شہر گریہ(قسط2)۔۔شکور پٹھان

حیرااں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
سمجھ نہیں آتا کہ اس شہر کا ماتم کہاں سے شروع کروں۔ دیوار گریہ تو اک ذرا سی ہوتی ہے۔ اونٹ کے کوہان کے مانند اس بے ہنگم شہر گریہ کی کون سی بات ، کون سا پہلو ایسا ہے جو دکھ نہیں پہہنچاتا۔ موسم کو نا مہربان ہم نے خود بنایا۔ اس کی ثقافت اور تاریخ کے ساتھ ظلم ہم نے کیا۔ وہ شہر جو کبھی پاکستان بھر میں علم و ہنر کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا اب اس کی پہچان نہاری ، بریانی اور پراٹھا کباب رہ گئے ہیں۔ بدذوقی اور بدمزاجی اب ساکنان شہر کا شعار بن کر رہ گیے ہیں۔
تاریخ اور ثقافت تو مان لیا کہ بھرے پیٹ والوں کی باتیں ہیں لیکن بنیادی انسانی ضروریات سے تو منہ نہیں موڑ سکتے اور انسانی ضرورت میں سب سے مقدم اس کی صحت وتندرستی ہے۔ جب انسان اس قابل بھی نہ رہے کہ اپنی نجاست اور غلاظت سے خود نجات حاصل کرسکے تو جان لو کہ یہ اس کے آخری دن ہیں۔ کون ہے جو اس بے کسی اور بے بسی سے پناہ نہیں مانگتا۔
دنیا میں کوئی ایسا شہر نہیں دیکھا جو اپنی گندگی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے سے ایسا لاچار اور بے بس ہو۔ یہ اعزاز اس شہر ناپرساں کے حصے میں آیا ہے کہ غلاظت کو ٹھکانے لگانے کے لیے غیروں کی طرف دیکھتے ہیں۔
نکمی اور بدعنوان ترین صوبائی حکومت، بے حمیت اور مفاد پرست شہری حکومت اور سب سے بڑھ کر نااہل اور ڈرامہ باز مرکزی حکومت ، سب ہی ایک بنیادی شہری سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ صوبائی حکومت کے نزدیک تو یہ شہر اس کا اپنا ہے ہی نہیں کہ یہاں کے لوگ اسے منتخب نہیں کرتے۔ شہری حکومت جو کبھی یہاں کے سیاہ وسفید کی مالک تھی اور جس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا اب اپنے آپ کو لاچار اور اپاہج تو ظاہر کرتی ہے لیکن بے شرمی اور بے حمیتی سے برسراقتدار قوتوں سے چمٹی رہتی ہے۔ رہی مرکزی حکومت تو یہ شہر اپنی تاریخ کے نااہل ترین نمائندوں کا منتخب کرنے کی سزا بھگت رہا ہے۔ ایک مسخرے سے اور فربہ اندام وفاقی وزیر نے کچھ عرصہ قبل بڑے بڑے دعوے کیے کہ ہم دو ہفتے میں شہر کو صاف کردیں گے۔ اس کے بعد وہ اور ڈرامے کرتے تو نظر آئے لیکن شہر میں کہیں نظر نہیں آئے۔
شہر کے نالے جو نکاسی آب کے لیے بنائے گئے تھے کچرے سےاٹے ہوئے ہیں اور سب سے بڑا عذاب پلاسٹک کی تھیلیاں ، خدا جانے ان سے ہم نجات کیوں حاصل نہیں کرتے۔ مجھے یاد ہے میری ماں اور محلے کے دوسرے بزرگ بازار سودا سلف لینے جاتے تھے تو ہاتھوں میں کھجور کی ٹوکری، پلاسٹک کی باسکٹ یا پٹ سن کا تھیلا ہوا کرتا تھا جس میں وہ سبزی گوشت، دالیں وغیرہ لاتے تھے۔ ہماری آج کی نسل کو یہ تھیلے باہر لے جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ غضب خدا کا اب تو سالن، نہاری، حلیم بریانی، دودھ دہی لسی اور کیا کچھ نہیں ہے کہ ان غلیظ پلاسٹک شاپرز میں نہ آتا ہو۔ آج سے کچھ سال پہلے مجھے شدید حیرت ہوئی جب گنے کا رس پلاسٹک شاپر میں پینا پڑا۔


پھر شہری اور صنعتی فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ دنیا اب اس کچرے سے بھی کمار ہی ہے۔ ری سائیکلنگ اب ایک باقاعدہ علم بن گیا ہے۔ یہاں عرب امارات میں پبلک مقامات پر ہر طرح کے کچرے کے لیے علیحدہ سے ڈبے ہوتے ہیں۔ پیپسی اور اس طرح کے ٹین کے کین کے لئے الگ، پلاسٹک اور ربڑ کے لئے الگ، کانچ اور شیشوں کے لئے الگ اور عمومی کچرے General Waste کے لئے علیحدہ سے ڈبے ہوتے ہیں ۔ کاغذ اور گتے جمع کرنے کا الگ نظام ہے، جنہیں مختلف مشینوں سے ری سائیکل کرکے مختلف مصنوعات کی شکل میں ڈھا لا جاتا ہے۔
سیوریج کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں البتہ اسے سمندر میں پھینک کر آلودہ ضرور کررہے ہیں۔ کیا کراچی اتنا غریب شہر ہے کہ وہ اپنے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی نہیں لگا سکتا کہ گندے پانی کو صاف کرکے، باغوں، درختوں وغیرہ کے لیے قابل استعمال بنایا جاسکے۔ شرم آتی ہے جب سمندر کنارے اس شہر کے باسی پینے کے پانی کے لیے ترستے ہیں اور ٹینکر مافیا، واٹر بورڈ اور نہ جانے کس کس کے ہاتھوں یرغمال بنے رہتے ہیں۔ کراچی کی آبادی اگر دو کروڑ بھی مان لی جائے اور اگر فی کس ایک ایک ہزار بھی جمع کیا جائے تو صرف ایک وقت میں بیس ارب روپے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ سمندر سے کھاری پینے کو میٹھا بنانے والے Water Desalination Plant پر کتنی لاگت آتی ہے لیکن عرب کے تمام تر صحرا میں کہیں بھی پانی کی کمی نہیں اور یہ سارا پانی سمندر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اللہ جانے کبھی ہم نے اس امکان پر غور بھی کیا ہے یا نہیں اور کیا چیز ہے جو اس پلانٹ کے قیام کے آڑے آتی ہے۔
یہ گندگی اب کراچی کی پہچان بن گئی ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے جب وہ بھی ہمیں طعنہ دیتے ہیں جنکی زندگیاں رفع حاجت کے لیے کھیتوں اور جنگلوں میں جاتے گذر گئیں۔ جنہوں نے ہم سے تمیز اور تہذیب سیکھی وہ آج ہمارا ہی مذاق اڑاتے ہیں اور کچھ غلط بھی نہیں کرتے کہ ہم نے ہی خود کو اس حال کو پہنچایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شہر کبھی علم وادب کا مرکز تھا۔ جب بھی کراچی کا ذکر ہوتا تو پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہوتی۔ اب بھی یہاں تعلیم میسر ہے مگر کس طرح ؟ ماں باپ کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے بچوں کے لیے تعلیم کے وسائل مہیا کرنے میں ۔ زندگی کے تارو پود کو جوڑے رکھنا ویسے ہی جان جوکھوں کا کام ہے ۔ دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں اس پر بڑی جماعتیں تو ایک طرف، نرسری اور پرائمری کی فیسیں ہزاروں میں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ سرکاری اسکول نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ ایک وقت تھا کہ “ پیلے اسکول” اس شہر کی شان ہوا کرتے تھے۔ یہاں سے بہترین طالبعلم، ہنرمند ، کھلاڑی اور فنکار نکلتے تھے۔ آپ کراچی کے آج سے نصف صدی قبل کے کسی بھی تعلیمیافتہ شخص سے پوچھیں تو وہ بڑے فخر سے بتائے گا کہ وہ گورنمنٹ اسکول ناظم آباد، گورنمنٹ اسکول، کوتوال بلڈنگ، جہانگیر روڈ، کلیٹن روڈ وغیرہ کا پڑھا ہوا ہے۔ میری زندگی کا پہلا اسکول گورنمنٹ اسکول بہار کالونی تھا۔ بہار کالونی جو کراچی کی پسماندہ ترین بستی تھی ، اس کے اسکول میں جہاں ہمیں کوئی فیس بھی نہیں دینا پڑتی تھی، اس اسکول میں ٹیبل ٹینس کی میز، والی بال کورٹ، اسکاؤٹس کے لیے سنگینوں والی بندوقیں اور لائبریری وغیرہ میسر تھیں۔ آج کے سرکاری تو ایک طرف، ہزاروں لاکھوں فیسیں لینے والے “ لٹل بو پیپ” “ لٹل فوکس” قسم کے اسکولوں میں ایسی سہولیات کا نام و نشان بھی نہیں۔
شہر کے تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیاں سارا سال جاری رہتیں۔ انٹر اسکول، انٹر کالج کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کے مقابلے، مباحثے، کوئز پروگرام، مقابلہ حسن قرات ونعت خوانی، موسیقی اور ڈرامے اور ان جیسی سرگرمیاں تھیں جن سے ظہیر عباس، محسن خان، صلاح الدین، اصلاح الدین، صفدر عباس، ظہورالحسن بھوپالی، دوست محمد فیضی، ندیم، اخلاق احمد، مجیب عالم، پروین شاکر، خوش بخت عالیہ ،طلعت حسین، جمشید انصاری، وحید ظفر قاسمی جیسے لوگ سامنے آئے۔
شہر میں جگہ جگہ معیاری لائبریریاں جویان علم کی توجہ کا مرکز ہوتیں۔ برٹش کونسل لائبریری، امریکن سینٹر، لیاقت نیشنل لائبریری، رباط العلوم ، غالب لائبریری وغیرہ اس شہر کی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کی آبیاری کرتیں۔ اب اس شہر میں آپ کسی سے پوچھیں کہ فلاں لائبریری کہاں ہے تو شاید ہی کوئی پتہ بتا سکے البتہ اگر آپ جاوید یا زاہد کی نہاری، وحید کے کباب، گھسیٹے خان کی حلیم اور دہلی ربڑی ہاؤس کا پتہ پوچھیں تو بچہ بچہ آسانی سے سمجھادے گا۔ اب شہر کے سنجیدہ لوگ بھی ابن صفی، نسیم حجازی، اے آر خاتون ، رضیہ بٹ، کرشن چندر، منٹو اور عصمت چغتائی وغیرہ کے بجائے میرٹھ کباب اور بٹ کڑاہی پر اظہار خیال کرتے دکھائی دینگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی ترقی یافتہ شہر کی سب سے بڑی پہچان اس کاٹریفک کا نظام ہوتا ہے۔ اس معاملے میں اگر تنزلی کی بدترین مثال دیکھنی ہو تو میرے شہر سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوگی۔ دنیا کا ایسا کونسا ذریعہ آمد ورفت ہے جو اس شہر کو میسر نہیں تھا۔ پورے شہر کا احاطہ کرتی سرکلر ریلوے، اندرون شہر چلنے والی ٹرام سروس، شہر کے ہر کونے سے سے چلنے والی اور پورے شہر کو مربوط رکھنے والی بسیں، میٹر کے مطابق چلنے والی ٹیکسیاں اور رکشے، چھوٹے فاصلوں کے لیے تانگے، کلفٹن، فرئیر ہال وغیرہ کی ہوا خوری کے لیے وکٹوریہ جیسی شاہی سواری اور تو اور منوڑہ جانے کے لیے لانچ سروس۔ بس کمی تھی تو شہر کے درمیان ہیلی کوپٹر اور ہوائی سروس کی۔ وہ بھی ناممکن نہیں تھی کہ ماری پور، ڈرگ روڈ، کورنگی کریک میں بھی ہوائی اڈے تھے۔ ( قیام پاکستان سے پہلے کراچی میں چودہ ہوائی اڈے تھے جو زیادہ تر جنگ عظیم دوم کے دوران امریکیوں نے قائم کیے تھے۔بحوالہ سرگزشت از زیڈ اے بخاری)۔
اور آج کیا حال ہے۔ سرکلر ریلوے اور ٹراموے سروس زمانہ ہوا متروک ہوگئیں۔ ویگنوں والی مافیا نے شہر کی موثر ترین بس سروس کا خاتمہ کردیا۔ رکشاؤں اور ٹیکسیوں سے میٹر غائب ہوگئے۔ اب اس شہر کے بے ہنگم ٹریفک میں صرف رکشہ، موٹر سائیکلیں، پرائیوٹ گاڑیاں ایک طوفان بدتمیزی مچائے ہوئے ہوتی ہیں۔ جہاں ایک بس ساٹھ سے ستر لوگوں کو جگہ دیتی تھی وہاں اب ساٹھ موٹر سائیکلیں اور کاریں سڑک پر نظر آتی ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ منٹوں کے فاصلے گھنٹوں میں طے ہوتے ہیں۔ فضائی اور صوتی آلودگی الگ شہریوں کی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ ملتان جیسے گور وگورستان والے شہر میں بھی میٹرو چل رہی ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک، ہمارے شہر میں میٹرو کی تعمیر بھی رینگ رینگ کر نہ جانے کب سے ہورہی ہے اور اللہ جانے یہ کبھی مکمل بھی ہوگی یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصہ غم ابھی مکمل نہیں ہے۔ اپںی آہوں اور آنسوؤں کو ابھی روکے رکھئیے۔ اس شہر ناپرساں کا نوحہ ابھی آدھا بھی نہیں ہوا۔
تب تک کوئی کاندھا تلاش کرلیں جس پر سر رکھ کر آنسو بہالیں۔

جاری ہے

Shopping Revolution

Avatar