ہو نئیں جاندا، کرنا پیندا اے۔۔عارف انیس

ہوں، بھائی کے بال وال تو خود بخود بڑھ آتے ہیں. ناخن، شاخن بھی اپنے آپ ہی بڑے ہوجاتے ہیں. پودے شودے بھی، پانی شانی اور اور روشنی ووشنی اچھی ہو تو پھلنے پھولنے لگتے ہیں. سال شال بھی مہینہ، مہینہ، ہفتہ در ہفتہ اگلے سالوں میں نمو پاجاتے ہیں، پر بھائی، ایک چیز پھر بھی خود بخود نہیں ہونے کی.
سوچ کے اوپر بال وپر خود بخود نہیں آنے کا بھائی. اپنے اندر کو اجاگر کرنے کے لیے کھاد دینی پڑتی، گوڈی کرنی پڑتی ہے، اپنے آپ کو آرے سے خود کاٹ کر جھاڑ جھنکار سے جان چھڑانی پڑتی ہے، اور یہ سب کچھ کرتے وقت پسینے پسین ہونا پڑتا ہے، بعض اوقات تو خونم خون بھی ہونا پڑتاہے. اپنے آپ پر کلہاڑی چلانا, ہتھوڑا برسانا بڑا ظالم کام ہے. یہ خود بخود ہونے کا نہیں بھائی.
جس طرح روشنی پودوں کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہے، تیرے لئے سب سے ضروری ایک چیز ہے اور وہ ہے نیت. سوچنا پڑے گا کہ کیا چاہتے ہو؟ کس سمت میں جانا چاہ رہے ہو؟ اور وہاں پہنچنے کے لیے کون سا رستہ، کون سی پگڈنڈی لے کر جائے گی؟
لیکن بھائی، صرف نیت کافی نہیں ہے. اس نیت کو عمل میں بدلنا پڑے گا. یو ہیو ٹو واک ہور ٹاک. یہ سائیکل رکشہ خود کھینچنا پڑے گا. یہ ہل خود چلانا پڑے گا. اور یہ کل، پرسوں یا اگلے مہینے نہیں ہوگا، بلکہ آج، ابھی اور اسی وقت کرنا ہوگا، بھائی! ہر نئے سال کے موقع پر صرف نیو ائیر ریزولوشن لکھنے سے بات نہیں بنے گی. گول لکھنے نہیں پڑتے، جینے پڑتے ہیں. گول اپنے اوپر بتانے پڑتے ہیں اور جن پر وہ بیت جائیں، وہ پہلے سے نہیں رہتے.
واک اور ٹاک، خواب اور حقیقت کے درمیان میں ایک دلدل ہے جہاں مسافر پھنس جاتا ہے. وہی داستانوں والا کوہ ندا جس میں سے گزرنے والا مسافر پیچھے دیکھتا اور پتھر کا ہوجاتا ہے. زندگی کی وادی میں سے گزرتا مسافر بھی کسی ایسے لمحے کے انتظار میں رہتا ہے جب اس نے جینا شروع کرنا ہے. جب اس کے پاس بوری بھر پیسے اور وقت جمع ہوجائیں گے، مگر کبھی پیسے اور کبھی وقت نہیں ہوتا، یہی سمے کی کہانی ہے، اسے اسی وقت جینا پڑتا ہے.
بھائی،تم بھی کہتے ہوگے کہ اپنی نمو پر کام کرنا اتنا ہی شاندار ہے تو ہم سب اس رستے پر کیوں نہیں چلتے؟ اس لئے کہ یہ رستہ بھول بھلیوں سے اٹا پڑا ہوتا ہے، ندیوں میں خونخوار مگر مچھ تیرتے ہیں اور جنگل میں گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھیڑیے کوکتے ہیں. اور انہی تاریکیوں میں اپنے خواب کی دم پکڑے پکڑے، غوطے کھاتے، تیرنا پڑتا ہے. اور سب سے بڑھ کر اپنے سب سے بڑے خوف کے ساتھ ایک ہی بستر پر سونا پڑتا ہے.
یہی نہیں بھائی، اپنی جان کی ذمہ داری خود اٹھانی پڑتی ہے. سارا الزام اپنے سر لینا پڑتا ہے. انگلی بس اپنی طرف ہی اٹھانی پڑتی ہے. ضرب اپنے ہی دل پر لگانی پڑتی ہے. آنکھوں کو آہن پوش اور خون جگر کو برفاب کرنا پڑتا ہے. اب ایسی بھی کیا زندگی کہ اپنی بربادی کا دوش کسی اور کو نہ دیا جاسکے؟
تو بھائی، پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے اندر سے جڑیں نکالنا، پھلنا پھولنا جان جوکھوں کا کام ہے. اور یہ ایک مشکل کام ہے. اور اس میں بار بار قدم پھسلتے ہیں، ٹخنے وخنے ٹوٹتے ہیں. اور بھائی، مصیبت یہ ہے کہ پھر کھڑا بھی انہی ٹوٹے پھوٹے پاؤں پر ہونا پڑتا ہے.
تو بھائی، اگر یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اگر بسم اللہ کرنی ہے، آغاز کرنا ہے تو آج ہی کرنا ہوگا. کل کس نے دیکھا ہے؟ ہوسکتا ہے صبح جلد اٹھنا مشکل ہو، جیب خالی ہو، اور ہوسکتا ہے دل بس صوفے پر بیٹھ کر بس وہی نیٹ فلیکس کی پوری سیریز دیکھنے کا کرتا ہو. پر بھائی، من ہی تو مارنا ہے. راستہ مشکل نہیں، مشکل ہی راستہ ہے. اپنے حصے کی پش آپس خود کرنی پڑیں گی. اپنے ڈنڈ خود نکالنے ہوں گے. یہی قانون قدرت ہے. اور بہترین وقت
ابھی اسی وقت ہے.
موٹیویشن کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ قدم اٹھانے سے آتی ہے، اس سے پہلے نہیں. یہ سوچنے سے نہیں، کرنے سے آتی ہے. جب سانس کی دھونکنی چلتی ہے. جسم سے پسینہ چھوٹتا ہے اور پٹھے کڑکڑانے لگتے ہیں. پھر اپنا آپ، اپنے اوپر کھلتا ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں. جب فلم چلتی ہے اور وہ سارے کرنے کے کام جو پچھلے دس سال میں ہم نے کتنے تھے، وہ ساری چوٹیاں جو ہم نے سر کرنی تھیں، ہماری آنکھوں میں طعنہ مارتی ہیں اور ہم اپنے آپ کو سستی کے ہاتھوں، عادتوں کے ہاتھوں، چینی کے ہاتھوں، خوراک کے ہاتھوں ہارنا دیکھتے ہیں، تو یہی وقت ہے، جب ہم نے اپنا نیزہ اٹھانا ہے اور اپنے خوف کی آنکھوں میں پلکیں جھکائے بغیر جھانکنا ہے بھائی!
2021 ہو یا 2022، یہ سب کشٹ تو کاٹنا پڑے گا بھائی، یہ بدبخت خود نہیں ہونے کا!!!
تو کب کر رہا ہے بھائی؟؟؟
ہو نئیں جاندا، کرنا پیندا اے
عشق سمندر ترنا پیندا اے
سُکھ لئی دُکھ وی جھلنا پیندا اے
حق دی خاطر لڑنا پیندا اے
جیون لئی مرنا پیندا اے

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *