منطق کیوں پڑھاتے ہیں ؟۔۔ڈاکٹر ظہور بابر

منطق نطق سے ہے ۔مصدر میمی یا ظرف کا صیغہ ہے ۔ نطق ظاہری بھی اورنطق باطنی بھی۔ نطق ظاہری و باطنی کو تقویت کا ذریعہ ہے۔ بعد میں یہ ایک مستقل فن کا نام پڑگیا ہے جس کی تعریف یہ کی جاتی ہے ۔
”آلة قانونیة تعصم مراعاتھا الذھن عن الخطاء فی الفکر”
یہ ایک ایسا آلہ ہے جس کی وجہ سے انسان فکری خطا سے محفوظ رہتاہے’ یعنی آلہ عقلیہ ہے۔ منطق کے قوانین کی رعایت سے مجہولات کے حصول کے لئے جو فکری و عقلی ترتیب ہوتی ہے اس میں غلطی سے بچنا ہوتاہے’ جس طرح علم النحو کی وجہ سے اعرابی غلطی سے بچاؤ  ہوتا ہے ۔

منطق کی اس تعریف پہ غور وتدبر سے بہت سارے ذہنی شکوک وشبہات ختم ہوجاتے ہیں کہ یہ کوئی علم مقصود نہیں ، بلکہ علم آلہ وسبب وذریعہ ہے۔یہ ایک ذہنی ورزش اور دماغی ریاضت ہے۔اس سے عمق نظر اور دقت فکر پیدا ہوتی ہے۔صلاحیتوں میں جلاء اور استعداد میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔

اس علم کو سبب وذریعہ سے ہٹ کر مقصود بنالینا درست نہیں ۔ابن تیمیہ جیسے منطق کے سخت ناقد کو بھی اس حد تک منطق کی افادیت اور اس سے اشتغال کا قائل ہونا پڑا ۔
“الردّ علی المنطقیین” میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
وایضاً فان النظر فی العُلوم الدّقیقہ یفتق الذھن ویدربہ،بہ ویقوّیہ علی العلم فیضیر مثل کثرۃ الرّمی بالنشاب ورکوب الخیل تعین علٰی قوۃ الرّمی و الرکوب وان لم یکن ذلک وقت قتال، وھذا مقصد حسن۔
جس طرح نحو، صرف ،معانی ، بلاغت اور علم کلام میں سالوں سال سبب وذریعہ کے بطورلمبی لمبی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اسی طرح ذہنی پختگی ، سوال وجواب بحث ومناقشہ میں مہارت ودرک کے حصول کے لئے منطق کی کتابیں درس نظامی میں داخل نصاب ہیں۔
اس فن کی تدریس کا مقصد دانشور، فلسفی، ججس یا عدالتوں میں وکلاء پیدا کرنا ہر گز نہیں۔

چار سال پڑھنے کے بعد اگر عملی میدان یا بیرون مدرسہ اس کے ماہر ومتخصص کی ارزانی وفراوانی نہیں ہے تو فقہ ، حدیث ، نحو ومعانی میں سالوں ضائع کرینے کے بعد ہمیں اس کے بھی تو ماہرین کم ہی نظر آتے ہیں !

اس سے انکار شاید مشکل ہو کہ ایسے بیشمار فضلاء آج کل مل جائیں گے جنہوں نے ہدایہ و کنز جیسی عمیق کتابیں پڑھ رکھی ہیں لیکن انہیں نماز وروزہ جیسے بنیادی مسائل بھی بمشکل معلوم ہوتے !
لیکن اگر اس ذاتی دلچسپی کی کمی کی وجہ سے فقہی کتابوں پہ طعن درست نہیں ہے ۔تو بعض سست اور کم ہمت افراد کی بے توجہی کی وجہ سے منطق کی کتابوں کو مورد الزام ٹھہرانا بھی قرین انصاف نہیں ہوگا۔

ماضی قریب کی نابغہ روز گار شخصیت اور جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا صدیق احمد باندوی قدس سرہ کا بڑا ہی چشم کشا جواب اس ذیل میں نقل کردینا مناسب سمجھتا ہوں جسے انہوں نے اس سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا :
اِن فنون (منطق ) کے داخلِ درس ہو نے سے کیا نفع ہے ؟کہ حدیث ،تفسیر،فقہ ،اصول فقہ، اصول تفسیر وغیرہ علوم مقصودہ سے وقت بچا کر اِن میں کھپایا جاتا ہے ؛جب کہ بیرون مدرسہ ما حول و معاشرے میں کبھی اِن کا کام نہیں پڑتا۔’’جزء الجزء جزء لہ‘‘اور’’لازم اللازم لازم لہ‘‘کا محاورہ اور اصول ، کوئی بھی نہیں سمجھتا ۔’’سلبِ دوام کلی اور دوام السلب الکلی‘‘ کا فرق و تمیز لوگوں کے ذہنوں کو اپیل نہیں کرتی۔ اِفہام و تفہیم کے لیے بازار علوم جدیدہ میں یہ سکہ بالکل کھوٹا معلوم ہو تا ہے۔
جواب :
’’ منطق کے بغیر آدمی درسیات پڑھا نہیں سکتا اور اگر پڑھائے گا،تو حق ادا نہیں کرے گا۔‘‘
(حضرت مولانا صدیق احمد باندوی )

تدریسی زندگی کے میرے ناقص تجربات ومشاہدات بھی یہی ہیں کہ مطولات کے اچھے اور کھانٹی اساتذہ بغیر منطق پڑھے دستیاب نہیں !
منطق کو فعل عبث اور ضیاع وقت کہے جانے کے مشورے عموما ان حضرات کی طرف سے آتے ہیں جنہیں تدریس مطولات کے مواقع نسبتا کم یا بالکل ہی نہیں ملے ہیں۔

ہاں ! اسی سے متعلق یاد رکھنے کے قابل یہ بات بھی ہے کہ
منطق پہ غلو آمیز غلاف عقیدت چڑھادینے کے ہم قائل ہیں ،اور نہ ہی اس کی افادیت ونافعیت سے انکار کی جرات رکھتے ہیں۔
اس علم کو “علوم آلیہ ” میں شمار کرنا ہی سو سوالوں کا جواب ہے کہ : حالات، وقت ، مصلحت، تقاضے اور اذہان کے لحاظ سے اس میں تہذیب وتنقیح ممکن ہی نہیں بلکہ بسااوقات ضروری بھی ہے۔
آلہ اور ہتھیار تو کہتے ہی اسے ہیں جو چیلنجس ، تقاضے اور ضروریات کے مطابق اپڈیٹ ہوتا رہے ۔
تہذیب وتنقیح کی بندش کا قائل ہوجانا ہی دراصل غلو اور سبب اور ذریعہ سے ہٹ کر اسے مقصد بنادینا ہے ۔

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *