• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ریاستوں کی ترجیحات – پاکستان اور انڈیا کا تقابل۔۔عامر کاکازئی

ریاستوں کی ترجیحات – پاکستان اور انڈیا کا تقابل۔۔عامر کاکازئی

ہمارے آج کے نوجوان سیاست دانوں کو کوستے ہیں کہ انہوں نے صرف کرپشن کی اور قوم کو کوئی سمت نہیں دی,ترقی نہیں دی۔ مگر بدقسمتی سے تاریخ کو پڑھنے کی بجاۓ یا کسی بزرگ سے سمجھنے یا سیکھنے کی بجاۓ پاکستان کی تاریخ کو وہ اپنے لیڈر کی ڈی چوک میں کی گئی تقریروں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈی چوک کے لیڈر نے ان نوجوانوں کو یہ سبق پڑھایا کہ پاکستان کی تاریخ 2008 سے شروع ہوتی ہے اور 2008 میں سیاست دانوں کو مضبوط، طاقت ور اور ایک سُپر پاور ملک ملا تھا۔ بس ان کرپٹ اور نالائق سیاست دانوں نے ملک ڈبو دیا۔

آج 1979 سے لے کر 2020 تک پاکستان اور انڈیا کا تقابل کرتے ہیں کہ چالیس سالوں میں دونوں ریاستوں نے کیا کیا؟ کیا کھویا؟ کیا پایا؟ اور کن کی وجہ سے کون سی ریاست برباد  ہوئی اور کن کی وجہ سے کون سی ریاست آباد ہوئی۔

اس سلسلے کو پاکستان سے جنرل ضیا الحق اور انڈیا سے راجیو گاندھی کے زمانے سے شروع کرتے ہیں۔آج کل کے نوجوانوں کے پاس کرپشن ایک مشہور بیانہ ہے۔ تو کرپشن سے بات کو آگے لے چلتے ہیں۔ راجیو گاندھی کے دور میں انڈیا کا اُس زمانے کا سب سے بڑا کرپشن کا سکینڈل بوفرز کے نام سے ہوا تھا۔ راجیو گاندھی پر 1.4  بلین یو ایس ڈالر  کی ککس بیک لینے کا الزام لگا تھا۔

مگر اسی کرپٹ راجیو گاندھی کو جس وقت ہمارے ایمان دار، خدا ترس اور نیک دل ڈکٹیٹر صاحب ایک کرکٹ میچ کے دوران بن بلاۓ مہمان بن کر ایٹم بم سے فنا کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، ٹھیک اسی وقت یہ کرپٹ سیاست دان راجیو گاندھی سر جھکاۓ سائنس، ٹیکنالوجی، کمپیوٹرز اور اس سے منسلک اداروں کی اپنے ملک میں بنیاد رکھ رہا تھا۔ جس زمانے میں پاکستانی ریاست اپنی پالیسی مذہبی جہاد کے نام پر فساد کی طرف موڑنے میں مصروف تھی، اسی زمانے میں راجیو گاندھی انڈیا میں اپنی تعلیم کی پالیسی  کی بنیاد ٹیکنالوجی  پر رکھنے  میں مصروف تھا۔ جس وقت راجیو گاندھی نے انڈیا کے نوجوانوں کو جوائر نوویڈیا وڈیالاوا تعلیمی سسٹم دیا۔ ٹھیک اسی وقت ہمارے پانچ وقت کے نمازی ملٹری ڈکٹیٹر صاحب پاکستانی مسلمان نوجوانوں کو مذہب کے نام پر دہشتگرد بنانے کا سسٹم پاکستان میں متعارف کروا رہے تھے۔

وہ روشن صبح کی طرف جا رہے تھے اور ہماری ریاست اندھیری رات کو عشق سمجھ کر اس کی پرستش میں مصروف تھی۔

جس وقت پاکستانی ریاست ایک سُپر پاور کے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف عمل تھی، ٹھیک اُسی وقت انڈیا اپنے ملک کو انویسٹرز کے لیے کھول رہا تھا۔ جس وقت ہمارے ڈکٹیٹرز اسامہ اور اس جیسے عالمی دہشتگردوں کو پاکستان لا رہے تھے ٹھیک اسی وقت راجیو گاندھی نے راک ویل انٹرنیشنل سے سام پٹرودا کو انڈیا لا کر اپنا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مشیر بنایا۔ اور انڈیا میں آئی ٹی کے انقلاب کی بنیاد رکھی۔ جس زمانے میں راجیو گاندھی کمپیوٹرز کے مدر بورڈز کی فری امپورٹس کی اجازت دے رہا تھا، ٹھیک اسی زمانے میں پاکستانی ڈکٹیٹرز کلاشنکوف، ہیروئن اور جہادی کلچر کو پاکستان میں فروغ دے رہے تھے۔

یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسی کرپٹ راجیو گاندھی پر 2.5 billion swiss frank کے غیر قانونی سویس اکاونٹ رکھنے کا بھی الزام ہے۔

پاکستانی ادارے اکثر پاکستانی سیاست دانوں پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے، اور پیسے لینے کا الزام لگاتے  ہیں ، جو کہ آج تک ثابت نہ کر سکے۔ مگر کیا پاکستانی عوام کو معلوم ہے کہ جس راجیو گاندھی نے انڈیا کو آئی ٹی کے راستہ پر ڈالا، ترقی دی، اسی گاندھی فیملی کو رشین حکومت نے کے جی بی کے ذریعے پیسے دیے اور سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق بھی کی۔ اُس وقت کے تقریباً چالیس فیصد انڈین پارلیمنٹ کے ممبرز نے رشیا سے پیسے لیے، مگر کیا کسی انڈین ادارے نے کسی بھی سیاست دان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ کیا؟ اسے غدار کہا؟ کیا کسی بھی انڈین ادارے نے انڈین سیاسی سسٹم کو عدم استحکام کی جانب دھکیلا؟

انڈیا میں کرپشن کی کیا حالت ہے؟ اس کا اندازہ  ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کی 2005 کی رپورٹ سے  لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً  %92 انڈینز اپنا کام کروانے کے لیے کسی بھی سرکاری فرد یا ادارے کو رشوت دیتے ہیں۔ اسی ادارے کے  مطابق انڈین ٹرانسپورٹ انڈسٹری ہر سال تقریباً 222 کروڑ انڈین روپے  رشوت کے طور پر دیتی ہے۔ انڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن کا سکینڈل 2g سپیکٹرم. جس کی کرپشن کی مالیت 1.76 لاکھ کروڑ انڈین روپے تھی۔ یہ سیکنڈل من موہن سنگھ کی کانگرس کی حکومت میں ہوا اور اسی کرپٹ حکومت نے انڈیا کو نئی اکنامک ترجیحات کے ساتھ ایک نئے راستے پر ڈالا۔ انڈیا کی جی ڈی پی کو %9 تک پہنچایا۔ انڈیا کو دوسری سب سے بڑی ابھرتی ہوئی معیشت بنا دیا۔ من موہن سنگھ کی سیاسی حکومت پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام 2008 میں لگا کہ اس نے ووٹ آف کانفیڈینس حاصل کرنے کے لیے ہر ممبر پارلیمنٹ کو چالیس کروڑ روپے دیے۔

اب آگے کے زمانے میں چلتے ہوۓ، ذکر کرتے ہیں 89 سے لے کر 99 تک کے سالوں کا کہ جب ہمارے مہربان اور پاکستان پر اپنی جانیں چھڑکنے والے ادارے مہران گیٹ اور آپریشن مڈ نائیٹ جیکال کے ذریعے سیاسی حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار بنا رہے تھے اور کشمیر کی پُرامن تحریک کو پُر تشدد بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھی، ٹھیک اسی وقت انڈیا میں نرشما راو جس کو انڈین اکنامک ریفارمز کا باپ کہا جاتا ہے، وہ انڈیا میں اکنامک لبرلائزیشن لا رہا تھا۔ جس سے لوکل اور فارن انویسٹمنٹ آئی۔ اس دوران انڈیا میں فارن انویسٹمنٹ % 316.9 زیادہ ہوئی۔ نرشما راو کی پالیسیز کی وجہ سے 1991 میں انڈیا کی جی ڈی پی  266 بلین یو ایس ڈالر سے 2018 میں 2.3 ٹریلین یو ایس ڈالر   ہوئی۔

جس وقت ہم سعید صلاح الدین اور حافظ سعید جیسے بے شمار دہشتگردوں کو ٹریننگ دے رہے تھے، ٹھیک اسی وقت انڈیا میں نرشما راؤ  من موہن سنگھ کو اپنا فائنینس منسٹر مقرر کر رہا تھا، جس نے آگے جا کر لبرل اور فری انڈین اکانومی کی بنیاد رکھی۔ جب 2009 میں پاکستان بجلی کے ایک ایک کلو واٹ کو ترس رہا تھا، خود کُش حملہ آوروں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا تھا، ٹھیک اسی وقت من موہن سنگھ انڈیا کے سات شہروں میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ یہ ٹیکنیکل اور ریسرچ یونیورسٹیز تھیں۔ راجیو گاندھی کے بعد یہ دوسرا آئی ٹی انقلاب تھا جس کی وجہ سے آج انڈین آئی ٹی پر چھائے ہوئے  ہیں۔

یہ یاد رہے کہ انڈین ریفارمز کے باپ کا ٹائٹل رکھنے والے نرشما راؤ  پر کرپشن کے تین الزام لگے، ایک ہارس ٹریدنگ کا جس میں لور کورٹس نے تین سال کی سزا بھی سنائی اور دوسرا ویسٹ انڈیز کے ایک بینک میں   21  ملین یو ایس ڈالر  کا اکاونٹ کھولنا اور تیسرا ایک انڈین بزنس مین نے الزام لگایا کہ نرشما راؤ نے رشوت کے طور پر اس سے ایک لاکھ یو ایس ڈالر لیے۔

تمام انصافی نوجوانوں سے سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان 2008 سے 2018 تک ڈکٹیٹرز کے بنائے  ہوئے  دہشتگردوں سے اپنے شہریوں کی پہلے جان بچاتے یا تعلیم دیتے، بجلی دینے کی کوشش کرتے یا صحت کو بہتر کرتے؟ یہ یاد رہے کہ ہمارے موجودہ سیاست دانوں کو صرف ایک سال پہلے قائد اعظم کے 47 اور بھٹو کے 71 سے بھی بُری حالت میں پاکستان ملا تھا۔ جس میں نہ بجلی تھی، نہ امن امان اور نہ ہی کوئی حکومتی رِٹ تھی۔ نہ آئین اور نہ کوئی قانون۔ بس دو چیزیں ڈکٹیٹرز سے تحفہ میں ملی تھیں۔ مذہب کے نام پر خود کُش حملہ آور اور گھپ اندھیرے۔

اس تمام چالیس سالوں میں انڈیا اپنے ملک کو طاقتور، عوام کو تعلیم یافتہ اور نوجوانوں کو ہنر سکھا رہا تھا۔ مگر ہماری ریاست اس وقت مذہب کے نام پر دہشتگردی دہشتگردی کی گیم کھیل رہی تھی۔ یہ سمجھ کر کہ اس دہشتگردی سے ہم دنیا کو فتح کر لیں گے۔ ان چالیس سالوں میں دوسرے ملک علم کی طاقت حاصل کر رہے تھے، جبکہ ہم نے کلاشنکوف کو طاقت سمجھ لیا تھا۔ اس تمام عرصے میں ہمارے جنرل امام مہدی اور دجال کے انتظار میں بیٹھے غزوہ ہند کی تیاریوں میں مصروف رہے اور دوسرے اپنے ملک اور عوام کو لے کر کہیں سے کہیں نکل گئے ۔

ہمیں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے ہوئے  نہ اُدھر کے  ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم، نہ ادھر کے ہوئے  نہ اُدھر کے ہوئے

اس وقت 2020 میں دنیا کی تقریبا ً دس بڑی کمپنیز جس میں مائیکروسافٹ، گوگل، نوکیا، وی ورک، پالو الٹو نیٹورک، ہرمن انٹرنیشنل ، مٹرولا، اڈوب سسٹم ، مائکرون ٹیکنالوجی، آئی بی ایم اور ماسٹر کارڈ کے سی ای او انڈینز ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد انڈینز مختلف انٹرنیشنل کمپنیز کی پالیسیز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اور کیسے انڈینز نے ان کمپنیز کو اپنے کنٹرول میں لے لیا؟ کسی جادو یا کسی غیبی شیطانی طاقت کی مدد سے؟ جواب پوشیدہ ہے راجیو گاندھی کے آئی ٹی انقلاب میں جس کی وجہ سے اس زمانے کے لاتعداد انڈینز نے آئی ٹی کے شعبے کو اپنایا۔ اس وقت کے انڈین نوجوان نے راجیو گاندھی کی تعلیمی پولیسز کا فائدہ اُٹھاتے ہوۓ اپنے آپ کو ہنر مند بنایا، مختلف شعبے اپنائے ۔ کسی نے بزنس شروع کیا، کسی نے پروگرامنگ، کسی نے بیرون ملک جا کر مزید پڑھا اور کسی انٹرنیشنل کمپنی میں جاب پر لگ گیا۔ کوئی آئی ٹی میں گھسا تو کوئی رئیل اسٹیٹ میں، کسی نے ورلڈ بینک میں ملازمت اختیار کی تو کوئی آئی ایم ایف میں چلا گیا۔حتی کہ سیاست کو بھی نہ چھوڑا اور اب اگلی امریکہ  کی نائب صدر انڈین دیوی کملا ہارث ہے۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ بڑی پوزیشن تو ایک طرف، چھوٹی پوزیشنز پر بھی انڈینز کا ہولڈ ہے۔ بڑی بڑی کمپنیز نے اپنے دفاتر انڈیا میں کھول رکھے ہیں۔ وہاں سے یہ اشیا کا سوشل نیٹ ورک تک کنٹرول کرتے ہیں کہ کسی کی جرات نہیں کہ وہ کشمیر کا نام لے سکے یا کسی دہشتگرد کی تصویر شیئر کر سکے۔ اسی وقت اس کا پیج یا آئی ڈی بلاک ہو جاتی ہے۔ جبکہ ہم اب دہشتگردی، سیاسی اور اکنامک عدم استحکام کے کھلونوں کےساتھ ساتھ ہاتھ میں فقیر کا کشکول لیے دنیا کے ڈی چوک پر بیٹھے ہیں اور ہر راہ چلتے سے اللہ کے نام پر کچھ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ فارن پالیسی کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہم اسرائیل سے مدد مانگ رہے  ہیں کہ ہماری عربوں سے دوستی کروا دو۔

آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

ہمارے ڈی چوک کے لیڈر نے چیخ چیخ کر دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک کرپٹ ملک بنا دیا۔ جبکہ جن ممالک کے سیاست دانوں نے کرپشن کے ریکارڈ توڑے، انہوں نے شور مچائے  بغیر اپنے قانون پر عمل کیا۔ مگر دنیا کے سامنے اپنے ملک کو بدنام نہیں کیا۔ اب جبکہ ایک ایماندار مگر نااہل شخص کی حکومت ہے تو دنیا میں ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب کو انڈین کشمیر کے بارے میں ایک پوسٹ کرنے پر ٹیوٹر کی طرف سے وارننگ کی ای میل آتی ہے۔ تو دوسری طرف پاکستانی منسٹر مراد سعید  صاحب کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ آپ نے کشمیر پر پوسٹ کر کے انڈین لا ء کی خلاف ورزی کی ہے۔

اللہ اللہ، ہم اتنے لاچار اکہتر میں بھی نہیں تھے کہ پاکستان میں بیٹھ کر انڈین لاز کی پابندی کرنے پر مجبور کیے جاتے۔

ہر بار ہماری ریاست کے پاس اپنی ناکامی کی وجہ صرف ایک ہوتی ہے، وہ ہے دوسروں ملکوں، قوموں اور مذاہب پر الزام لگانا۔ جنگ ہارے، وجہ؟ جی —ایک ملک نے مداخلت کی۔ ملک ٹوٹا، وجہ؟ جی امریکی بیڑہ وقت پر نہیں پہنچا اور پڑوسی  ملک نے حملہ کر دیا۔ دہشتگردوں نے بیس سال تک ملک کو ہرغمال بناۓ رکھا، وجہ؟ جی — صیہونی طاقتیں، را، کے جی بی، موساد اور سی  آئی  اے اسلام کے قلعے پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ کسی اور پر بے بنیاد الزام لگا کر اپنی کوتاہیوں سے بچنا سب سے آسان بات ہے لیکن اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو تسلیم کرنا اور ان کو دور کرنا بالکل الگ بات ہے۔ ایک راستہ آسان اور ذمہ داریوں سے بھاگنے والا ہے جبکہ دوسرا مشکل اور صبر آزما ہے۔ اب جبکہ گیم ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تو قوم کو مزید بے وقوف بنانے کے لیے آسان راستہ ہی ہماری ریاست کے پاس بچا ہے۔

کوئی تدبیر کرو ، وقت کو روکو یارو۔
صُبح دیکھی ہی نہیں شام ہوئی جاتی ہے

(یہ جاوید عابد صاحب کی ایک تحریر سے متاثر ہو کر لکھا گیا کالم ہے)
(جنرل ضیا اور راجیو گاندھی کے واقعے کا ذکر رجیو گاندھی کے مشیر بہرامنام نے انڈیا ٹوڈے میں اپنے ایک کالم میں  کیا)
Jawahar Navodaya Vidyalaya system
Sam Pitroda from Rockwell International

Shopping Revolution

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *