گوادر اور صفحہ قرطاس پر حقوق و انصاف کا خون۔۔نجیب اللہ زہری

گوادر ہر لحاظ سے برّی ہو یا بحری قدرتی وسائل سے مالا مال ہے دنیا کی نظریں جہاں سی پیک اور گوادر پر ہیں وہیں بلوچستان کے باسی ان نظروں کی وحشت ناکی اور استحصال کے  جال کو پہلے سے محسوس کر گئے ہیں بلوچستان کی تاریخ سنہری دور کو سمیٹتی ہے بلوچستان نے جہاں غیروں کے کمان سے نکلے  تیر پر  وطن کے لیے سینوں کی  ڈھال پیش کی  ہیں، وہیں اپنوں کو سینے  سے لگا کر آستین کے سانپ اور بغل کی چھری سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

گوادر اخبارات اور جرائد کے  صفحات پر ملکی ترقی کی پہلی سیڑھی سمجھا جاتا ہے گوادر تو کشمیر کے بعد دوسری  شہ رگ قرار دیا جائے گا سیندک ہو یا ریکوڈک سبھی تو ملکی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ ترقی اور امن کے جال بلوچستان میں نظر نہیں آتے بلوچستان میں ترقی نظر آتی ہے تو گمشدہ افراد کی تعداد کی ترقی، بے روزگار افراد کی بڑھتی خودکشیوں کی ترقی، ماؤں اور بہنوں کی سسکیوں آہوں کی ترقی، ماہی گیروں کے منہ سے نوالہ چھیننے میں ترقی، حاصل یہی کہ بلوچستان میں استحصال کی ترقی تو ہوتی ہے مگر بلوچستان کے باسیوں نے ترقی اور امن کے جال و جن کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔

بلوچستان اس وقت تین مختلف شاہراہیں چلا رہا ہے جو کہ بلوچستان کو زمینی اعتبار سے ملک کے دیگر صوبوں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ، سے ملا رہی  ہیں یہ شاہراہیں بلوچستان کو پورے ملک سے ملا رہی  ہیں مگر یہ سنگل روڈ ہیں جن میں صرف ایک شاہراہ جو کہ بلوچستان اور سندھ کو ملاتی  ہے چمن سے کراچی تک اس شاہراہ پر معتبر اداروں کے مطابق سالانہ آٹھ ہزار افراد حادثات میں شہید ہوتے ہیں، کیا بلوچستان نے سیندک و ریکوڈک، گیس اور کوئلے کے  ذخائر اور سی پیک سے اتنی بھی ترقی نہیں کی کہ قومی شاہراہیں ڈبل روڈ ہوں اور بلوچستان کے باسی حادثات میں بے موت نہ مارے جائیں لیکن پھر بھی بلوچستان کی ترقی اخبارات و جرائد کی شہ سرخیاں بن رہیں   ،یہ وہ ناانصافی ہے جسے اہل قلم کی موت کہہ سکتے ہیں جن کے قلم کی نوک تحقیق کے  صفحات پر حقوق اور انصاف کا خون بخوشی لکھتی  ہے۔

بلوچستان کے باسیوں کو ہمیشہ سے وفاق کی طرف سے چیک  کیا جاتا رہا ہے کہ کیا بلوچستان کے لوگ اپنے قانونی حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ نہیں ،کبھی بلوچستان کے ساحلِ سمندر اور ساحلی وسائل کو وفاق کے ماتحت کرنے کی بات کی جاتی ہے تو کبھی گوادر کو باڑ لگا کر کشمیر و فلسطین  بنانے کی باتیں ہوتی ہیں۔ اگر بلوچستان کی عوام اپنے قانونی حقوق کے لئے اُٹھ کھڑی ہو تو بلوچستان میں ایسی حکومت قائم کی جاتی ہے جو کہ غلامی کو اپنے گلے کا ہار سمجھتی ہے جیسے کشمیر کاز کو کمزور بنانے کے لیے بھارت نے کشمیری طالبان بنائے تاکہ وہ کشمیر کے مجاہدین سے لڑیں اور کشمیری عوام کا مقصد فوت ہوجائے بلوچستان میں بھی یہی صورت حال ہے جب بھی عوام اپنے حقوق کے  لیے آواز بلند کرتی ہے تو جام کمال جیسے لوگوں کو اس آواز کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے ، جو میٹھی زبان اور منافق دل سے حقوق و انصاف کی بولی لگا کر آقا کی گود کی زینت بنتے ہیں۔

ان دنوں گوادر کو سیکورٹی کے نام پر باڑ لگا کر چاروں طرف سے بند کیا جارہا ہے جو کہ گوادر کے باشندوں کے آزادانہ آمد و رفت اور آزادانہ کاروبار کی  حق تلفی ہے عمران خان نے تربت میں مکران کے لئے میگا پراجیکٹس کا تو اعلان کیا تھا مگر اس باڑ کو ان پراجیکٹس میں بیان نہیں کیا گیا تھا لیکن اس باڑ کو بھی عمران خان کے ان میگا پراجیکٹس کا حصہ بتایا جاتا ہے۔

گوادر سیف سٹی اور سیکورٹی کے نام پر گوادر کو باڑ لگانے کی کوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اسلام آباد کراچی، لاہور، راولپنڈی میں تو ترقی گوادر سے پہلے کی ہے اور ان شہروں میں جو دہشتگردی کے واقعات ہوئے پورا پاکستان اس بات سے آگاہ ہے مگر کبھی ہم نے نہیں سنا کہ اسلام آباد سیف سٹی کے نام پر اسلام آباد کو چاروں طرف سے باڑ لگائی  جائے گی، اور کراچی میں تو دہشتگردی کم ہوئی کیا؟ کراچی بندرگاہ سے لے کر سندھ اسمبلی تک دہشتگردی کے واقعات ہوئے لیکن کبھی بھی کراچی سیف سٹی کے نام پر کراچی کو باڑ نہیں لگائی  گئی ۔اسی طرح لاہور، راولپنڈی، میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے کبھی باڑ نہیں لگائی  گئی ۔۔گوادر میں ایک واقعہ کیا پیش آیا کہ گوادر کو یرغمال بنایا جارہا ہے ابھی باڑ لگے گی،چند سالوں بعد یہ مکران سے جدا کر کے وفاق کے منہ کا نوالہ بنے گا۔

گوادر بلوچ اور بلوچستان کا ہے خلیج فارس کے داخلی راستے پر واقع یہ شہر گوادر اہم تجارتی گزر گا ہ ہے گوادر کو اللہ تعالیٰ نے جہاں تجارتی گزر گاہ بنایا ہے وہیں  سمندری خوبصورتی اور نفع  بخش ساحل بھی دیا  ہے۔ گوادر پہاڑی اور بنجر علاقہ ہے انہی پہاڑیوں میں کوہِ باطل واقع ہے جو اس ہیمر ہیڈ کے اوپروالے کنارہ پر ہے جبکہ کوہ ِ مہدی جزیرہ نما کے مشرق میں واقع ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے  انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

وادی ء دشت یعنی کہ گوادر اپنے  خوبصورتی اور نفع  بخش ساحل کی وجہ سے مکران کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے گوادر پر بہت سی  سلطنتوں کی نظر رہی ہے یہ علاقہ ہزاروں سال تک فارس کے ماتحت رہا گوادر کے ساحل و وسائل فارس کے بادشاہ کاؤس اور افراسیاب کی نظروں  میں بھی کھٹکتے رہے۔

ملک محمد رفاقت حسین گوادر تاریخ کے پیرائے میں لکھتے ہیں کہ مؤرخین کے مطابق 325 قبل مسیح میں جب سکندرِ اعظم بر صغیر سے واپس یو نان جا رہا تھا تو اس کی بحر ی فوج کے ایک جنرل Admiral Nearchos نے اپنے جہاز مکران کی بندر گاہ پر لنگر انداز کیے۔ اس نے یہاں کے علاقے کو خشک اور لوگوں کو Ichthyophagoi (مچھلی خور) پایا اور فارسی کے فقرے ماہی خوراں (مچھلی کھانے والے) سے اس علاقے کا نام ماہی خوراں مشہور ہوا جو بعد میں بدل کر مکران ہو گیا- 303 ق م تک یہاں سکندرِ اعظم کے جنرل Selukos Nikator کی حکومت رہی جس کے بعد یہ علاقہ موریہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے اور کبھی اس پر رِندوں نے حکومت کی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچکیوں کو حکومت ملی، تاہم زیادہ تر حکمرانی میں بلیدی اور گچکی ہی رہے ہیں – جب گچکیوں کی حکمرانی خاندانی اختلاف کی وجہ سے کمزور پڑی تو خان آف قلات میر نصیر خان اوّل نے اس پر قبضہ کیا۔

1783 ء میں مسقط کے بادشاہ سلطان بن احمد کا اپنے بھائی سعد بن احمد سے جھگڑا ہوا۔ جس پر سلطان بن احمد نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی -چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آجانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لامحدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دی، جس کے بعد ابو سعد قبیلے سے تعلق رکھنے والے سلطان بن احمد نے گوادر میں آکر رہائش اختیار کر لی 1792 ء میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور عمان کی حکومت حاصل کر لی۔ 1804 ء میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا۔

جس پر مسقط سے فوجوں نے آکر اس علاقے کو وا گزار کرایا- 1838ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقے پر ہوئی اور برٹش حکومت نے گوادر کی بندرگاہ استعمال کرنے کے لیے سعد سلطان سے رعایت حاصل کی اور بعد میں1863ء میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا-

1954ء میں پاکستان نے امریکہ کے ادارے United States Geological Survey سے اپنی ساحلی پٹی کا سروے کروایا۔ USGSکے سروئیر ورتھ کانڈرک نے گوادر کو ایک ہیمر ہیڈ جزیرہ نما کے طو ر پر متعار ف کرایا جس رپوٹ کے مطابق گوادر قدرتی طور پر گہرے سمندر کی بندرگاہ (Deep see port) کے لیے انتہائی موزوں جگہ بتائی گئی۔

تاریخ اور جغرافیائی اعتبار سے گوادر کی اہمیت کو دیکھ کر پاکستان نے عمان سلطنت کے بادشاہ سعد بن تیمور سے باقاعدہ درخواست کی کہ گوادر پاکستان کو منتقل کیا جائے چار سال کے تبادلہ خیال کے بعد پاکستان نے عمان سے گوادر کا علاقہ 30 لاکھ ڈالرکے عوض میں خرید لیا۔

اس طرح 174 سال حکمرانی کے بعد 1958 ء میں عمان نے باقاعدگی سے گوادر کو پاکستان کے حوالے کیا۔

گوادر چونکہ چین اور پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہے جس کی وجہ سے یہاں کے بندرگاہ اور ساحل اہمیت کے حامل ہیں مگر افسوس کہ گوادر کے لوگوں غربت، مفلس اور دیگر معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ ایک ایک بوند پانی کے لیے ہزاروں مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی کے مطابق گوادر آنکڑا ڈیم سنہ 1990 کی دہائی میں 25 ہزار کی آبادی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن آبادی اب تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ڈیم کی گنجائش 50 فیصد سے کم ہو چکی ہے۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا اخباری بیان چند دن پہلے نظر  سے گزرا کہ سی پیک سے تین ارب لوگ فائدہ اٹھائیں گے سی پیک سے تین ارب لوگ فائده تو لیں گے مگر گوادر کے تین لاکھ لوگ کب سی پیک سے سکون کی سانس لیں گے۔؟

چین اور پاکستان اقتصادی راہداری کا اہم حصہ گوادر کے باسی تعلیمی  ادارے نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت سراپا احتجاج ہیں گوادر میں ابھی کوئی یونیورسٹی ہی نہیں، یہاں کے طلباء و طالبات کئی میل سفر کر کے تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں۔

بلوچستان کو ہمیشہ سے ساحل و وسائل کے باوجود بھی پسماندہ رکھا جانا کسی سازش سے کم نہیں گوادر کو باڑ لگانا گوادر کو فلسطین و کشمیر بنانا ہے۔۔ ‏امریکہ نے جنوبی ویتنام، فرانس نے الجزائر، بھارت نے مقبوضہ کشمیر اسرائیل نے فلسطین میں باڑ لگائی سب کا مقصد ایک ہے ،سکیورٹی نقطہ نظر، باڑ کلچر کی تباہی کشمیریوں، فلسطینیوں ویتنامی، الجزائریوں سے پوچھیں،گوادر کو جنوبی ویتنام کشمیر، فلسطین، الجزائر نہ بنایا جائے، بلکہ گوادر کے لئے قانونی اصطلاحات لائیں جس کی وجہ سے جہاں مقامی افراد کے لئے آسانیاں ہوں ، وہاں سیاحت کو بھی فروغ ملے۔

جب تک غاصبانہ سوچ اور ناانصافیوں کا راستہ اپنایا جائے گا تب تک گوادر اور سی پیک سے نہ ملک ترقی کر سکے گا نہ بلوچستان۔

Shopping Revolution

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *