ڈاکٹر محمد اسلام اک گوہرِ نایاب۔۔حسان عالمگیر عباسی

سیاست کے نام لیواؤں سے ‘نبوی امور سیاسیہ’ کو ‘لوسیفر’ Lucifer کے قدموں پہ ڈالنے کا سوال بڑا مہنگا ہے۔ ‘کیوں’ کا جواب نہیں ہے کیونکہ ‘کیوں’ کے پیچھے ان کا شرمندگی کے بازار میں ‘وقعت’ کی بھیک مانگ کر سستے داموں اپنا من بیچنے کا قرض قومی وقار کے ماتھے پہ سیاہ دھبہ ہے۔ یوں تو ‘وقار’ کی بے توقیری قومی وطیرہ ہے لیکن کچھ مغرور طبقات کی ڈھٹائی اور ان کی طرف سے ٹھونسا گیا ‘رعب’ ان کی ‘دفاعی مشینری’ کا کام دیتا ہے۔

اس گھمبیر صورتحال نے تقسیم کرنے کی قسم کھائی ہے۔ اساتذہ بھی اس صورتحال کی زد میں آ کر ضد پہ اتر آئے ہیں۔ وہ امور سیاسیہ کو طالب علموں کے سامنے لانے کو ‘کنٹرورسی’ سے جوڑتے ہیں حالانکہ سیاست گندی نہیں ہے، گند بھرا گیا ہے۔ اساتذہ کا اس سے برآت ان کی محدود سوچ اور خول میں بند ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ سیاست کے دروازے کو اداروں اور جامعات پہ مقفل کرنا بہتری کی غرض سے تھا لیکن نتائج کا برعکس آنا ‘تجدید عہد’ اور از سر نو جائزہ لینے کا شدت سے متقاضی ہے۔ اس میں کئی اساتذہ نے پہل کر لی ہے۔ مجددین میں سے ڈاکٹر محمد اسلام صاحب کا نام بھی شامل فہرست ہے۔

ڈاکٹر محمد اسلام صاحب ان اساتذہ میں سے نہیں ہیں جو سیاست کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ کلاس کے اندر حالات حاضرہ پہ اپنے حتی الامکان غیر جانبدارانہ موقف سے طالبان علم کو آگاہی پہ یقین رکھتے ہیں۔ طالب علموں کو بات رکھنے کا کھل کر موقع دینا ہر انسٹرکٹر کا انداز نہیں ہوتا بلکہ یہ اک ‘استاد’ کا ہی کار آفریں ہے۔ آپ کی ایک سنت ہے: ‘نہ آپ نے کبھی ٹوکا اور ٹوکنے والے کے لیے تیز دھار ٹوکا۔’

اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے میں کسی کی مداخلت کا سہارا لینا آپ کی شان کے خلاف ہے۔ جب ‘سمت مخالف’ سے آنے والے بے جا و جان فلسفوں کو سننے کی سکت رکھتے ہیں تو ‘سمت آپ’ سے جانے والے وہ کلمات جو سونے کی قلم اور پکی سیاہی سے لکھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، ان سے آشنائی و شناسائی کی بجائے خلل ڈالنا ہر ذی شعور و بیدار مغز انسان کے بے قدری ہے۔ اس بے قدری سے وہی شناسائی رکھتا ہے جس نے اقدار کی قدر کرتے ہوئے عظیم المرتبت اشخاص کی فہرست میں جگہ بنانے میں پاپڑ بیلنے کے بعد کامرانی سمیٹی ہو۔

ڈاکٹر صاحب نے استعماری قوتوں کی دنیا کو پہلی، دوسری اور تیسری دنیاؤں میں تقسیم کی نیت سے لگائی گئی لکیروں کی بھینٹ چڑھنے والے ممالک میں سے ایک ‘خدادار ملک الباکستان’ کی سرزمین سے باہر جاکر تعلیم حاصل کی۔ ان کی رنگ میں رنگنے کی بجائے عین اسلام کے دیے گئے حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سوچ میں آزادی کے قائل ڈاکٹر صاحب منکرات سے کلیتاً خائف اور نیکوکاریوں کے متمنی ہیں۔ آپ نے ان کی وہ تہذیب جو اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرنے جارہی ہے یا کر چکی ہے کو اوڑھنا بچھونا بنانے اور خدمات دینے کی بجائے پاک وطن کی مٹی سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔ آپ کی تحقیق اور ریسرچ ان علاقوں کو بھی اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے جو پاک وطن کے ان سجیلے جوانوں کی دلچسپی سے خالی ہے جو علمی خدمات دینے کے دعویدار ہیں۔ محققین کا ان علاقوں کا رد، جہاں کے مسائل سے آشنائی بے حد ضروری ہے، آپ کی قلم ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور نتیجتاً تحقیقی مقالات مقبولیت کے جھنڈے گاڑتے ہوئے بدرجہ اولیٰ شوکت و حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کے نزدیک ریسرچ کوئی پولیس کی سجیلے جوان کی انوسٹیگیشن نہیں ہے بلکہ مدت متعینہ میں غیر جانبدارانہ مزاج کا نام ہے۔ آپ کے مطابق تفصیلات، وضاحت، گہرائی اور تحقیقی مزاج محقق کے شایان شان ہے۔ تحقیق تو کسی بھی موضوع کی تفصیلات و وضاحت ہے لیکن آپ کے مطابق معیار کی بہتری کے لیے اصلی و نسلی موضوعات ہی محقق کے شایان شان ہونا از حد ضروری ہے۔ وہ تحقیق جو ایسے نتائج لائے جس سے معاشرے میں بہتری کی کوشش بے نتیجہ رہے وہ وقت کا ضیاع اور کسی بھی اہمیت کی حامل نہیں ہے۔

کلاس میں لیکچر کے دوران پیاس کی شدت میں مزید احساس اور تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ آپ روانی کے قائل اور روادار ہیں۔ کلام سیدھا دماغ میں مختصر وقت ڈیرہ جماتے ہی ہوتا ہوا دل پہ بسیرا کرنے لگتا ہے۔ میٹھا بول آپ کا چلن اور روانی آپ کی چال ہے۔ طنز و مزاح سے بھرپور اور مزے سے دوبالا ‘کہاوتیں’ بہت کچھ کہہ لینے کی مخفی توانائی potential رکھتی ہیں۔ انگریزی فونیمز phonemes کا مجموعہ R-E-A-L-L-Yجب مارفولوجی morphology کی حدیں چھوتے ہوئے ‘REALLY’ تک جا پہنچتا ہے تو یہ اسٹڈی آف میننگ یعنی سیممٹکس semantics کی چار دیواری پامال کرتے ہوئے معنویت میں سیاق و سباق کے امتزاج یعنی پریگمیٹکس pragmatics سے کچھ فاصلے پہ ڈسکورس اینالسز discourse analysis کی حدود میں محدود ہو کر سننے والے کے اندر کے خمیر و ضمیر کو جھنجھوڑنے لگتا ہے۔

ایک ہی لمحے ہنستے ہنستے، ہنستے ہوؤں کو غصے کے زور پہ اندر ہی اندر ہچکولے دیتے ہوئے دم بخودی اور یکدم ہی ہنسنے لگنا آپ کی شخصیت کا ایک انمول پہلو ہے، جو کسی کی پسندیدگی اور کسی کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

آپ کے لیکچر کا آغاز انتہائی سجیلا ہے۔ کچھ ایسا ہوگا جو تھکن بھولنے کا کام کرے گا۔ آمد ہو گی، شور ہو گا، سکوت ہوگا۔ رفت ہو گی، شعور ہوگا، شعار ہو گا۔ پہلی کلاس کا آغاز سلام دعا و تعارف کے بعد کچھ یوں ہوا: “میرے علاوہ آپ میں سے کون کون سگریٹ سلگاتا ہے؟” آپ کے مطابق سگرٹ نوشی سے بڑے گناہوں پہ بات کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے فضائل کے بیان کی الگ تفصیل ہے، اگر بیان ہونے لگی تو اختتام کی ناراضی یقینی ہے۔

آپ کے لیکچر کے آغاز میں اگر حالات حاضرہ پہ گفت کا سوال ہو گا تو بات آگے چلتے طوالت کی حدود پھلانگنے لگی گی جو پسندیدگی کا مظہر ہے اور اگر ‘گزشتہ روز کیا پڑھا تھا؟’ اور ‘گھر کیا پڑھا ہے؟’ سے ‘بسم اللّٰہ’ ہوگی تو ‘صدق اللہ’ پہنچنے تک طالب علموں کا ‘نیپال’ کے جنگلات میں ہونا یقینی ہے۔

اداروں اور جامعات کی روانی میں اک روحِ رواں کردار نبھاتا ہے۔ بلاشبہ بہت سے اجزا کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے اور یہی دراصل ضرورت بھی ہے لیکن یہ تمام اجزاء کسی ایک ‘خاص جز’ سے جڑ کر لوہا منواتے ہیں اور اگر وہ خاص جز علیحدگی اختیار کر لے تو تمام جزیان و جزئیات کا اجاڑ اکھنڈ کی کمزوری ہی نہیں بلکہ جڑ سے ہی اکھڑ جانا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلام صاحب وہ نمایاں جز ہیں جو اجزائے ترکیبی میں روح پھونک کر کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا ہونا انہونیوں کا ہونا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ کا وجود ان کی موجودگی پہ منحصر ہونا, یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ تمام طالبانِ علم کی متفقہ رائے ہے کہ ڈاکٹر محمد اسلام صاحب عظمت کا مینار، مدبر، مفکر، محقق، معلم اور متعلم ہیں۔ متعلم کہنا اس لیے حق بجانب ہے کیونکہ ان کا مزاج تھوپنا نہیں بلکہ بانٹنا ہے۔ وہ سیکھانے کے ساتھ ساتھ سیکھتے بھی ہیں۔

آپ جامعہ پنجاب اور بین الاقوامی جامعہ رفاہ کے علاوہ دیگر اداروں میں بھی تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ قومی سیاست پہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ پی ایم ایل این سے آپ کی بالکل نہیں بنتی حتی کہ پی ایم ایل این یا مسلم لیگ (نواز) کو رد کرتے ہوئے تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کا دفاع بھی کرنا پڑے تو اچھے سے کرتے ہیں۔ خان صاحب نے کئیوں کا دل توڑا ہے لیکن آپ ابھی بھی امید سے ہیں۔ یوں ہی لگ رہا ہے کہ قبلہ بدلنے میں وقت نہیں لگنا۔ آپ غالباً وزن ہر صورت ڈالنے کے حامی ہیں اور غیر جانبداری یا بے سروکاری آپ کی ڈکشنری میں غیر موجود ہے۔ آپ تو خود بھی سیاست میں حصہ دار ہیں۔ جامعات کے اندر امور سیاسیہ میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔ انتخابات کی چکا چوند میں بھی چمک دکھلاتے ہیں۔ الیکشنز لڑتے ہیں اور جیت کی صورت میں شکر بجا لاتے ہیں۔ جو وعدے کیے ہوتے ہیں وہ نبھاتے ہیں۔ ہارنے والے کو ‘گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں’ سناتے ہوئے امید دلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے اساتذہ کے نور سے جامعات کو منور کرے۔ یہ الفاظ آپ کی شخصیت کی عکاسی کا چند بٹا سو ہیں کیونکہ شاعر کا دوسرا مصرع متفق نظر نہیں آ رہا۔

افسوس تیرے معیار کے الفاظ نہ مل سکے

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *