جنگل میں اداسی کی کیفیت۔۔ظریف بلوچ

کئی روز کے وقفے کے بعد میں جنگل کے عین وسط میں موجود تھا، جنگل میں اُداسی کی کیفیت تھی، پرندے اور جانور مجھے دیکھتے ہی مجھ سے کہیں دور بھاگنے لگے ، بلبل کے  سُریلے  گیت میرے  کانوں سے ٹکرا رہے  تھے ، اور نہ ہی چڑیوں کی  آواز، ، ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ مجھے شیر بھی نظر نہیں آیا جو روز دھاڑیں مارتے ہوئے میرے قریب آتا تھا۔  فاختائیں اور کبوتر بھی خاموش تھے۔میں پرندوں اور جانوروں کو اس حالت میں دیکھ کر کافی اداس ہوا، اور چلتے چلتے جنگل کے آخری کونے پر  پا پہنچا، جہاں جنگل کی  پرانی جھیل بھی خشک نظر آئی۔حالانکہ چند ہفتے پہلے بارش ہوئی تھی۔

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا اور حسرت بھری نگاہوں سے جنگل کے ماحول کو دیکھنے لگا کہ یہ تو وہی جنگل ہے جہاں قدم رکھتے ہی چرند پرند  مجھ پر پھول نچھاور کرتے تھے اور میرے ارد گرد جمع ہوکر جنگل کے ماحول پر تبصرہ کرتے تھے۔ سب پرندے اور جانور خوشی اور غم کے موقع پر ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیاں بانٹتے تھے، آج کیوں ہر طرف اداسی ہے اور چرند   پرند مجھ سے کیوں دور جارہے ہیں۔

جب جنگل میں مجھے کوئی اپنا نظر نہیں آیا تو میں جنگل سے نکلتا  گیا،  کچھ فاصلے پر میرے  قدموں نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔

قہقہوں کی آواز سے  جنگل کی خاموشی کو تاراج کررہی تھی، جنگل کے تمام چرند پرند ایک کونے پر بیٹھے  تھے۔

لومڑی جنگل کے تخت پر بیٹھی  ہوئی  برانڈڈ وسکی پی رہی تھی، اور شیر لومڑی کے سامنے ایک بھکاری کی طرح بیٹھا ہوا تھا اور مور بحالت مجبوری ناچ رہا تھا۔ بلبل اور فاختہ نے مجھے دیکھتے ہی اپنا منہ دوسری  جانب پھیر لیا،اور شیر نے بھی نہ چاہتے ہوئے مجھے یہاں سے کوسوں دور جانے کو کہا۔

اسی اثناء میں  شراب کے  نشے میں دھت لومڑی نے رعب جماتے ہوئے مجھے کہا کہ نکل جاؤ یہاں سے! اب اس جنگل میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ اب اس جنگل کا بادشاہ میں ہوں اور یہاں میرے حکم کے بغیر کوئی پرندہ پَر  نہیں مارسکتا ہے اور جانور بھی میرے  حکم کے ماتحت ہیں۔اب میں جنگل  میں اداسی کی کیفیت سمجھ چکا تھا اور یہ سنتے ہی میں بوجھل قدموں کے ساتھ جنگل سے واپس نکل گیا اور شہر خموشاں کا رخ کیا، جہاں ایک قبر کے سرہانے بیٹھ کر اپنے آپ سے گفتگو کرتا رہا۔کیونکہ جب جنگل اور شہر میں کوئی مجھے سُننے والا نہ بچے تو میں انہی قبروں کے سرہانے بیٹھ کر من ہلکا کرتا ہوں ۔

Shopping Revolution

Avatar