گڈانی کی ایک شام۔۔زرک میر

سردیاں تخلیقات ، فضولیات ، واہیات اور مباشریات کی ماں ہوتی ہیں ۔ اس موسم میں بھی کام ہوتے  ہیں  اور وہ بھی بڑے بڑے ، شادی شدہ اس موسم میں انسانی بقاء کے عظیم کام کو سرانجام دینے میں سرتاپا کوشاں ہوتے ہیں، جو احسان عظیم کرتے ہیں جبکہ مجھ جیسا شخص کچھ بھی خرافات لکھنے میں اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتا ہے ، گویا ایک کرونا کا  سیزن اور ایک سردیوں کے سیزن کا ایسا موقع ہاتھ آیا ہے کہ باہر جانے کو دل ہی نہیں کرتا اورمیرے پاس اندر کوئی آتا/آتی نہیں، تب ہی خودساختہ قید میں ہوں اورمیرا قیدخانہ بھی گڈانی کے  ساحل پر کھڑا ایک خستہ بحری جہاز کا ایک لگژری کمرہ ہے، چونکہ کشتی کے ٹوٹنے میں تین دن باقی ہیں تو فی الحال اپنی جاگیر میں رہ رہا ہوں ،نوابوں کی طرح ۔ کمرے میں فرانس کی شراب کی بوتلیں ، بیلجیم کے بیئرز اور کیوبن سگار بھی رکھے ہوئے ہیں ،ان کی خوشبو ایسی ہے  کہ میری نس نس میں بس جائے ۔ بوتلیں اپنے پاس رکھ کراور کیوبن سگار سلگا کر بالوں کو بے ترتیب اور شیو بڑی رکھ کرلیپ ٹاپ پر لکھنے کی یوں کوشش کررہا ہوں کہ بس سارے جہاں کا غم  ہمارے جگر میں ہے ۔

کبھی کبھی سمندر کی لہریں جہاز سے ٹکرا کر آواز پیدا کرتی ہیں ،جس سے میں ان کی ہلکی سی آواز محسوس کرسکتا ہوں ،جو مجھے باہر کی دنیا کے  حالات سے باخبررکھ رہے ہیں ، کہ دنیا موج میں ہے ، اس کمرے میں بڑے بڑے آئینے لگے ہوئے ہیں جن میں کبھی کبھی دھیان اس طرف جاتا ہے تو اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں ،تو لگتا ہے کہ شیتل مجھے  دیکھ رہی ہے اور میری اس حالت پراپنے  نازک سرخ ہونٹوں کو اپنے دانتوں میں دبا کر بے انتہاء غصے کا اظہار کررہی ہے ،جو کبھی میری شیو خود بنانے کی کوشش کرتی اور ایک بار تو نیند میں شیونگ مشین چلانے لگی تھی ، میں نے چھیڑنے کی خاطر کہا ” تم میری جان لینا چاہتی ہو ” بس اس دن کے بعد شیونگ کا سامان تو تیار رکھتی ہے ، لیکن خود کبھی آگے نہیں بڑھی ، میں اپنے اس مزاحیہ جملے کی قیمت بہت بڑے نقصان کی صورت میں چکارہا ہوں ۔۔

اب بھی یہ سطریں لکھتے ہوئے میں اس کو شدت کیساتھ یاد کررہا ہوں ،جب میں اسے ایسے ہی کسی بحری جہاز میں لے آیا تھا، جو ٹوٹنے کے لیے  ساحل پر کھڑا تھا ۔ وہ فورا ً بولی ” آؤ  ٹائی ٹینک والا سین کرتے ہیں ” میں اسے ایسے کسی لگژری کمرے میں لانا چاہتا تھا، تاکہ اسے کسی ایسے آئینے کے سامنے کھڑا  کرکے اس کو باہوں میں لے سکوں، لیکن وہ مجھ سے زیادہ رومینٹک نکلی ، وہ اپنی مہک پورے سمندر میں گھولنا چاہتی تھی ۔ یوں ہم آخری منزل پر پہنچے، اسے اس قدر جلدی تھی کہ وہ اپنی قیمض کا اگلہ سرا ہاتھ میں پکڑے مجھ سے آگے نکل کر سیڑھیاں چڑھنے لگی اور بالکل ٹاپ پر جاکر اپنا رخ اس نے سمندر کی جانب کردیا اور باہیں پھیلا دیں ۔سمندر کی نمی ہم پر یوں برس رہی تھی جیسے  سمندر ہمارا شاندار استقبال کررہاہو ۔ پھر ہم کافی دیر تک باہم مدغم رہے ۔

جب میں اسے آئینہ لگے کمرے میں لایا تو آہستہ سے کہا “اب ٹائی ٹینک کا برہنہ پینٹنگ والا سین کرتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی ” سمندر میں جال ڈال کر مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں اور تم مجھے یہاں جال ڈال کر پکڑ کر لائے ۔ میں نے اسے دبوچ لیا اور کہا ” لیکن مچھلی کو شکار کرکے اس کی زندگی اس سے چھینی جاتی ہے میں تو تمہیں شکار کرکے “مہر” کی مزید سانسیں دینا چاہتا ہوں ، آؤ  تم مجھے “مہر” کی سانسیں دو اورمیں تمہیں دوں ۔ پھر ایک بڑے آئینے کی طرف رخ کرکے اس کو باہوں میں لیا ۔وہ مجھے آئینے  میں غور سے دیکھنے لگی اور کہا ” شیو بنالو  تب ۔ میں نے کہا”اُف!  اب یہ کیا بہانہ ہے ، اپنی خوبصورت بڑی آنکھوں کو   ٹیڑھا   کرکے  کہنے لگی ” تم مجھے چومتے ہو تو تمہارے بال مجھے چبھتے ہیں اور مجھے تمہارے علاوہ کوئی اور چھوئے مجھے یہ بات بُری لگتی ہے ، میں نے کہا وہ بھی تو میرے جسم کا حصہ ہیں تو کہنے لگی ” تم انہیں کبھی تو کاٹ کر پھینک دوگے کیا مجھے چھوئی ہوئی چیزوں کو یوں بے قدر کرنا چاہتے ہو تم ۔ میں نے کہا ” ارے تم عورتوں میں پہلی فلاسفر ہو ورنہ تو عورتیں اس انتہاء کی باتیں کہاں سمجھ سکتی ہیں، تو فورا ً کہنے لگی ” پتہ ہے تم مرد محبت کو کیوں فلسفہ قرار نہیں دیتے ہو، کہ اس میں ہم عورتوں کی اتھارٹی ہے جبکہ تم مرد خشک موضوعات کو فلسفہ مان کر محبت کو پرے دھکیل چکے ہو، پھر کہتے ہو کوئی عورت فلاسفر کیوں نہیں ۔ لیکن محبت ہی عظیم فلسفہ اور فلسفے کی ماں ہے اور مائیں عورتیں ہوتی ہیں مرد اس نعمت سے محروم ہے اور اس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ مرد کبھی ماں نہیں بن سکتا ۔

میں نے اسے دوبارہ دبوچا اور کہا ” تم مجھے فلسفے شلسفے میں الجھا کر بچنا چاہتی ہو ، کہنے لگی ” مہر پانے سے کون بدبخت بچنا چاہتی ہے ، تم میری کھوکھ اپنی مہر سے بھر دو ، کہ میرا جسم سمندر کی نمی کی  بوندوں سے تر ہوچکا ہے ۔

ابھی جب میں آئینہ دیکھنے لگا تو وہ مجھے باربار شیو کرنے کیلئے اشارے کررہی ہے ، میں شیو کرنے اٹھ رہا ہوں ۔
واش روم میں برٹش شیونگ کمپنی Truefitt & Hill کے پروڈکٹس رکھے ہوئے ہیں ۔
مجھےتیار رہنا چاہیے ،کیونکہ کشتی سے ٹکرانے والی لہریں کسی کے آنے کا سندیسہ دے رہی ہیں!

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *