قطر کا محاصرہ، کون جیتا کون ہارا۔۔سید رحیم نعمتی

گذشتہ چند برس سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے قطر کے خلاف شدید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں میں تجارتی پابندیاں، سیاسی پابندیاں اور دیگر پابندیاں شامل ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین قطر کے خلاف اس محاذ آرائی میں آگے آگے ہیں۔ ان ممالک نے اپنی فضائی حدود بھی قطر کیلئے بند کر رکھی ہیں۔ حال ہی میں بعض ایسی سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں جن کا مقصد سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی دور کرنا بتایا گیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان ثالثی کرنے والے ممالک میں کویت کا نام بھی شامل ہے۔ حال ہی میں کویت کے وزیر خارجہ احمد الناصر المحمد نے اس بارے میں ایک بیانیہ جاری کیا ہے۔

کویتی وزیر خارجہ کے جاری کردہ بیانیے میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں موجود کشیدگی دور کرنے کیلئے کویت کی ثالثی پر مبنی سرگرمیاں نتیجہ بخش ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی مراد قطر اور سعودی عرب کے درمیان موجود تنازعات کے حل کی کوششیں تھیں۔ گذشتہ تین برس سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک اور قطر کے درمیان سفارتی تعلقات شدید بحران کا شکار ہیں۔ اب اس بیانیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ کویت کے اخبار “الرای” نے بھی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اسی مہینے بحرین میں منعقد ہونے والا خلیج تعاون کونسل کا اجلاس قطر اور سعودی عرب کے درمیان دوستی کا اجلاس ثابت ہو گا۔

لہذا یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بحرین کا اجلاس گذشتہ تین سال سے جاری اس بحران کو کم از کم ظاہری طور پر ختم کر دے گا کیونکہ ابھی تک دونوں فریقین کے درمیان موجود اختلافات کا حل سامنے نہیں آیا جبکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات بھی اس نتیجے سے زیادہ خوش نہیں ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کویت نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان موجود کشیدگی ختم کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کیا ہو۔ گذشتہ تین برس میں کویت نے اس مقصد کیلئے کئی بار کوششیں انجام دی ہیں لیکن اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 مئی 2017ء کے دن سعودی عرب کا دورہ کیا۔

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے اب تک سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بھرپور حمایت کی ہے جس کے باعث کویت کی ثالثی کی کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اب جبکہ وائٹ ہاوس میں سیاسی تبدیلی حتمی دکھائی دے رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار سے رخصت ہوتے نظر آتے ہیں تو سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے رویے میں بھی لچک ظاہر ہوئی ہے اور کویت اپنی کوششوں کی کامیابی کیلئے امیدوار ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے امریکی صدر کے طور پر جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے کی صورت میں شہزادہ محمد بن سلمان کو ڈونلڈ ٹرمپ جیسی حمایت حاصل نہیں رہے گی اور انہیں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی ولیعہد نے جنوری میں وائٹ ہاوس میں اس تبدیلی سے پہلے ہی یہ تنازع حل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

لیکن اب بھی سعودی عرب اور قطر کے درمیان خلیج دور ہونے میں دو بنیادی رکاوٹیں موجود ہیں۔ کویت کے وزیر خارجہ المحمد المصباح نے اپنے مختصر بیانیے میں سعودی عرب کی ان 13 شرطوں کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا جو اس نے قطر کے ساتھ اپنے اختلافات حل ہونے کیلئے ضروری قرار دے رکھی تھیں۔ یاد رہے قطر اب تک یہ شرطیں ماننے پر تیار نظر نہیں آتا۔ کویت کے اخبار الرای کی رپورٹ کے مطابق ان شرطوں کا جائزہ لینے کیلئے مخصوص کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس خبر سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ بحرین کا اجلاس زیادہ تر ایک علامتی حیثیت کا حامل ہے اور اصل مسئلہ ان کمیٹیوں کی جانب سے حتمی فیصلہ ہونے تک حل نہیں ہو گا۔ شاید اسی وجہ سے قطر اور سعودی عرب کے حکام نے اس بارے میں محتاطانہ موقف اختیار کیا ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے یہ بیانیہ جاری ہونے کے دن ہی اپنے موقف کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قطر کے مسائل ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے موقف سے ظاہر ہوتا ہے اماراتی حکام قطر اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم ہونے پر خوش نہیں ہیں۔ سعودی عرب کے معروف حکومت مخالف سیاسی رہنما سعد الفقیہ نے کہا ہے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کافی عرصے سے قطر سے اختلافات ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن بن زاید انہیں اس کام سے روکے ہوئے ہیں۔ اب قطر کے امیر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کوئی مراعات دیے بغیر بحرین کے اجلاس میں شرکت کرنے جا رہے ہیں اور محمد بن سلمان اور بن زاید اپنی ہار تسلیم کر کے ان سے دوستی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسلام ٹائمز

Shopping Revolution

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *