• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریاست مدینہ اور ریاست پاکستان(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔حافظہ عائشہ احمد

ریاست مدینہ اور ریاست پاکستان(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔حافظہ عائشہ احمد

امیر اور غریب میں حقیقی مساوات
ریا ست مدینہ میں قرآن مجید اور قرآن و سنت کے قوا نین کا نفاذانسانیت کے لیے بہت بڑی رحمت تھی یہ مثالی ریاست قیامت تک انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے رول ماڈل ہے مدینہ کی اسلامی ریاست میں ہر ایک پر قانون نافذ ہوتا ہے امیر اور غریب، بڑے اور چھوٹے، سب کے لیے منصفانہ قانون نے انسانیت کا احترام بحال کیا۔

سیرت صحابہ پر معروف مورخ ابن الاثیر الجزری نے ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے جنگ بدر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کی صف بندی فرمائی صف بندی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفوں کا   معائنہ کیا آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی آپ نے دیکھا کہ سواد بن غزیہ صف سے با ہر نکلے ہو ئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں صف میں سیدھے کھڑے ہو نے کا بھی حکم دیا اور لکڑی سے ان کے پیٹ پر ٹھو نکا بھی لگا یا۔سواد نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعا لی نے آپ کو حق و عدل کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے مجھے آپ کا بدلہ ( ْقصاص ) دیں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لکڑی سواد کی طرف بڑ ھا دی اور فرمایا : لو بدلہ لو۔ انھو ں نے عرض کیا میرا پیٹ تو ننگا تھا اور آپ کے پیٹ مبارک پر آپ کا کرتہ ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کر تہ مبارک اپنے بطن سے اٹھا دیا۔ سواد آگے بڑھے لکڑی ایک جا نب پھینکی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن مبارک کو بوسہ دیا اور پھر آپ سے لپٹ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا سواد تم نے کیا کیا ہے ؟ انھو ں نے جواب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کہ آپ دیکھ ر ہے ہیں کو چ کا وقت آیا چا ہتا ہے۔ میں نے چا ہا کہ جا نے سے پہلے آخری عمل آپ کو بو سہ دینا اور آخری لمس جسد مطہر سے چھو نا نصیب ہو جا ئے، سو میں نے یہ تمنا پوری کر لی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس جذبہ صادق اور خلو ص عمل کو دیکھ کر ان کے حق میں دعا ئے خیر فرمائی۔

معا شی پا لیسی
اسلام نے ہر شعبہ زندگی کی طرح معیشت کی پا لیسی بھی بہت وا ضح انداز میں بیان کی ہے، اللہ تعا لی نے فرمایا:

مَآ اَفَآءَ اﷲُ عَلٰی رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَةًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْط وَمَآ اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاج وَاتَّقُوا اﷲَط اِنَّ اﷲَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ.

’’جو (اَموالِ فَے) اللہ نے (قُرَیظہ، نَضِیر، فِدَک، خَیبر، عُرَینہ سمیت دیگر بغیر جنگ کے مفتوحہ) بستیوں والوں سے (نکال کر) اپنے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لیے ہیں اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں (یعنی بنو ہاشم اور بنو عبد المطّلب) کے لیے اور (معاشرے کے عام) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہیں (یہ نظامِ تقسیم اس لیے ہے) تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مالداروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے) اور جو کچھ رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم و عطا پر کبھی زبانِ طعن نہ کھولو)، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘

(الحشر، 59: 7)

المیہ(اختصاریہ)۔۔علی نواز بنگڑ

دولت کی گردش اور عوام تک پہنچنا معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ر کھتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اسلامی ریا ست کی معا شی پا لیسی یہ ہے کہ امراء  سے پیسہ لیا جا ئے اور غربا ء کو دیا جائے، اسی طر ح سو د، رشوت، جوا، چور با زاری، ذخیرہ اندوزی اور دیگر غیر اخلا قی ذرا ئع آمدن مکمل طور پر ممنو ع قرار دے دیے گئے تھے۔ اسلامی معیشت میں ان چیزوں کی گنجا ئش نہیں۔ حکو متی کارندے اپنے منصب پر رہتے ہو ئے تحفے بھی و صول نہیں کر سکتے تھے۔ یہ تحفے بیت المال میں جمع ہو تے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اغنیاء اور فقرا کے درمیا ن دولت کی تقسیم کے حوالے سے جواصول متعارف کرایا اسی کی بنیا د پر مدینہ میں فلا حی ریا ست کا تصور پروان چڑھا۔

اسلامی ثقافت اور عزت کی حفا طت
مدینہ کی اسلامی ریا ست کی ثقافت اور اسکا کلچر، بے حیائی، عریا نی اور رقص و سرور سے مکمل پا ک تھا۔ مردو زن کی مخلو ط محفلیں اور راگ رنگ، شراب نو شی اور نشے کی ہر صورت حرام اور قابل تعزیر جرم تھی۔ شراب پینا ہی جرم نہیں تھا بلکہ شراب بنانا، اس کا فروخت کرنا، اسے لاد کر لے جا نا اور اسے بطور تحفہ کسی غیر مسلم کو دینا سبھی حرام تھا۔ زنا اور بدکاری کے جرم پر قرآن و سنت کے مطابق غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سو کو ڑے ما رے جاتے اور شادی شدہ بدکاری کے مرتکب مرد و عورت کو سنگسار کر نے کی حدود جا ری ہو تی تھیں۔ خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا اور مرد و عورت کو غص بصر (نظریں جھکانے)کا پا بند بنایا گیا۔ یہ احکا م قران میں نازل ہو ئے ہیں۔

یٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّـاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّط ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَـلَا یُؤْذَیْنَط وَکَانَ اﷲُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا.

’’اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

(الاحزاب، 33: 59)

جا نوروں کے حقو ق کا خیال
انسان تو انسان ہیں،اشرف المخلوقات ان کا اعزاز ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توانسانوں کے علاوہ جانوروں کے بھی حقوق بیان فرمائے۔ ان تعلیمات کا یہ اثر تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : اگر دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو مجھ سے اس کا حساب لیاجائے گا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی معروف ہے:اگر کسی راستے کے غیر ہموار ہونے کی وجہ سے باربرداری کا کوئی خچر ٹھوکر کھا کر گرا اور زخمی ہوگیا تو عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا بھی حساب لیاجائے گا۔۔۔ یہ تھا احساس ذمہ داری، جس نے مدینہ کی ریاست کو اسلامی اور فلاحی ہونے کے ساتھ جدید ترین ریاست ہونے کا شرف بھی بخشا۔ راستے بنانے اور ان کو ٹھیک رکھنے کا باقاعدہ شعبہ قائم کردیا گیا۔

اسلامی فلاحی ریاست کا تصور
ریاست کا اسلامی تصور کیا ہے اسلام نے ریا ست کے لئے کون سا لفظ استعمال کیا ہے۔ اسلام نے اپنے اصولوں پر قائم شدہ سیا سی تنظیم کے لئے سیا ست یا ریا ست یا حکو مت کی اصطلا حیں استعمال نہیں کی ہیں بلکہ خلافت یا اما مت کی اصطلا ح اختیا ر کی ہے اس لئے اسلامی ریا ست کو اسلامی تصور واضح کرنے کے لئے ان اصطلاحات کا جا ننا بہت ضروری ہے۔

خلافت کی اصطلا ح اسلامی اصولوں پر قائم جدا ایک ریاست کے لئے استعمال ہوئی ہے اور امامت سے مراد وہ گورنمنٹ ہوتی جو خلافت کے ارادوں کی تنقیذ کرتی اور اس کے منصوبوں کو عملی جا مہ پہنا تی ہے۔ دوسرے الفا ط میں ان میں فرق یو ں ہو گا جو فرقstate اور Government کے درمیا ن ہے وہ ہی فرق امامت اور خلا فت کے درمیا ن ہے۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اسلام میں ریاست محض ایک ریا ست نہیں ہے بلکہ وہ خلافت ہے۔

اسلامی حکو مت کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو ایک نظم و نسق کے مطا بق چلا یا جائے، عوام کے لئے معاشی وسائل فراہم کئے، امن و امان قائم کیا جائے اور ملک کی سرحدوں کی حفاطت کی جا ئے، بلکہ اسلامی ر یاست کا بنیا دی مقصد بھلائیو ں کی ترویج اور برائیوں کا سدباب ہے:

جیسے فرمان الہی ہے:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَ ِﷲِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ.

’’(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘

(الحج، 22: 41)

اس آیت مبارکہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ اسلامی ریاست نہ تو سیکولر ہوتی ہے اور نہ ہی محدود مذہبی تصور پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا اللہ پر محکم ایمان ہوتا ہے۔ نظام عبادت کی پابندی اور نفاذ کے ساتھ اس کا سب سے اہم کام معاشرے میں نیکی کا فروغ اور برائی کا خاتمہ ہے۔ اسلامی حکومت ایک ایسا ماحول فراہم کرتی ہے جس میں ہر شخص کے لیے حلال طریقوں کے مطابق زندگی گزارنا آسان اور حرام طریقوں کو اختیار کرنا مشکل تر ہوتا ہے۔ کوئی شہری برائی کو قوت اور ہتھیاروں کے ساتھ ختم نہیں کرسکتا، یہ ریاست کے دائرہ اختیار اور فرائض منصبی میں شامل ہے۔ خود ریاست بھی قانون کی قوت سے برائی کو ختم کرتی ہے اگر حکومت یہ کام چھوڑ دے تو پھر پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیکی کے فروغ اور برائی کے خاتمے کے لیے اجتماعی جدوجہد کرے۔ امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے خیرامت قرار دیا ہے۔ اس کا فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ امربالمعروف یعنی نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکنا، امت مسلمہ کی شناخت اور امتیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ.

اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

(آلِ عمران، 3: 110)

پوری امت اگر غفلت کا شکار ہوجائے، جیسا کہ دورِ انحطاط میں ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے کچھ مخلص بندے تو ایسے ہونے چاہییں جو اس کام کا بیڑہ اٹھائیں۔ ارشاد باری ہے:

وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ واُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.

تم میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔

(آلِ عمران، 3: 104)

ریاست مدینہ اور ریاست پاکستان( حصّہ اوّل )۔۔حافظہ عائشہ احمد

مدینہ کی اسلامی ریاست نے وجود میں آنے کے بعد قرآنی حکم کے عین مطابق نظام صلوٰۃ وزکوٰۃ کے ساتھ اپنے پورے قانونی نظام کے تحت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی اہتمام کیا۔ جس معاشرے میں ہر جانب برائی اور ظلم وزیادتی، فحاشی وعریانی اور بدکاری، شراب نوشی اور قمار، سودخوری اور لوٹ مار کا دور دورہ تھا وہ معاشرہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ اب وہاں ہر کارِ خیر فروغ پارہا تھا اور ہر برائی دم توڑ چکی تھی۔نہ سود اور ڈاکہ،نہ شراب نوشی اور فحاشی،ہر جانب عفت وعصمت اور نیکی و خیر کا فروغ۔ مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک بندہ مومن کی عقیدت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے نظام کے مطابق ڈھال دے۔ سب سے زیادہ ذمہ داری مقتدر طبقات اور ذمہ داران حکومت پر ہے۔

یَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ.

اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت)کیا کرو۔

(ص، 38: 26)

غرض یہ اسلام کے نظام سیا ست میں حکو مت کا بنیادی مقصد احکام خداوندی کی تقلید، عدل قائم کر نا، ظلم کو روکنا، بھلا ئیوں کو رواج دینا اور برا ئیوں کو مٹانا ہے۔

پا کستان نظریاتی اسلامی فلاحی مملکت
ریاست مدینہ کے بعد پاکستان وہ پہلی ریاست ہے جو اسلامی نظریے کی بنیا د پر معرض وجود میں آئی۔قیام پاکستان کی تحریک کے دوران جب قائد اعظم سے پاکستان کی قانون سازی کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے چودہ سو سال قبل ہو چکی ہے۔ قائد اعظم کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے وجود میں آنے والی یہ نظریاتی ریاست اب ریاست مدینہ کی عملی تصویر ہوگی۔ لیکن آج اسلامی جمہوریہ پاکستان پر جاگیرداروں، سرمایہ داروں، چوروں کا قبضہ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست پاکستان کو بھی ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی مملکت بنایا جائے تاکہ قیام پاکستان کا مقصد پورا ہوسکے۔ مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر اس مملکت خداداد کو اسی طرز پر ڈھالنے کے لئے جس سنجیدہ کوشش کے کرنے کی ضرورت ہے وہ ناپید ہےاور ریاست پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہونے کے بجاۓ مزید اندھیروں کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔

Shopping Revolution

Avatar