ہمارے بچے کسی کی نا اہلی کی قیمت کیوں ادا کریں؟۔۔رمشا تبسم

کہتے ہیں زخم کی تکلیف اور دکھ کی شدت کم کرنی ہو تو اسکا بار بار ذکر نہیں کرنا چاہیے۔مگر کیا کبھی دل پر لگے زخموں کو بھی بھلایا جا سکتا ہے؟کیا کبھی اپنے وجود سے جڑی زندگیوں کے ختم ہونے کے بعد اس تکلیف کو کسی بہانے سے بھلایا جا سکتا ہے۔؟

شاید کبھی نہیں۔۔ کیونکہ بیرونی زخم کے لئے مرہم ہو سکتا ہے مگر روح کے زخموں کا نہ  علاج ممکن ہے اور نہ  ہی انکی تکلیف کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ہاں بس نظر چرائی جا سکتی ہے۔جیسے اندھیرے میں بیٹھ کر روشنی کی موجودگی سے انکار کرنا یا روشنی میں بیٹھ کر تاریکی کے وجود کو جھٹلانا، مگر یہ فقط دلاسے اور تسلیاں ہیں۔ روح کے زخموں سے نظر چرانے کے بعد تنہائی میں انہی سے گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رونا پڑتا ہے۔

جیسے سانحہ آرمی پبلک  سکول کا زخم ،ایسا زخم ہے جو ہمارے گھروں اور ہماری زندگیوں پر براہ راست چاہے نہیں لگا اور نہ  ہمارے گھروں میں صف ِ ماتم بچھی اور بظاہر یہ زخم نظر نہیں آتا۔ مگر بالواسطہ یہ زخم ہماری زندگیوں پر ضرور لگا ہے۔اس  تکلیف کی شدت سے پورا ملک اشک بار تھا اور اشک بار ہے۔اور یہ زخم تا قیامت تازہ رہے گا۔ ہم پورا سال اس زخم سے نظریں چراتے ہیں مگر سولہ دسمبر کو یہ زخم شدت اختیار کر کے روح کو جھنجھوڑتا ہوا رونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ہر طرف ان معصوم قربان ہوئی زندگیوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے انکے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کی جاتی ہے۔شہداء کے لئے پھول پیش کئے جاتے ہیں۔اور ان معصوم بچوں کی زندگی کے چراغ  زبردستی بجھانے والوں کو آزاد کر کے اس ملک میں سولہ دسمبر کو موم بتیاں جلا کر اظہارِ افسوس کیا جاتا ہے۔

ان معصوم شہیدوں کی قربانی کو ملک کے لئے سنہرے حروف میں لکھنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومتی عہدیدار اور محافظ ریاستی ادارے صبح سے سر گرم نظر آتے ہیں۔کیا نازک ہاتھوں میں قلم اٹھائے معصوم بچے کمر پر بستہ پہنے  سکول نہیں بلکہ میدان جنگ میں پہنچے تھے؟ اور اگر یہ اپنی جان کی قربانی نہ  دیتے تو کیا ملک برباد ہو جاتا یا ریاستی ادارے؟یا پھر ان بچوں کو  زبردستی اپنی ناقص کارکردگی اور نا اہلی کی بھینٹ چڑھا کر کونسا ریاست سے دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہو گئی  ہے جو ہر کوئی ان معصوم جانوں کے قربان ہونے کو ملک کی خاطر سب سے بڑی قربانی قرار دے رہا ہے۔یہ ریاست کی سب سے بڑی ناکامی اور والدین کا سب سے بڑا نقصان تھا۔

آپ ,میں ,ہم ,ریاست اور حفاظتی ایجنسیاں اور ادارے یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ  یہ سراسر انکی نا اہلی کی وجہ سے ایک قیامت اس قوم پر گزری تھی۔کسی کی نا اہلی اور کسی کی اندرونی اور بیرونی سازش کا شکار ہو کر معصوم بچوں نے ہاتھوں میں قلم اٹھائے اپنے نازک جسموں پر قیامت جھیلی تھی۔

ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ  ریاست اور ادارے مکمل طور پر کمزور اور نا اہل ثابت ہوئے تھے جس کا خمیازہ ننھی جانوں نے چکایا اور اس نا اہلی کو قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں ہاں مگر دہشت گردی کے خلاف ان بچوں کی جان قربان کرنے پر نغمہ سازی کے ذریعے ہم سینہ تان کر کھڑے ہونے کو تو تیار ہیں۔ مگر اپنی نا اہلی کو قبول کرنے کو نہیں۔اس نا اہلی کو چھپانے کے لئے ہمیں اور ہمارے بچوں کو نغمہ سازی پر لگا دیا گیا۔”بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتاہے” ہاں وہ دشمن بہت بڑا تھا شاید  بہت طاقت ور جو ہماری اندرونی ناکامیوں کو جان کر ہمارے گھر میں گھس کر ہمارے ہی بچوں کی زندگیوں کے چراغ آرام سے بجھا گیا اور ہمیں کیا حاصل ہوا خون میں لت پت ذبح ہوئے معصوم لاشے؟ہاں یہ دشمن واقعی بڑا تھا جس کے سہولت کار کہیں نا کہیں آج بھی آزاد فضا میں سانس لیتے ہوئے اپنی کامیابی اور ہمارے دکھ پر جشن منا رہے ہونگے۔ اور ہم چیخ چیخ کر نغمہ سازی اور تقریروں میں شہیدوں کو سلام پیش کرتے جب ان قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو نظر آتے ہونگے تو وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے ہوئے کہتے ہونگے کہ میں واقعی بڑا دشمن تھا جس تک تم لوگوں کو کبھی رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی اور میں موقع ملتے ہی تم لوگوں کو یونہی تڑپاؤں گا۔

ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا کہا تو گیامگر کوئی اس دشمن تک رسائی حاصل کر سکا؟ یا اسکے سہولت کاروں اور پھر ان سہولت کاروں کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا؟ اگر تو ہاں ان معصوم زندگیوں کے چراغ بجھانے والے اس بزدل دشمن کو فنا کر دیا گیا ہے تو یقیناً ہم اور ہمارے بچے اس دشمن کے بچوں کو پڑھانے کو تیار ہیں اور اگر نہیں تو یقین جانیے معذرت کے ساتھ کہہ رہی ہوں ہم اور ہمارے بچے کسی کی نا اہلی کی قیمت چکانے کو ہرگز تیار نہیں اور اس قیمت کو چکا کر ملک کی خاطر زبردستی قربان ہونے والوں کی فہرست میں نام لکھوانے کو تیار نہیں۔ سرحدوں کی حفاظت پر معمور ہوں یا کسی اور طریقے سے ،خاص وجہ سے ملک کی حفاظت کرتے، ملک میں رہنے والوں کی حفاظت کرتے ہوئے اگر قربان ہونے کا موقع ملے تو بیشک ہم سب تیار ہیں، ورنہ محض کسی کی ناقص کارکردگی اور نا اہلی کی وجہ سے حادثے میں شہید ہونے والے کسی بھی فرد کی جان کی قربانی کو ریاست اور ادارے اپنی نا اہلی تسلیم کریں اور ہر صورت ہمیں ہمارے بچوں کو تحفظ دیں۔

دشمن نہ  تو نغمہ سازی سے مات کھاتے ہیں نہ  ہی انکے بچوں کو تعلیم یافتہ کر کے انکا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔دشمن کو ختم کرنے کے لئے اہلیت کی ضرورت ہے۔اور اہلیت کے لئے قابلیت اور ہمت کی اور یہ سب کام محض باتوں سے نہیں بلکہ ریاستی پالیسی اور اداروں کے مستحکم ہونے سے وجود میں آتے ہیں۔ذرا کچھ سیکنڈ کے لئے وہ منظر دوبارہ نظروں کے سامنے لائیں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے کمرے کا، جہاں سیکڑوں یونیفارم میں ملبوس بچے ایک دوسرے کے اوپر لہو  میں لت پت پڑے تھے۔یہ کوئی بھیڑ بکریاں نہیں تھیں کہ  جن کو دشمن آ کر ذبح کر کے چلا گیا۔۔ یہ زندگیاں تھیں چند منٹ پہلے  ت سانس لیتی زندگیاں ۔اور ان سے جڑی انکے اہل خانہ کی زندگیاں آج بھی ویران ہیں کیونکہ بحیثیت ریاست اور ادارے آپ 16دسمبر 2014 کو ناکام ہوئے تھے۔

میں کچھ دنوں سے مسلسل اپنے بھتیجے عون محمد کے ساتھ دن رات مصروف ہوں ۔جو 26 نومبر 2020 کو دنیا میں تشریف لایا ہے۔اسکا نازک جسم اور اس جسم میں ہونے والی ہر حرکت زندگی کا پتا دیتی ہے۔اس کے جسم میں موجود زندگی ہی واحد زندگی نہیں بلکہ اسکی زندگی کی موجودگی اب ہم سب کی زندگی کی ضمانت ہے۔وہ ہنستا ہے تو ہم ہنستے ہیں وہ روتا ہے سب ہی رونے والے ہو جاتے ہیں۔وہ سکون سے سوتا ہے تو ہم اسکو سکون میں دیکھ دیکھ کر پُرسکون ہوتے ہیں۔بچے کس قدر گھر والوں کو زندہ رکھتے ہیں یہ اب احساس ہوا۔اور جب احساس ہوا اس وقت سانحہ آرمی پبلک اسکول کا زخم مزید ہرا ہو گیا کہ کس قدر ان معصوم بچوں کے والدین آج بھی زندہ ہوتے ہوئے موت کی سی اذیت میں ہیں۔

میں عون محمد کا ہاتھ تھام کر اکثر سوچتی ہوں کہ  اس نے کس ماحول میں آنکھ کھولی ہے۔جہاں    تحفظ ہے نہ  محبت اور نہ ہی   سکون۔محض کچھ ہے تو نا اہلی ریاست کی, اداروں کی اور انسانوں کی بھی۔میرا دل اس وقت ڈوبنے لگتا ہے جب اسکی نازک انگلیاں میرے ہاتھ کو ہلکی سی گرفت میں لیتی ہیں کہ عون محمد اس ملک میں اس ماحول میں پروان چڑھے گا جہاں اسکی زندگی غیر محفوظ ہے۔جہاں آج اسکے ہاتھوں کی نازک سی انگلیاں ہمارا ہاتھ تھام تو لیتی ہیں اور ہمیں لگتا ہے ہم اسکےمحافظ ہیں مگر اسکو کیا معلوم محض اسکے ہاتھ کمزور نہیں بلکہ یہ ریاست مکمل کی مکمل کمزور ہے۔جہاں انسانوں کو نا اہلی کی بھینٹ چڑھا کر قربانی اور ریاست کی کامیابی کا شور مچایا جاتا ہے۔

میں خوفزدہ ہو  کر عون محمد کو سینے سے لگا کر بیٹھ جاتی ہوں اور اسکو کہتی ہوں بیٹا پھپھو کے دو دل ہیں ایک وہ جو اندر دھڑکتا ہے اور ایک یہ حو باہر سینے سے لگا ہے۔مگر آپ کو معلوم ہے یہ دنیا، یہ ریاست ،یہ ادارے اس قدر نا اہل ہیں کہ  یہ میرے دونوں دلوں میں سے ایک یا دونوں دل بند کرنے کا ہنر رکھتے ہیں اور دونوں ہی صورت میں ہر سُو اندھیرا بکھر جائے گا۔(اللہ تمہیں میری عمر بھی لگا دے،تم شاد آباد رہو،آمین)

میں عون محمد سے کہتی ہوں کہ  تم یا اس ملک کا کوئی بھی بچہ کسی بھی صورت کسی کی نا اہلی کی قیمت چکانے کو پیدا نہیں ہوا۔دشمن کے خلاف جنگ محض قربان ہو کر نہیں بلکہ زندہ رہ کر بھی لڑی جا سکتی ہے تعلیم سے ہنر سے اہلیت سے قابلیت سے ہمت سے اور اس ملک میں مثبت انداز  میں اپنا کردار نبھانے سے۔یا ضرورت پڑنے پر ملک کی خاطر قربان ہونے سے ۔مگر کسی کی نا اہلی کی بدولت ہرگز قربان ہونے کے لئے ہم بچے پیدا نہیں کرتے۔

میں ریاست کے ہر اس بیانیے کو رد کرتی ہوں جو کہتا ہے دشمن ناکام ہوا ہے اور معصوم بچے ملک کی دشمن کے خلاف جنگ میں شہید۔۔دشمن جو کرنے آیا تھا کر کے چلا گیا۔مگر ریاست اور ادارے کیا کرنے کو موجود تھے؟انہوں نے دشمن کے حملے سے پہلے اور بعد میں کیا کردار ادا کیا؟انہوں نے دشمنوں اور انکے سہولت کاروں کو کونسی بھیانک سزا دی؟اب ریاست اور ادارے کس قدر مضبوط ہیں؟

میں پھر سے دہراؤں گی۔۔ ہمارے بچے ریاست اور اداروں کی نا اہلی کی قیمت چکانے کو پیدا نہیں ہوئے۔ آپ اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں دھت رہیں اور ہم اپنے بچے قربان کر کے نغموں سے دل بہلائیں؟ ہرگز نہیں۔ریاست اور اداروں کو اہل ہونا پڑے گا ورنہ یہ خود کو قربان کردیں تاکہ ہم قربان ہونے سے بچ جائیں۔

وہ معصوم چراغ جو بجھ گئے اور ان چراغوں کے بجھنےسے جن والدین کی زندگی میں تا قیامت اندھیرا چھا گیا ہے ہم دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔مگر جانتے ہیں یہ دکھ محض انکا ہے اور اسکی تکلیف بھی محض وہی برداشت کر رہے ہیں۔

آخر میں انعام رانا کے کچھ سوال پیش خدمت ہیں۔
ان ماؤں کے نام
جن کے بچے گھروں کو لوٹے نہیں
جن کو جنت،شہادت، حب ِ وطن
کوئی حرف تسلی گوارا نہیں
جن کے چبھتے سوالوں کو ہے آج بھی
فقط آرزو کہ سچ کو کہو
دست قاتل کو ہمت کہاں سے ملی
دست قاتل ہے اب کس کے سر کے تلے؟

Shopping Revolution