بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔رابعہ احسن

بات صرف پنکی تک رہتی تو ہم قوم کی بیٹی کا نعرہ لگاتے رہتے تاعمر کیونکہ ہم تو ویسے بھی شخصیت پسندی کی ماری ہوئی قوم ہیں اور شخصیت پسندی کی بہترین مثال ہمارے ہاں کی موروثی سیاست ہے۔ موروثیت ہر طرح سے وطن کے مفاد سے زیادہ بکتی ہے ۔ اور ہمارے پاس اس وقت ایک نہیں بلکہ دو دو پنکیاں چلی آئیں ۔ قوم کی دو دو بیٹیاں ۔ بات بیٹیوں اور پنکیوں تک ہی رہتی تو بھی تھا پر یہاں تو ایک ہی میان میں دو تلواریں اکٹھی رکھ دی گئیں ۔ کئی دہائیوں سیاسی دشمنیاں پالتے یہ دو خاندان پاکستان کے دونوں بڑے صوبوں پہ چھائے ہوئے آج جب پاکستان موروثی اور خاندانی سیاست کے جھولے سے باہر نکل کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے ہی لگ گیا ہے تو اپوزیشن نے حکومت کے خلاف جلسے میں قوم کی دو بیٹیاں بھیج دیں ایک ہی جلسے میں ، ایک ہی جگہ اپنی اپنی تقریروں کے جوہر دکھانے ۔
جلسے کی براہ راست نشریات دیکھنے کو تو دل نہ کیا لیکن جس طرح دونوں بیٹیوں کو اکٹھا کور کیا گیا اس پہ قوم کی دماغی حالت پہ کافی افسوس ہوا۔ بات پھر لمبی اور تکلیف دہ ہوجائے گی اور اصل بات تو یہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں عوام کی خدمت کیلئے معرض وجود میں آتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاست کا مطلب لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں ۔ محض علاقائی سیاست سے بات شروع کریں تو ہمارے ہاں سیاسی رہنما سے مراد محض غنڈہ گردی ہی لی جاسکتی ہے ۔ پہلا امپریشن صرف یہی ہوتا ہے
اور یہ امپریشن کتنی عمروں اور خاندانوں سے چل رہا ہوتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کرپاتا ۔ بس سب اندھا دھند بس پیروی کرتے رہتے ہیں
ہم ملک کو کھانے والے خاندان کی خواتین کو ملک کی بیٹیاں بنا دیتے ہیں ۔ اور جو ڈھیروں ڈھیر قوم کی بیٹیاں سڑکوں پر رل رہی ہیں پھٹے پرانے کپڑوں میں آئے دن ظلم و زیادتی کا شکار ہوجاتی ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ان معصوموں ، بے آسراؤں کو ان تمام زیادتیوں کے باوجود بھی کوئی قوم کی بیٹی جیسا رتبہ نہیں دے پاتا ۔ اور یہ جو دونوں دونوں ہاتھوں سے اتنی دہائیوں سے لوٹ مار ، قتل و غارت کرنے والے خاندان ابھی تک تہذیب سے پکارے جاتے ہیں ۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عزت صرف امرا کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے اور وہی عوام جو ان کے عتاب کا شکار ہیں وہی ان بیبیوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیتے ہیں وہی جن کی زندگی کی آبیاری کیلئے ان کی اپنی بیٹیوں کے منہ سے نوالے چھینے جاتے ہیں ۔
پتہ نہیں ہم کب اس موروثی اور شخصی سیاست سے باہر آئیں اور یہ مفاد پرست ہماری معصوم عوام کو ہمیشہ بیوقوف بناتے رہیں گے اور عوام بصد بخوشی ان کے پیچھے نعرے لگانے کیلئے پہنچ جائیں گے

Shopping Revolution

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *