سیاست سے محبوبیت کا سفر۔۔انعام الحق

سیاسی اتحاد بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن سیاسی حلیف سے سیاسی لوگ قربت   بھی ضرورت کی رکھتے ہیں۔  مولانا فضل الرحمان اس وقت پاکستان کے وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے دل جیتے، پارلیمانی طور پر چھوٹی جماعت کی سربراہی کرنے کے باوجود پاکستان کا موجودہ سیاسی نقشہ مولانا کے بغیر ادھورا ہی نہیں بلکہ لایعنی سمجھاجاتا ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے مولانا سیاسی بازی لے گئے ہیں ، مولانا کا اس وقت پارلیمانی کوئی سٹیٹس نہیں لیکن پارلیمان کے کسی بھی اہم فیصلہ میں مولانا کی مخالفت کا سامنا  کرنے کی کوئی بھی  سکت نہیں رکھتا۔

پنجاب میں شہباز شریف کے دور حکومت میں حقوق نسواں کے نام پر ایک بل پاس کیا گیا جس پر مذہبی حلقوں سمیت مولانا کو شرعی طور پر شدید تحفظات تھے اور پنجاب اسمبلی میں مولانا کی جماعت JUIکی ایک بھی سیٹ نہیں تھی، لیکن مولانا نے ایسی تنقید کی کہ شہباز حکومت اس پر ترامیم  کرنے پر مجبور ہوگئی ،اس دوران مولانا نے پریس ٹاک میں شہباز شریف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کبھی تو خادم اعلیٰ  کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے خادم اعلیٰ  کو اپنی زوجہ کا خادم اعلی ٰ قرار دیا اور کبھی یہ کہتے ہیں مجھے تو اس بل کے بعد پنجاب کے مظلوم شوہروں کے لئے بھی تحریک چلانی پڑے گی ۔بہرحال مولانا نے ہنسی مذاق میں شہباز حکومت پر ایسے تنقید کے نشتر چلائے کہ شہباز شریف نے ہاتھ جوڑ کر سرنڈر ہونے میں ہی عافیت جانی۔

2013سے قبل مولانا کی ن لیگ سے سیاسی رفاقت نہ ہونے کے برابر رہی ہے مولانا ہمیشہ پی پی پی کے سیاسی حلیف رہے۔ 2013میں جب نواز حکومت قائم ہوئی تو مولانا کے ن لیگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی، لیکن ن لیگ نے مولانا کو دل سے قبول نہیں کیا ،نواز شریف ان کو کابینہ میں حصہ دیتے تو پارٹی مخالفت کا سامنا کرتے بالخصوص اسحاق ڈار ہمیشہ JUIکے وزرا کے خلاف صف آرا رہتے اور نواز شریف کی  باتوں  سے ان کے فیصلے تبدیل کرواتے یا فیصلوں کو التوا کا شکار کردیتے ،یہاں تک کہ مولانا کی جماعت کے متعدد لوگ نواز حکومت میں طویل عرصہ تک بے محکمانہ وزیر رہے ،پھر جب عمران خان کا ہاتھ نواز حکومت کے گریبان پر آیا، تو نوازشریف کی خوش قسمتی تھی کہ خیبرپختونخوا حکومت مولانا کا سیاسی بائی پاس کرکے PTI کو دینے کیوجہ سے عمران خان مولانا فضل الرحمان کا بھی سخت سیاسی حریف تھا، مولانا سیاسی مناسب وقت اور سیاسی قوت کی تلاش میں تھے ،جوں ہی سیاسی حالات موافق دیکھے، تو مولانا فضل الرحمان عمران خان پر چڑھ دوڑے ن لیگ بھی مولانا کے ساتھ تھی اور عمران کے دھرنے سے ہوا نکالنے والے دوشخص تھے ،ایک جاوید ہاشمی اور دوسرے مولانا فضل الرحمان ۔۔جوں ہی مولانا سینہ تان کر عمران خان کے مقابلے میں اُترے تو نوازشریف کی آنکھوں کا تارا بن گئے، وہ محبتیں بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچیں  کہ PDM کی سربراہی کا تاج بھی نوازشریف نے مولانا کے سر پر سجایا اور مولانا نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ وہی PDM کی سربراہی کے مستحق بھی تھے، اب تو ن لیگ اور مولانا کی قربت اس حد تک ہوگئی ہے جو محبوبیت میں بدل چکی ہے، مولنا نے سیاسی ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے جبر سے سیاسی رہنماؤں کو ایسے بچایا ہے کہ جیسے ایک ماں اپنے بچوں کو بچاتی ہے اور ہر مشکل وقت میں بچوں کے آگے کھڑی ہوجاتی  ہے۔اپنی بانہوں میں چھپاتی ہے کہ بچے ڈر نہ جائیں ان کو تکلیف نہ پہنچے۔ ایسے ہی مولانا نیب کے ڈر اور خوف سے ان کو بچانے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کے داماد اور مریم نواز کے شوہر کپٹن صفدر مریم نواز کی موجودگی میں ایسے بے خود ہوئے کہ وہ مولانا کے ہاتھوں کو چومنے اور آنکھوں  اور دل سے لگانے پر مجبور ہوگئے ۔وہ  تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں ،واقعتاً مولانا ایک عظیم مفکر،مدبر ،سیاست دان،قاری قرآن ،وسیع النظر،وسیع الفکر،حاضر جواب،خطیب بے مثال،تاریخ دان ،جری،بہادراور ایسی منفرد شخصیت کے مالک انسان ہیں جن سے قریب ہونے والا شخص قریب سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ بشرطیکہ کہ وہ شیرانی جیسا بے مروت اور لالچی شخص نہ ہو ،اسکے باوجود یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مولانا ایک تاریخ ساز شخصیت ہونے کے ساتھ انسان ہونے کے ناطے غلطی بھی کرسکتے  ہیں ، اس لئے غلطی انسان کی کمزوری اور خاصہ ہے، معصوم عن الخطا ہونا انبیاء کرام کا خاصہ ہے جس کے ساتھ کسی اور کو متصف کرنا شرعاً درست نہیں۔

بہرحال میں اس بات پر شادماں ہوں ،خوشی سے نہال ہوں ،مولانا جوکچھ بھی ہیں  لیکن مولانا مدارس کی خدمات  کا ایک چڑھتا سورج ہیں ، چمکتا چودہویں کا چاند ہیں ، جس کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی سے مذہبی حلقے مستفید ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مولانا جیسی تاریخ ساز شخصیت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

Shopping Revolution

Avatar