شہرِ گریہ(قسط1)۔۔۔شکور پٹھان

“ یہ مچھر دانی کہاں لئے جارہے ہو” امی نے حیرت پوچھا۔
“ باہر چارپائی پر لگاؤں گا”
“ اتنی اچھی ہوا چل رہی ہے، مچھر کہاں ہیں “
“ اسی لیے تو لے جارہا ہوں۔ ہوا سے ٹھنڈ لگتی ہے”
یہ گرمیوں کے دن تھے۔ رات ہوتے ہی کھلے صحن میں چارپائیاں بچھ جاتیں۔ میں چارپائی اٹھا کر گلی میں لے آتا کہ وہاں دوچار اور دوستوں کی چارپائیاں بھی ہوتیں اور ہم گپ شپ کرتے ہوئے نجانے کس وقت نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔کورنگی کی ہوا میں اللہ جانے کیا جادو تھا کہ بجلی نہ ہونے کے باوجود بھی شدید گرمیوں میں باہر صحن میں چارپائیوں پر دری اور چادر بچھا کر اور تکیے پر سر رکھتے ہی ہم نیند کے مارے جھومنے لگتے۔

اب ہم نے نیا تماشہ شروع کیا تھا۔ ہم چارپائیاں گلی سے باہر جو چھوٹا سا میدان تھا ، وہاں لے جاتے۔ اور یہ میدان بھی عجیب سا تھا۔ گلی ختم ہوتے ہی اس میدان میں بائیں جانب کچھ ہٹ کر مسجد تھی اور سامنے کی جانب کوارٹروں کا دوسرا سلسلہ تھا جو بس اسٹاپ تک چلا جارہا تھا۔ لیکن دائیں یعنی مشرقی جانب ایک لامتناہی میدان تھا جو نہ صرف کورنگی بلکہ لانڈھی چھ نمبر تک چلا جارہا تھا۔ بیچ میں پانچ نمبر پر کہیں شیریں سنیما تھا جہاں بس سے جانا پڑتا تھا۔ بہت بعد میں تین نمبر پر گورنمنٹ کمپری ہینسئو ہائی اسکول بن گیا تھا۔
لیکن گلی کے دوسرے کونے پر یہ میدان اور بھی عجیب تھا۔ ہماری گلی کے بعد کوارٹروں کی دو اور لائنیں تھیں اور اس کے بعد رہے نام اللہ کا۔ دوسری لائن ختم ہونے کے بعد ایک سڑک تھی جو پتہ نہیں کہاں سے آتی تھی اور کہاں تک جاتی تھی۔ لیکن یہ سنسان پکی سڑک تھی جس ہپر کبھی کبھار کوئی ٹرک گذر جاتا یا جماعت اسلامی کی میت گاڑی قبرستان جاتی دکھائی دیتی۔ سڑک کے اس پار ایک طویل میدان پھر اس سے بھی طویل پہاڑی سلسلہ جس کے اختتام پر ابراہیم حیدری گوٹھ کے چند ایک مچھلی اور جھینگے خشک کرنے کے کارخانے تھے جو سمندر کے ساتھ بنے تھے۔۔اور پھر سمندر تھا اور اس کا دوسرا کنارا۔ اب خدا ہی جانے وہاں ہندوستان کا کون سا ساحل تھا۔ دوارکا، کچھ مانڈوی، سورت یا بمبئی۔

میں نے بارہا اس میدان اور پہاڑی اور سمندر کا ذکر کیا ہے۔ اور اس ہوا کا بھی ذکر کیا ے جو کورنگی کیا کراچی میں بھی اسی طرح چلا کرتی تھی۔ پھر میں نوکری کے لیے پردیس چلا گیا۔ ہر سال گھر کا چکر لگاتا۔ دوچار سال بعد آیا تو دیکھا کہ گلی کے دائیں کونے کے بعد جو میدان تھا، جو سمندر تک چلا جاتا تھا ، وہاں شکارپور سندھ سے آئے ہوئے ایک سائیں نے جو اے ایس ایف یعنی ائرپورٹ سیکیورٹی فورس میں اے ایس آئی یعنی اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھے وہاں بیچ میدان ایک اچھی خاص زمین گھیر کر اپنا آشیانہ تعمیر کرلیا ہے۔ یہ زمین کسی کی نہیں یعنی سرکار کی تھی۔ اس زمانے میں سرکار بھٹو سائیں کی تھی اور ہمارے محلے میں بھٹو سائیں کے بہت سے حامی موجود تھے اور اس اے ایس آئی کے دوست تھے چنانچہ وہ اطمینان سے اپنے گھر میں رہتے تھے۔

اگلے سال ان سے کچھ آگے، جو ہمارے گھر کی اگلی گلی تھی، جس کے آگے کا میدان لانڈھی تک چلا جاتا تھا وہاں ایک اور گھر تعمیر ہوگیا اور گھر کے ساتھ بہت سارے احاطے میں بغیچہ بھی لگ گیا۔ یہ زمین بھی کسی لکھت پڑھت کے بغیر حاصل کی گئی کہ ان کے سامنے جو کونے والا کوارٹر تھا جس میں جو پنجاب سے آئے صاحب رہتے تھے اور نیوی میں کام کرتے تھے اور اپنی جسامت سے پہلوان لگتے تھے اور جن کی اسلم ، بھولو پہلوان وغیرہ سے بھی دوستی تھی اور جن کے ہاں اکثر محلے کا ایک بدمعاش ڈیرا جمائے ہوتا جس نے اپنی پنڈ لی سے ایک بہت بڑا تیز دھار خنجر باندھ رکھا تھا۔ اس تیز دھار خنجرکی نمائش اس نے اس وقت کی تھے جب وہ ہمارے ہاکی میدان کے سامنے سے گذر رہا تھا تو ہمارے کسی ساتھی نے اس پر کوئی جملہ کسا تھا اور اس نے وہاں رک کر اپنی شلوار کا ایک پائنچہ گھٹنوں تک کھینچ کر پنڈ لی پر چمڑے کی نیام نما چیز سے خنجر کھینچ کر نکالا ، باہر نکال کر انگلی پھیر کر اس کی دھار جانچی اور دوبارہ نیام میں رکھ کر ایک نظر ہماری جانب دیکھا اور شلوار نیچے کرکے آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد جب بھی وہ ہمارے سامنے سے گذرتا تو ہم سب اسے سلام کرنے میں پہل کرتے۔

پھر یہ “ ویرانہ “ آباد ہوتا چلا گیا۔ جب مکانات کی تعمیر مشرقی میدان کی طرف ہونے لگی تو ہمارے کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کے میدان یکے بعد دیگرے غائب ہوتے گئے۔ اور پھر یہ سلسلہ جنوب میں پہاڑی کی طرف بھی شروع ہوگیا۔ کچھ سالوں بعد پہاڑی بھی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوتے غائب ہی ہوگئی۔ یہاں ایک کے بعد ایک غیر قانونی کالونی قائم ہوتی گئی۔
کچھ عرصے بعد ہم نے کورنگی کا گھر چھوڑ دیا اور گلشن اقبال آگئے۔ دوتین سال بعد ایک نوجوان پڑوسی کا انتقال ہوا تو میں تعزیت کے لیے کورنگی گیا۔ دو نمبر بس اسٹاپ پر تو یوں اتر گیا کہ کنڈکٹر نے آواز لگا کر بتادیا تھا لیکن جب سڑک اور پلیا پار کرکے اپنے کوارٹروں کی طرف چلا تو بری طرح چکرا گیا۔ گلی کے بائیں جانب جو میدان تھا جہاں ہم چارپائیاں بچھا کر سوتے تھے وہ اب مسجد کے احاطے میں شامل تھے جس کے باہر بہت ساری دکانیں بن گئی تھیں۔ مجھے اپنی وہ گلی جہاں بچپن کھویا تھا ، پہچاننے میں سخت دقّت ہوئی۔ وہ میدان جو لانڈھی تک چلا جاتا تھا اب وہاں کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ نہ ہی پہاڑی والی جگہ پر کوئی جگہ خالی تھی۔ اب یہاں بجلی تھی اور گھروں میں پنکھے بھی تھے لیکن سخت گھٹن محسوس ہوئی۔باہر بھی ہوا کا نام و نشان نہ تھا۔ وہ ہوا جس کی مثال ہم شہر والوں کے سامنے فخر یہ دیا کرتے تھے۔

گلشن اقبال میں ایکسپو کے مقابل ہمارے فلیٹ جو تیسری منزل پر ہے ، اس کی گیلری میں ہمیں ویسی ہی کورنگی جیسی ہوا ملتی کہ یہ مغرب کی جانب کھلتی ہے۔ ہم جب اپنے مہمانوں کو گرمیوں میں کبھی کھانے کے بعد کہتے کہ چلو کچھ دیر بالکونی میں تازہ ہوا کھاتے ہیں تو مہمان کچھ دیر میں غنودگی کے عالم جھومنے لگتا۔ ہمارے سامنے دوسری جانب سوک سینٹر ہے لیکن جب ہم یہاں آئے تو سوک سنٹر، یونیورسٹی روڈ، اسٹیڈیم روڈ وغیرہ کی اس بڑی سی چورنگی میں گھاس اگی ہوئی تھی اور یونیورسٹی روڈ پر آنے جانے والی سڑکوں کے بیچ جسے ٹریفک آئی لینڈ کہتے ہیں، بڑے سارے گھنے درخت تھے جن کے سایہ میں رہ گیر سستاتے، فقیر آرام کرتے، موچی اور حجام وغیرہ اپنی دکانیں لگاتے۔ اور یہ چورنگی کا بغیچہ اور سڑک کے درمیان اور کنارے لگے درخت ہمیں ٹھنڈی ٹھنڈی خمار آلود ہوا کے نشے میں غرق رکھتے۔

پھر پہلے یہ چورنگی ختم ہوئی، وہاں سگنل لگ گیا، پھر سگنل بھی ہٹا دئیے اور بڑا سارا فلائی اوور بن گیا۔ سڑک کے درمیان والا ٹریفک آئی لینڈ اور درخت ختم کردئیے گئے اب وہاں سمنٹ کا فٹپاتھ اور جنگلے بن گئے۔ سبزہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ ہر جانب سیمنٹ ہی سیمنٹ ، جماہوا، سخت سیمنٹ، سیمنٹ کی عمارتیں اور سیمنٹ جیسے ہی جذبات سے عاری لوگ۔
اور اب جب گرمیاں آتی ہیں تو کراچی والے رب کے حضور گڑگڑاتے ہیں کہ خیریت سے گذر جائیں۔ اب سے دوتین سال پہلے کے رمضان کس کو یاد نہیں جب ہزار سے زیادہ جانیں اس گرمی کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں۔ کنکریٹ کے اس جنگل میں اگر درجہ حرارت چالیس ہو تو اس کا اثر پچاس درجے کا ہوجاتا ہے کہ ہر جانب سمنٹ اور پتھر تپ کر اس گرمی کو دوگنا کردیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ میرے شہر کا ساحل سینڈز پٹ ہے ۔ ہمارے کئی رشتہ دار مل کر یہاں پکنک منانے آئے ہیں۔ کوئی پانی میں اٹکھیلیاں کررہا ہے تو کوئی سمندر کنارے گیلی ریت پر دوڑ رہا ہے۔ کوئی گیلی مٹی سے گھروندے بنا رہا ہے۔
“ ارے زمین ہل رہی ہے” یہ اکبر کی آواز ہے۔
اکبر کشمیری ہے اور میری پھوپھی کے گھر کام کرتا ہے۔ اکبر اور دو بچے ریت پر ابھری ایک چھوٹی سی چٹان پر کھڑے تھے۔ اب زمین ہلتی سب کو نظر آرہی ہے۔ کچھ دیر میں وہ چٹان اوپر کی جانب اٹھتی نظر آرہی ہے۔ اکبر اور بچے چیخ مار کر نیچے اتر آتے ہیں۔ اب وہ دور آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔
ارے یہ کیا!! سب کی ملی جلی چیخیں سنائی دے رہی ہیں ۔ چٹان کے ایک جانب سے ایک اور چھوٹی سی چٹان ابھر رہی ہےہے جس کی آنکھیں بھی ہیں ۔ ارے، !! اب یہ چٹان سمندر کی جانب چل رہی ہے۔

جی ہاں یہ چٹان ایک بڑا سارا “ سبز کچھوا” ہے۔” گرین ٹرٹل” جو کراچی کے ساحل کی خاص پہچان تھا اور اب یہ معدوم ہوتا جارہا ہے جسے انگریزی میں Endangered especies کہتے ہیں ۔جن کی خصوصی نگہداشت کی جاتی ہے۔ لیکن اب یہ منظر کراچی کے ساحل پر نظر نہیں آتا کہ جہاں یہ کچھوے انڈے دینے آتے تھے وہاں متمول شہریوں اور سرکاری محکموں نے اپنے مہمانوں کو ٹھہرانے کے لیے بنگلے نما ہٹس تعمیر کردئیے ہیں۔

کراچی ، جس کا ساحل اس کی پہچان ہے۔ کلفٹن اور منوڑہ کا بیڑا غرق تو میں نے، تم نے مل کر کیا ہے کہ وہاں تفریح کے لیے جاتے ہیں اور اپنا سارا گند بلا وہیں کنارے چھوڑ جاتے ہیں کہ بعض جگہ یہ کوڑے خانے کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہاکس بے، سینڈس پٹ، پیراڈائز پوائنٹ، نیلم پوائنٹ وغیرہ کے پاس بڑی بڑی تعمیراتی کمپنیاں فلک بوس عمارتیں تعمیر کررہی ہیں جہاں ایک طرف آبی حیاتیات Sea Life معدوم ہوتی جارہی دوسری جانب شہر کی سمندری ہوا کا راستہ روک کر شہر کو اس تازہ ، خوشگوار، ٹھنڈی ہوا سے محروم کررہے ہیں جہاں اب لوگ گرمی سے مرنے لگے ہیں۔ ایسی موت جس کا چند عشرے پہلے تصور بھی نہیں تھا۔

اور اس نیک کام میں ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے، سب ہی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ دولتمند افراد اور تعمیراتی کمپنیاں ساحل کے ساتھ ساتھ تعمیرات کررہی ہیں تو ہمارے مہربان دفاعی ادارے، ڈی ایچ اے کے نام پر زمین کو سمندر کے اندر بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔ نام نہاد ملیر ندی جو ڈیفینس اور قیوم آباد کے درمیان سے گذر کر سمندر میں جاگرتی ہے/تھی۔ اب اس کا پاٹ دن بدن تنگ ہوتا جارہا ہے کہ ڈی ایچ اے وہاں اپنی مرضی سے تعمیرات کررہی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ شہری اداروں اور ماہرین ماحولیات کی بھلا کیسے سنیں گے۔ دوسری طرف ٹمبر مافیا ہے جو ساحل کے ساتھ بسے خوبصورت اور گھنے جنگلات Mangroves کی کاٹ چھانٹ میں لگی ہوئی ہے۔ اور اس شہر ناپرساں میں کوئی نہیں ہے جو انہیں روک سکے،۔ ایک کمزور سی عورت کی مضبوط سی آواز تھی جسے گولیوں کا نشانہ بنا کر خاموش کردیا گیا۔ اب جو آواز اٹھانا چاہے اسے پروین رحمان کا انجام یاد آجاتا ہے۔

سمندر کنارے آباد اس شہر سے اس کی ٹھنڈک، اس کی خوبصورتی، اس کے موسم چھین لینے کی ایک طویل داستان ہے۔ ساحل کو کوڑے دان میں تبدیل کرنے والوں نے اس شہر کی ثقافت، تعلیم، صحت، آمدورفت، رواداری، محبت کو کس طرح ایک Endangered Especy بنادیا اس کی کہانی کی یہ ابتدا ہے۔
رونے پہ اگر آؤں تو دریا کو ڈبو دوں
قطرہ کوئی سمجھے نہ مرے دیدۂ نم کو!

جاری ہے

Shopping Revolution

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔