاروبار کرنا ہے۔ بس اس کا ادراک جتنی جلدی کوئی کرلے وہ ہی اچھا۔

اوپر بیان کئے گئے سارے اعداد و شمار عام اور ایوریج پلاٹس کے بارے میں ہیں کیونکہ کئی کیسزمیں اچھے محل وقوع کے کمرشل پلاٹ تو ہزارہا گنا بھی بڑھے ہیں۔ اگر مخصوص علاقوں کے بارے میں ریسرچ کی جائے تو اس طرح کے اعداد و شمار بھی سامنے لائے جا سکتے ہیں ۔ یہ تمام اعداد و شمار گو کہ کراچی کےصرف ایک حصے کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے بارے میں ہیں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے اسی علاقے سے جنم لیا ہے اور باقاعدہ ایک سروس انڈسٹری (غیر سرکاری طور پر) کی شکل اختیار کرنے کے بعد ایک ٹریڈنگ منڈی بنی۔اور پھر یہ اسی مارکیٹ سے یہ رحجان پورے ملک میں پھیلا۔ لہٰذا کسی نہ کسی طرح مارکیٹ کے یہ اُتار چڑھاؤ کسی حد تک پاکستان کی پوری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
(نوٹ: یہ تمام اعداد و شمار سینئر اسٹیٹ ایجنٹس ساتھیوں کی مدد سے تیار کئے گئے ہیں.پھر بھی اگر کوئی اپنی رائے یا اس بارے کچھ حقاُیق کے شئیر کرنا چاہے تو۔ضرور اپنی رائے سے نوازیں۔

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *