غزل پلس(9)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چل آ، آنندؔ، کر خود احتسابی
ترے بھی لڑکھڑائے ہیں قدم کیا؟
ہزاروں گُم ہوئے دشت سخن میں
تری بھی رک گئی نوک ِ قلم کیا؟

(ق)
جو کچھ میں لکھ چکا ہوں،لکھ چکا ہوں
یہ رزق ِ شعر ہے اب بیش و کم کیا
کہ نوے سال کا تو ہو گیا ہوں
کروں سُود و زیاں اب میں رقم کیا

(ق)
اشارے اور کنائے چھُپ گئے ہیں
لکھوں میں اس سے بڑھ کر اور کم کیا
کہ وصل القدر ہے ایطائے جلی
علیحٰدہ کیا، دگر کیا ، اور بہم کیا

(ق)
فقیری میں ہے صبر و شکر باقی ِ
لٹا گھر بار میرا ، تو الم کیا
مرِگ چھالہ ٭ ہی تھا میرا اثاثہ
اگر لُٹ بھی گیا تو اس کاغم کیا

(ق)
پیاسی کھیتیاں ، بنجر زمینیں
مرے سائے میں آیئں خشک و نم کیا
میں ابر ِ بے ریا تھا، کھل کے برسا
سبھی سیراب کر دیں، بیش و کم کیا

(ق)
قیامت کے نشاں سب ہیں ہویدا
فقط اک ہیروشیما کا الم کیا
سوا نیزے پہ آتا ہی نہیں ہے
یہ سورج لے گا اب لاکھوں جنم کیا؟

نہ ہو طوفاں کی وسطی آنکھ آنندؔ
ہوا ہے اشک کا طوفان کم کیا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرگ چھالہ۔ ہرن کی چھال کا بنا ہوا۔
سنیاسیوں کا آسن، ۔۔۔ِمرگ بمعنی آہو، ہرن۔

Shopping Revolution

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *