انٹرنیٹ – بیری امن۔۔ایس معشوق احمد

ہمارے ہاں جمہوریت کی پاسداری کرتے ہوئے حق رائے دہی کا منظم پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن اور غیر ممکن کوشش کی گئی۔ تشہیر ، پرچار اور اعلانات تو بہت پہلے سے ہو رہے تھے کہ فلاں کو ووٹ دو وہ نوکری دے گا ، بے روزگاری کا خاتمہ اور خوشحالی لائے گا۔حال تو نہیں بدلا البتہ بے حال اکثر لوگ ہوئے۔ایسے ہی بے وقوف بنانے کی مہم سات دہائیوں سے جاری وساری ہے اور ہم سات دہائیوں سے اپنی بے وقوفی کا خوشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں اور اس خوشی میں مگن مثل ملنگ رقصاں ہیں۔سرکس کے جوکر بھی ہم خود ہیں اور وہ مداری بھی خود جو مختلف قسم کے تماشے دکھا کر لوگوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ووٹنگ سے پہلے دو تبدیلیاں ہوئیں۔ایک یہ کہ ہر سڑک کے دونوں کناروں پر دن رات مصلح افواج کو تعینات کیا گیا جو ہر آنے جانے والے سے ایسے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جیسے کسی جان پہچان والے کے ساتھ ہنسی مذاق کیا جاتا ہے۔گاڑیوں کو روک کر باضابطہ قطار اندر قطار بڑے منظم طریقے سے روکے رکھا جاتا ، ہر ایک ڈرائیور اور سواری کی خیر و عافیت پوچھی جاتی۔ گھر والوں کے نام پتے کے ساتھ پورے محلے کی خیریت دریافت کرنے کے بعد جب تک مطمئن نہیں ہوجاتے کہ یہ صحت سلامت اور گھر والے خیر و عافیت اور محلے والے خوش باش ہیں تب تک گاڑی کو ہلنے تک کی اجازت نہیں تھی۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ کسی کے گلے سے زور دار آواز نکلتی یا ہڈیوں میں درد ہوتا اس کا گلا دبا کر اس کی آواز کو دھیما کرتے اور خوب مالش کرتے۔ اس بچارے کے سارے درد اس طرح غائب ہوجاتے جیسے آیورویدک دوائی کھانے سے بیماری کی جڑ ختم ہونے کی امید ہوتی ہے۔ جو امید ہی رہتی ہے حقیقت نہیں بن پاتی۔

دوسری تبدیلی یہ کی گئی کہ جو انٹرنیٹ ٹو جی کی رفتار میں رینگ رینگ کر چل رہا تھا اس کو رینگنے کی تکلیف سے نجات دی گئی اور اس کو مکمل بند کیا گیا۔ اعلی حکام کو انٹرنیٹ کا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر چلنا تکلیف دے رہا تھا ۔ ان سے انٹرنیٹ کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اس لیے فوراً علاج کی خاطر اسے دو چار دن آرام سے رہنے کے لیے غائب کر دیا گیا۔انٹرنیٹ چلتے رہنے سے جمیوریت کو خطرہ اور ووٹنگ پر اثر پڑھتا اس لیے اس کو بند کیا گیا تاکہ جمہوریت کی ناک سلامت رہے اور ووٹنگ کی رفتار بھی تیز رہے۔دوسری اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اعلی حکام نے سوچا کہ کرونا اور سردی میں لوگوں کو کیسے باہر نکالا جائے۔کسی دانا عاقل نے یہ تجویز دی ہوگی کہ میاں انٹرنیٹ کو در لیا جائے۔لوگ آرام سے گھروں میں بیٹھ کر دنیا کی خبر رکھ رہے ہیں۔ فیرن پہن کر کانگڑی کے ساتھ رشتہ استوار کرتے ہوئے اور نمکین چائےکی چسکیاں لیتے ہوئے گھروں میں آرام سے فون کے ساتھ مصروف ہیں۔اگر انٹرنیٹ کو جلد از جلد قید خانے میں نہ ڈالا گیا تو لوگوں کے باہر آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔دانا عاقل کی بات کو مانا گیا اور بچارے انٹرنیٹ کو لاپتہ کیا گیا۔

انٹرنیٹ کے بند ہونے سے شاید اب جمہوری طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔اگر اس کو کھلا چھوڑ دیا جاتا تو پاگل اور گھائل شیر کی طرح سینکڑے کے حساب سے نہیں بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کو زخمی کرتا۔ لوگ زخمی ہوتے تو ووٹنگ پر اثر پڑتا۔اگر ووٹنگ پر اثر پڑ جاتا تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی۔جمہوریت کو بچانے اور ملک کی سلامتی کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کو بند رکھا جائے۔ اگر خدانخواستہ اس کو چلتے رہنے دیا گیا تو ملک پر آفت آئے گی اور لوگ مختلف قسم کی مصیبتوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔

ہوا سے درختوں کے پتے سرسراہٹ کرنے لگ جائے تو خطاوار اور سیاہ کار انٹرنیٹ کو بند کر دیا جاتا ہے۔آزادی کا جشن منانا ہو یا کسی منسٹر ،منتری کی ریلی ہو انٹرنیٹ کو امن کی خاطر حراست میں لیا جاتا ہے۔فائرنگ ہو یا کوئی ایسا واقعہ تو بیچارے انٹرنیٹ کو باندھ لیا جاتا ہے۔سردی کا زور بڑھ جائے یا گرمی کی لہر اٹھے تو اسی تقصیر وار کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ووٹنگ ہونے والی ہو تو اس کم نصیب انٹرنیٹ کو پابجولاں کیا جاتا ہے۔اس پس قسمت کے باہر گھومنے سے سردی گرمی میں نہیں بدل جائے گی،بدتر حالات خوشگوار نہیں ہوں گے، ووٹنگ کی شرح میں کمی نہیں ہوگی اور نہ ہی ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوگا۔اس کو بار بار قید خانے میں نہ ڈال دیا جائے بیچارے کو اندھیرے اور سرد کمروں میں اکیلے ڈر لگتا ہے۔

جس طرح پہلے کسی مقتدر لیڈر کو بار بار سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا تاکہ فسادات کو روکا جا سکے اور ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو ویسا ہی کچھ کردار انٹرنیٹ کا ہے اس کو بھی بار بار جرم بے گناہی کی پاداش میں اس لیے بند رکھا جاتا ہے تاکہ ملک جو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اس ترقی کی رفتار میں کمی واقع نہ ہو ۔ بعض لوگ تو اس خیال کے ہیں کہ انٹرنیٹ سے دیش کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ساری بد امنی ، بے چینی، افراتفری اور خراب حالات کی ایک ہی وجہ ہے کہ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔اس لیے تیز رفتار دنیا میں لوگوں کو اس حق سے محروم کر دیا جائے جب ہی امن ، سلامتی اور خوشحالی آئے گی۔!

Shopping Revolution