• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ارطغرل ابن سلیمان اور ارطغرل ابن عثمان کی موت کا فرق۔۔منصور ندیم

ارطغرل ابن سلیمان اور ارطغرل ابن عثمان کی موت کا فرق۔۔منصور ندیم

پرسوں رات ترکی ڈرامہ Kuruluş: Osman سیزن 2 میں ارطغرل کے کردار کی موت پر کئی لوگوں کی افسردہ پوسٹس دیکھیں، اور اب تو تقریباً  ہر بڑے اخبار نے ارطغرل کے  ڈرامے میں مرنے پر پاکستانیوں کے اشکبار ہونے کا  خوب تذکرہ بھی لکھا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی حالات پر مبنی ترکی کے سرکاری ادارہ ٹی آر ٹی (ترکش ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن ) کی تخلیق ہے ، جو اس سے پہلے ترکی میں ہی بننے والے Diriliş: Ertuğrul جسے انگریزی میں “Resurrection: Ertuğrul” کا نام دیا گیا ہے، کا تسلسل ہے، یہ ٹی وی سیریز اپنی ابتداء میں تو نہیں لیکن فی الوقت یہ دنیا بھر میں بہت زیادہ دلچسپی سے دیکھی گئی ہے، خصوصا ً برصغیر میں لاک ڈاؤن کے دنوں میں، میں نے بھی اسے دیکھا، سوشل میڈیا پر ان  ڈراموں کے سیزن کا بہت شہرہ رہا اور کئی جذباتی لوگ تو اس ڈرامے اور کرداروں کواتنی  گہرائی  سے دیکھتے رہے اور کچھ دوستوں نے تو ان کرداروں سے نشاط ثلاثہ کی امیدیں باندھ لیں۔ مزید تڑکہ ہمارے وزیراعظم  اس ڈرامے کو دیکھنے کی ہدایات جاری فرما کر   لگا دیا۔

بہرحال تاریخ سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ سنہء 1299 سے سنہء 1922 تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے، اور جس کا  آغازیقینا ً کائی قبیلے کے سردار عثمان سے ہی ملتا ہے، اس عثمانی سلطنت نے اپنے عروج کے زمانے میں سولہویں اور سترہویں صدی تک تین براعظموں پر پھیل چکی تھی، اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا، اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (آج کا موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور عرب میں یمن سے مصر تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔

اس سلطنت کے آغاز میں بننے والے ڈرامے میں بہت کچھ مبالغے اور ڈرامے کے لئے مطلوب سسپنس کو ڈالا گیا، جو یقیناً ڈرامے کے لئے ضرورت تھا، مگر بہت ساری جذباتی کیفیات کو جس طرح مخصوص لوگوں نے قبول کیا یقینا ًمیرے لئے وہ حیرت انگیر رہا، ڈرامے میں ارطغرل اور عثمان کا اسوقت کے صوفیاء اور خانقاہوں سے تعلق جس طرح دکھایا گیا اس میں جزوی سچائی تو یقیناً ہے، عثمان کے خواب کا ذکر اور آیا  صوفیا کے شیخ ابیدال کا تذکرہ بھی یقیناً کسی درجے درست ہے، اس میں شک نہیں کہ اس عہد میں مسلم سلطنتوں کے کمزور ہونے کی وجہ سے صوفیاء کی تحاریک کے اشارے تاریخ سے ملتے ہیں، اور یقیناً انہوں نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے میں تائید و مددبھی کی تھی، مگر کیا کبھی کسی نے عہد خلافت عثمانیہ میں انہی آیا  صوفیاء کی بغاوت پر بات کی؟

عہد سلطنت عثمانیہ کے کم و بیش 34 سلاطین کے ہر عہد میں ان آیا صوفیاء نے اس خلافت کے طریقے پر اختلاف کیا تھا، ان کی بغاوتوں کو سختی سے کچلا گیا، آیا  صوفیاء کی خانقاہوں کو تالے لگوائے گئے، آیا صوفیا کو قتل کیا گیا، قید و بند کا سامنا کرنا پڑا، آیا صوفیاء نے بغاوتوں کے لئے اس عہد میں دربار میں موجود اپنے پاشا تک مقرر کروائے تاکہ بغاوت کرسکیں۔ ان آیا  صوفیاء کے نزدیک خلافت عثمانیہ کے پاس اقتدار آجانے کے بعد وہ اسلامی خلافت کے بجائے سخت ترین ملوکیت کا شکار ہو ئے تھے ۔

ہماری قوم نے صدیوں پہلے کے کردار ارطغرل ابن سلیمان کی ڈرامے میں موت پر تو خوب آنکھیں اشکبار کردیں، مگر صدیوں تک ترکی پر فرمانروائی کرنے والے عثمانی خلفاء کے آخری جانشین کے 24 ستمبر سنہء 2009 کو 97 برس کی عمر میں انتقال ہونے کا پتہ بھی نہیں چلا تھا، جس کا استنبول کے اسی شہر میں انتقال ہوا تھا ، جو کبھی تین براعظموں پر پھیلی اس عظیم سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ جو اگر ارطغرل عثمان سلطنت کے ختم نہ ہونے کی صورت میں شاید ترکی کے عثمانی سلطان ہوتے۔

ارطغرل عثمان سنہء 1912 میں استنبول میں پیدا ہوئے تھے اور 1923 میں سلطنت کے خاتمے کے وقت وہ آسٹریا کے شہر ویانا میں ایک  سکول میں پڑھ رہے تھے، انہیں ویانا میں ہی یہ خبر ملی تھی کہ کمال اتاترک نے ان کے خاندان کے تمام افراد کو جلا وطن کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد ان کی بیشتر زندگی امریکہ کے شہر نیو یارک میں گزری جہاں ساٹھ برس تک وہ ایک ریستوران کے اوپر کی منزل میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے رہے، ترکی کے قانونی مجریہ سنہء 1973 کے مطابق خلافت عثمانیہ کے خاندان کے مردوں کو ترکی شہریت حاصل کرنے کا مجاز قرار دیا گیا تھا لیکن ارطغرل عثمان نے سنہء 2004 تک کسی شہریت کے بھی بغیر زندہ رہے تاہم ارطغرل عثمان نے سنہء 2004 میں ترک شہریت اختیار کی،اور 24 ستمبر سنہء 2009 کو ارطغرل عثمان کا انتقال ہوا ۔

ارطغرل عثمان ہمیشہ یہی کہتے رہے تھے کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں تھے اور سنہء 1992 تک ترکی بھی واپس نہیں لوٹے تھے۔ سنہء 1992 میں ارطغرل عثمان ترک حکومت کی دعوت پر واپس گئے تھے لیکن تب بھی کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں قبول کیا۔ جب وہ اپنے خاندان کے سابقہ محلات دیکھنے گئے تو وہ بھی عام سے سیاحوں کے ایک گروپ میں شامل ہو کر اپنے آباؤاجداد کی سابق رہائش گاہیں دیکھتے رہے۔ یہ وہی محل تھا جہاں ان کا اپنا خاندان بھی رہتا تھا اور جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔ مرحوم ارطغرل عثمان کو ترکی سلاطین کے لئے مخصوص قبرستان میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ان کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ زینب شامل تھیں، ان کی اہلیہ زینب افغانستان کے آخری شاہ امان اللہ خان کی بھی رشتہ دار تھیں۔

کئی سال تک بغیر کسی شہریت کے گذارنے کے   ترک خلافت کے آخری سلطان ارطغرل عثمان 97 برس کی عمر میں کس حالت میں انتقال کر گئے تھے مگر شاید ہماری عوام کواس کا پتہ نہیں مگر ڈرامے میں ارطغرل کے کردار پر مرنے پر اشکبار ہوجاتے ہیں۔

نوٹ : آخری سلاطین میں کچھ اور نام بھی ہیں جیسے عثمان بایزید ، چونکہ عثمانی سلطنت بڑے خاندان کا نام تھا اس کے علاوہ بھی آخری سلطان محمد ششم وحید الدین 17 نومبر سنہء 1922 کو جب ملک چھوڑ گئے تھے جس کے بعد 24 جولائی سنہء 1923 کو باضابطہ طور پر ترک جمہوریہ کو تسلیم کر لیا گیا تھا اور چند ماہ بعد 3 مارچ سنہء 1924 کو خلافت کے خاتمے کا بھی اعلان کردیا گیا تب سلطان محمد ششم اور ان کے اہل خانہ کو ناپسندیدہ اشخاص قرار دے کر جلا وطن کر دیا گیا تھا، سلطان محمد ششم کی جلاوطنی کے تین ماہ بعد ہی عثمان بایزید کی پیدائش ہوئی اور اپنے بھائیوں اور کزن میں وہ واحد اولاد تھے، جن کی پیدائش پر توپوں کی سلامی دی گئی اور نہ شاہی انعامات و اکرام تقسیم کیے گئے اور ان کی پیدائش کے دو سال بعد ہی سلطان محمد ششم بھی انتقال کر گئےتھے۔ عثمان بایزید ساری عمر محنت مزدوری کرتے رہے اور شادی نہیں کی جو قلیل علالت کے بعد 6 جنوری سنہء 2017 کو 92 سال کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے یوں عثمانیہ سلطنت کے آخری ورثاء  بھی منوں مٹی تلے دب گئے۔

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *