پاپی پیٹ پہ سوال ۔۔سلیم مرزا؟

پیٹ پہ تنقید کرنے والے موٹے پیٹ کی خصوصیات پہ یقین نہ کریں تو پیٹ کو کیا فرق پڑے گا ۔؟
محبت اور پیٹ کو زمانے کی پرواہ کب ہے ۔؟
اور ویسے بھی فن اور پیٹ کا رشتہ صدیوں سے زندگی کی اساس شمار ہوتا ہے ۔کسی بڑے فنکار کا چھوٹے پیٹ سے گزارہ ہے ہی نہیں ۔ہلکا پیٹ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اس شخص کی فکری صلاحتییں محض دماغ تک ہی محدود ہیں ۔اس کے پیٹ میں کوئی بات کہاں ٹکتی ہوگی ۔نہ ہی وہ کسی کو پیٹ سے کپڑا اٹھا  کر دکھا سکتا ہے کہ دیکھو تخلیقی خیالات سے “تنی “تک ہموار ہوگئی ہے ۔
اور تو اور اس کے پیٹ پہ منہ رکھ کے “پڑووں “کی آواز سے بچے بھی خوش نہیں کیے جاسکتے ۔
ایسا شخص کبھی اپنے غم اور خوشی ٹڈھ کھول کر بیان نہیں کر پاتا ۔

عورتوں کو ہر معاملے میں خود کو بہتر ثابت کرنے کا زعم ہوتا ہے ،ورنہ مردوں کے پیٹ کی ویلیو، عورتوں کے قلیل مدتی پیٹ سے زیادہ ہوتی ہے ۔ صاف پتہ چلتا ہے “صاحب کھاتے پیتے مصروف آدمی ہیں”

اور خواتین کا موٹاپا اس بات کا حامل ہوتا ہے کہ مسکینہ طویل مدت سے ویہلی ہیں اور حکومت کی طرح آئندہ بھی کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔

میرے پیٹ پہ رائے زنی کرتی خاتون کم ازکم ابن فاضل کو ہی دیکھ لیتی ۔ ان کی سائٹ خوشحال پاکستان اس بات کی ثبوت ہے کہ انہیں پاکستان اور اس کے ٹیلنٹ سے کتنی شدید محبت ہے۔ مرغی چوری سے لیکر غیر منکوحہ مرغی سے انڈے لینے تک کی ترکیب ان کے پیج سے مل سکتی ہے۔
ان کی تحریروں سے انفرادی سطح پر ہونے والی معاشی کامیابیاں اجتماعی ترقی کا سبب بنی ہیں ۔
انتہائی اسمارٹ اور ذہین سوچ رکھنے کے باوجود پیٹ تو ان کا بھی ہلکا سا باہر ہے ۔
یہ الگ بات ہے کہ وہ ہر ملاقات میں مجھے کچھ کرنے کا مشورہ اس انداز سے دیتے ہیں کہ مجھےلگتا ہے،میری وجہ سے ملک آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہے ۔

جناب ٹیکنیکل ، کیمیکل انجینئر اور انڈسٹریل گائنا کالوجسٹ ہیں ۔ہر مشین کی پیداواری صلاحیت کا انہیں ایسے پتہ ہوتا ہے جیسے وہ صنعتی دائی ہوں ۔
بڑی بڑی انڈسٹریل مشینوں کے چھوٹے چھوٹے بچے میں نے خود ان کے لیبر روم میں دیکھے ہیں ۔
پولیٹکل انجینئرنگ پہ بھی ان کی گہری نظر رہتی ہے ۔ان کے اسی “مستر پنے” کی وجہ سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اب تک ایک بھٹی میں بھاڑ جھونک رہے ہیں ۔
پڑھے لکھے اتنے ہیں کہ ان کی ڈگریاں گدھے پہ لاد دیں تو وزیر تعلیم لگ جائے ۔اور وزیر تعلیم پہ لاد دیں تو وہ ۔۔؟
یہ میں نے پوچھا نہیں ۔

اردو ادب میں خالد ندیم شانی جتنا بڑا شاعر ہے اس سے سوا دوگنا بڑا انسان بھی ہے ۔محبت کی نرم مہکی مٹی سے گندھا یہ شاعر گندھارا تہذیب کے سُر میں غزل اور نظم کو جدتیں بخش رہا ہے ۔شانی میرا وہ دوست ہے جسے ہر وقت میری عجت لٹنے کا ڈر رہتا ہے ۔شانی میری طرح پیٹ کا ہلکا نہیں ہے ۔بس اس کا پیٹ صرف اس کی ہنسی نہیں چھپا سکتا ۔ لطیفہ سن لے تو شانی پانچ منٹ ہنستا ہے،۔پیٹ دس منٹ ہلتا رہتا ہے ۔
شانی کی غزلوں میں معنویت ،تغزل اور تکنیکی خوبصورتی اس بات کی غماز ہے کہ وہ بھرے پیٹ سے لکھتا ہے ۔
اس کا مشہور شعر
“خط کے چھوٹے سے تراشے میں   نہیں آئیں گے ”
اس وقت وقوع پذیر ہوا جب اس نے پانچ کلو آم خریدے ۔اور دکاندار نے شاپر چھوٹا لگا دیا ۔تب شانی نے کہا
“امب زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے ”

جب مجھے میری عزت کا احساس دلانے کیلئے بے عزتی کرتا ہے تو قسم۔لے لیں کبھی میرا ہاسا نکلا ہو۔
پاس کھڑے لوگ ہنستے ہیں ۔۔

عمران نیازی اور عطاءاللہ کی طرح خالد شانی بھی میانوالی کا ہے۔اس کی سرائیکی شاعری اور بزدار دونوں مجھے سمجھ نہیں آتے ۔مزہ بہت آتاہے۔اور مجھے یقین ہے پہلے دونوں کی طرح یہ دونوِں بھی جس دن سمجھ آگئے مجھے رونا بہت پڑے گا ۔
شانی دوستوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔اس کے پیٹ میں اتنے راز ہیں کہ ہرا بھرا لگتا ہے ۔
لہذا یاد رکھیں بڑا پیٹ بہترین ادب اور خوشحال پاکستان کی علا مت ہے ۔
یقین نہ ہو تونیازی اور نواز کا “ٹڈھ ” ماپ لیں ۔
اندازہ ہوجائے گا!

Shopping Revolution