کیا بنگلہ دیش کا وجود دو قومی نظریے کی نفی ہے؟۔۔نوید شریف

سقوط ڈھاکہ کے وقت اندرا گاندھی نے کہا کہ “آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔”بنگلہ دیش کے وجود کو پاکستان مخالف قوتیں دوقومی نظریے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتی ہیں۔ دعوی کرتی ہیں کہ دو قومی نظریہ تو مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بنتے ہی ختم ہو گیا تھا یا بنگلہ دیش کا بننا ہی دو قومی نظریے کی نفی ہے۔

بظاہر تو انکی بات میں وزن نظر آتا ہے۔ ویسے بھی تاریخ فاتح کی مرضی سے لکھی جاتی ہے۔ انڈیا اپنی سازش سے اس وقت فاتح بن گیا تھا۔ لیکن آج آج چالیس سال بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ آج کا آزاد اور خود مختار بنگلہ دیش برصغیر کی ہندو اور مسلم ریاستوں کے درمیان تقسیم کے فارمولے یا وجہ یعنی دو قومی نظریہ پر پورا اترتا ہے۔

بھلا کیسے؟

دلیل چونکہ بنگلہ دیش کا قیام دی جاتی ہے لہذا بنگلہ دیش کے قیام کے بعد کی ہی بات کرینگے۔

1. اگر 1971 کی جنگ اور نتیجتاً بنگلا دیش کے قیام میں بھارت کا کلیدی کردار تھا ۔اسکی خواہش تھی کہ بنگالی اس احسان کو سمجھتے ہوۓ خود ہی مشرقی بنگال کو پھر سے مغربی بنگال میں شامل کرنے کی درخواست کریں گے ۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا مشرقی بنگال ہندوستان میں ضم نہیں ہوا بلکہ ایک آزاد ریاست یعنی بنگلادیش بن گیا۔ اگر ایسا نا ہوتا اور بنگلادیش ہندوستان میں ضم ہو جاتا تو پھر واقعی یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ دوقومی نظریہ غلط تھا اور اس انضمام سے یہ واقعی خلیج بنگال میں دفن ہو گیا۔

2. قیام پاکستان کے بعد 1951ء کی پہلی مردم شماری کے مطابق مشرقی پاکستان کی 22 فیصد آبادی ہندو تھی جو کہ بنگلا دیش کے قیام کے بعد 1974ء میں 19 فیصد تک پہنچ گئی ۔ مگر آج بنگلادیش میں ہندؤں کی آبادی کم ہو کر صرف 7 فیصد رہ گئ ہے۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا اس میں بنگلادیش کے اسلامی تشخص اور ہندوستان بنگلادیش تعلقات کا بہت بڑا ہاتھ ہے جس کی تفصیلات آگے چل کر بیان ہو گی۔ یعنی آج کا بنگلادیش اپنی 90 فیصد سے زائد مسلم اکثریت کے ساتھ مسلمانوں کا تیسرا بڑا ملک ہے ۔

3. اپنے قیام کے فوراً بعد 1972ء میں بنگلہ دیش کے آئیں میں اسے ایک سیکولر ریاست قرار دیا گیا تھا ۔مگر آسکے باوجود اپنے پہلے وزیر اعظم اور بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی حکومت میں ہی بنگلہ دیش کے سیکولرازم کو دھچکا لگا جب 1973ء کے ایجوکیشن کمیشن نے محسوس کیا کہ ملک کے بیشتر شہری مذہبی تعلیم کے حق میں ہیں اور پاکستان دور کا ہی مذہبی نصاب جاری رکھا گیا۔ بنگلادیش اور سیکولر ازم ساتھ صرف 7 سال تک چلا جب ضیا الرحمن حکومت نے 1978ء میں آئین میں “اقتدار اعلیٰ” کی تعریف کو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ منصوب کر دیا بلکل اسی طرح جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973ء کے آئین میں کیا گیا تھا۔ ضیاء الرحمن کے جانشین حسین محمد ارشاد نے تو اس آگے بڑھ کر سن 1988ء میں اسلام کو باقاعدہ طور پر ریاستی مذہب قرار دیے دیا تھا۔

4. عوامی لیگ ، جنوری 2009 میں ایک بار پھر 1972 کے آئین کی بحالی کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ انہوں نے 2013 میں آئین میں 15 ویں ترمیم کے ذریعے جزوی طور پر ایسا کیا تھا لیکن پھر بھی اسلام کو ریاستی مذہب کے طور پر برقرار رکھا تھا۔ بلکہ ناقدین نے تو 15 ترمیم کو بے اثر قرار دیا کیونکہ اس سے صرف اور صرف غیر مذہبی معاملات کو 1972ء کے آئین کے مطابق بحال کیا گیا تھا ۔ بلکہ اس کے بر عکس اور اپنے انتخابی وعدے کے برخلاف عوامی لیگ کی موجودہ حکومت نے ڈگری کے متعلق مذہبی جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے مدارس کے درس نظامی کی ڈگری کو ماسٹر کی ڈگری کے برابر تسلیم کیا ۔ بات یہیں تک نہیں رکی حسینہ واجد کی حکومت نے بنگلادیش کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں کے خلاف ناموسِ رسالت کے تحت مقدمات قائم کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے متعلق ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ 2018ء نافذ کیا۔ مذید برآں عوامی لیگ کی سیکیولر سمجھیں جانی والی حکومت نے 560 “ماڈل مساجد اور متعدد اسلامی جامعات کے قیام کی بھی منظوری دی ہے ۔ دینی جماعتوں کے اتحاد “حفاظت اسلامی” تحریک کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے درسی کتب کو اسلامی نکتہ نظر سے درست کیا۔

5. عوامی لیگ کی موجود حکومت جس کی قیادت مجیب الرحمٰن کی صاحب زادی حسینہ واجد کر رہی ہے وہ اس وقت کی کل 70 اسلام پسند سیاسی جماعتوں میں سے 63 کے ساتھ گرینڈ الائنس کا حصہ ہے۔ باقی سات جماعتوں میں سے پانچ بی این پی کی زیرقیادت 20 جماعتی اتحاد کے ساتھ ہیں اور باقی کی دو مذہبی سیاسی جماعتیں فلحال ان دونوں اتحاد میں سے کسی میں بھی شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں۔ تاہم ان 70 میں سے صرف 10 جماعتیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں اور اس طرح انتخابی نشان کے ساتھ انتخابات بھی لڑتی ہیں ۔ یاد رہے کہ بنگلا دیش الیکشن کمیشن میں کل 39 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام پاکستان کی بنگلہ دیش کی سیاست کا بھی ایک لازمی حصہ ہے ۔

6. پاکستان کی طرح بنگلادیش نے بھی چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات وضع کیے ہیں۔ 2016 میں چین کے صدر زی جنپنگ کے دورے کے موقع پر چین نے CPEC کی طرز پر بنگلادیش میں 24 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ شروع کی تھی ۔ جو کہ 2019 تک 38 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ خیر اس وقت تو چین اور ہندوستان کے تارجرتی تعلقات بھی بحال تھے اور چین ہندوستان کو بھی one Belt One road پراجیکٹ میں شرکت کی دعوت دے چکا تھا ۔مگر مئی 2020 ء میں چین اور ہندوستان کے لداخ میں تصادم کے بعد صورتحال یکایک بدل گئ اور چین اور ہندوستان کے مابین کھل کر سرد جنگ شروع ہوگئی ۔ مگر اسکے باوجود کہ ہندوستان جو کہ آج ایک ایٹمی طاقت بھی ہے اس نے بنگلادیش کو تین طرف سے گھیرے میں لیا ہوا ہے بنگلادیش نے ہندوستان اور چین کے مابین کشیدگی میں چپ سادھ لی ۔ بلکہ بنگلادیش نے اور چین سے اقتصادی اور دفاعی تعاون جاری رکھا ۔اس وقت چین پاکستان کی طرح بنگلادیش کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیشی نیوی نے حال ہی میں اپنی پہلی آبدوز چین سے ہی خریدی۔ پاکستان اور چین کے اشتراک سے بننے والے 30 فائٹر ٹرینر K-8 کو بنگلادیشی ائرفورس کا حصہ بنے بھی دو سال ہو چکے ہیں ۔

7. ہندوستان سے تین اطراف گھیرے ہونے کے باوجود بھی چین بنگلادیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ جی ہاں یہ بات مجھے بھی پہلی دفعہ میں ہضم نہیں ہوئ کہ چین جس کی بنگلادیش کے ساتھ کوئ سرحد نہیں ملتی اسکے اور بنگلادیش کے مابین 2019 میں 16 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہوئ۔ جبکہ وہ پڑوسی ملک جسے کے ساتھ بنگلا دیش کی 4156 کلومیٹر کی سرحد ہے اور جسے حسینہ واجد اپنا محسن اور بنگلا دیش کے قیام کی وجہ قرار دیتی ہے ، اس بھارت کے ساتھ بنگلا دیش کی اسی سال صرف 7 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت ہوئ ۔

8.گزشتہ سال ہندوستانی کا جاری کردہ شہریت کے نئے قوانین کو لے کربنگلادیش اور ہندوستان کے مابین تناؤ میں شدت آگئ ہے ، بھارتی وزیر اعظم مودی نے آسام میں بسنے والے قریب 2 لاکھ مسلمان بنگالیوں کو غیر ملکی قرار دے کر بنگلادیش جلاوطن کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ پاکستان کی طرح بنگلادیش کے بھی ہندوستان کے ساتھ بارڈر اور پانی کے متعلق شدید تنازعات موجود ہیں ۔ جس کی بناء پر ہندوستان نے اب تک 3000 کلومیٹر کے لگ بھگ بارڈر کو باڑ لگا دی ہے ۔ جیسے جیسے اس باڑ کا کام بڑھا رہا ہے بنگلہ دیش کی طرف سے اسکی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور ساتھ ہی بارڈر پر دو طرفہ فائرنگ اور ہلاکتوں کا سلسلہ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ آنے والوں وقت میں بھارت کیلئے LOC اور LAC کے بعد یہ تیسرا بارڈر ہوگا جہاں اسے باقاعدہ فوج تعینات کرنا پڑے گی ۔

9. پاکستان اور بنگلادیش کی افواج اقوام متحدہ کے امن مشن میں دھائیوں سے ایک ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں ۔اسکے علاوہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے فوجی افسران ایک دوسرے کے اعلیٰ فوجی اداروں میں تربیت بھی حاصل کرتے ہیں ۔دونوں افواج کے مابین پیشہ ورانہ تعلقات اور مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد بھی ہو چکا ہے۔

بنگلہ دیش نے پاکستان سے الگ ہونے کے بعد بھی اپنا وہی اسلامی تشخص برقرار رکھا جس کی بنیاد پر ہم نے ہندؤوں سے الگ ملک بنایا تھا۔ عوامی لیگ جیسی سیکولر جماعت بھی بنگلہ دیش کو سیکولر نہ بنا سکی۔ نہ وہاں موجود ہندو مسلمانوں کے پاس رہ پائے۔ نہ ہندوستان میں موجود بنگالیوں کو ہندو ٹکنے دے رہا ہے۔
تو یہی سارا تو وہ دو قومی نظریہ تھا جس کی بنا پر ہم نے ہندؤوں کے ساتھ نہ رہنے کا اعلان کیا تھا۔ موجود بنگلہ دیش اس نظریے کا رد نہیں بلکہ ثبوت ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جو کبھی اکھٹی نہیں رہ سکتیں۔ اور جنھیں غلط فہمی ہے کہ ہم ہزار سال اکھٹے رہے ہیں وہ جمھوریت نہیں بلکہ تب مسلمان فاتح اور حاکم تھے اور ہندو رعایا اور کمزور تھے۔ اب جمھوریت کی بناء پر حکمرانی جو ہندو کو ملی ہے تو اس نے اس دور کے سارے زخم اور بدلے اترانے شروع کر دیے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ یہ غیر فطری سیکیولر ازم خود ہندوستان میں بھی عملاً ختم ہو چکا ہے۔

Shopping Revolution

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *