روشنائی اور اودھ۔۔عاصم کلیار

کسی کے مرنے کے فوراً بعد لکھی جانے والی تحریریں بالعموم جذباتی نوعیت کی ہوتی ہیں جن میں گزر جانے والوں کی صرف خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ فاروقی صاحب اردو ادب میں تخلیق و تنقید کے حوالے سے ایک قد آور شخصیت کے مالک تھے میر صاحب اور داستانوں کے حوالے سے وہ کئی  برس کام کرتے رہے اس حوالے سے ان کا کئی  جلدوں پر مشتمل کام پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ہم تو متن پڑھنے کے قابل بھی نہیں ،ان علمی کاموں کو سر انجام دینے کے لیے  فاروقی صاحب نے  کیا کچھ نہ پڑھا ہو گا۔

اسلم محمود صاحب نے اپنی کتاب Awadh symphony میں لکھا ہے کہ داستان امیر حمزہ کی تمام یعنی 46 جلدیں 1970 سے پہلے ایک امریکن لائبریری میں موجود تھیں فاروقی صاحب اردو ادب کے  شاید واحد ادیب ہیں جن کے ذاتی کتب خانے میں نہ صرف داستان امیر حمزہ کی تمام جلدیں موجود تھیں بلکہ انہوں نے تمام جلدوں کو لفظ بہ لفظ پڑھ بھی رکھا تھا۔

کئی  چاند تھے سرِ آسماں، اردو ادب کے بڑے ناولوں میں شمار ہو گا جب کہ ان کا ناولٹ شاید کبھی بھی موضوع گفتگو نہ رہے، انہوں نے اردو کے بڑے شعرا کا تذکرہ افسانوں کی صورت کیا اور ایسے تجربات اس سے پہلے بھی ہو چکے تھے۔ غالب کے حوالے سے مالک رام صاحب کے کام کو کون فراموش کر سکتا ہے۔

جب وہ شاید 2014 میں پاکستان آۓ تو میں نے ایک ملاقات پر ان سے کہا کہ آپ نے ناول کے آخر میں کئی  ایسی کتابوں کا حوالہ دیا ہے جو داغ اور اس کے عہد کے بارے ناول لکھنے کے دوران آپ کے لیے  معاون ثابت ہوئیں، داؤد رہبر کی داغ کے بارے بہت عمدہ کتاب” مشاعرے کا فاتح” بھی آپ نے پڑھی ہو گی، فاروقی صاحب نے انتہائی دیانتداری سے جواب دیتے ہوۓ کہا کہ داؤد صاحب کی کتاب مجھے ناول کی اشاعت کے بعد موصول ہوئی تھی اور اس کتاب کو میں نے عاصم صاحب بے حد دلچسپ پایا۔

میں نے ایک اور ملاقات کے دوران ذرا جھجھکتے ہوۓ عرض کیا کہ میں عینی آپا کی نثر کے بارے آپ کی راۓ سے کسی طور بھی اتفاق نہیں کرتا، میرے کندھے کو تھپکاتے ہوۓ بولے بھائی وہ بہت بڑی مصنفہ تھیں ۔

میں نے عرض کیا کہ اردو ادب کے ایک بڑے پرچے کے مدیر کے نام آپ نے جو خطوط برسوں پہلے لکھے تھے اور جن میں ادبی اور ایک نامور ادیب کے بارے آپ نے ذاتی اختلافات کا بھی ذکر کیا وہ خط اور آپ کے کچھ مسودات اب میرے پاس محفوظ ہیں، فاروقی صاحب نے ہنستے ہوۓ کہا کہ میں نے جو خط جس کے نام لکھا وہ اس کی ملکیت ٹھہرا ۔۔انہوں نے اگر تمھارے حوالے کر دیے  ہیں تو بھلا میں کیوں اختلاف کروں گا۔

افکار نے زندہ ادیبوں کے بارے خاص نمبر نکلا کر ان کی زندگی میں ہی خراج تحسین پیش کر کے مردہ پرستی کی فرسودہ روایت کو توڑنے کی کوشش کی تھی کم و بیش اٹھارہ برس پہلے کراچی سے شائع ہونے والے ادبی جریدے روشنائی نے بھی شمس الرحمن فاروقی نمبر پیش کیا تھا۔

فاروقی صاحب ہم آپ کے لکھے ہوۓ لفظوں کی روشنائی سے ہمیشہ سیکھتے رہیں گے۔

فاروقی صاحب کی بیشتر کتابیں میری طرح میرے احباب کے پاس بھی ہوں گی سو اس پوسٹ کے ساتھ روشنائی کے شمس الرحمن فاروقی نمبر اور اسلم صاحب کی اودھ کے بارے انگریزی کی کتاب کے سر ورق کی تصویر لگاؤں، روشنائی کا پرچہ اور اودھ کے بارے اسلم صاحب کی کتاب میری لائبریری کا حصہ ہیں۔

Shopping Revolution

Avatar