سعودی عرب کی عجیب الخلقت چٹانیں اور پہاڑ۔۔منصور ندیم

دنیا بھر میں قدرت نے عجیب و غریب مظاہر سے انسان کو حیران کیا ہوا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں ایسی ہے عجیب و غریب شکل و صورت کی ہزاروں چٹانیں اور پہاڑ ہیں، جن کی حیرت انگیز مماثلت جانوروں یا اشیاء سے پائی جاتی ہے، قدرت نے سعودی عرب کو بھی انواع و اقسام کے قدرتی مناظر سے مالامال کر رکھا ہے۔ ملک میں ایک طرف جہاں صحرا ہیں تو دوسری جانب نخلستانوں کے خوبصورت مناظر آنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتے ہیں۔ سعودی ارضیاتی سروے اتھارٹی نے صرف ضلع تبوک میں ہی 60 ایسی چٹانوں کی تصاویر جاری کی تھیں جو مختلف جانوروں سے مشابہت رکھتی ہیں اور محکمہ ارضیات کی سروے ٹیم ان چٹانوں کی ساخت اور بناوٹ پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ ان کے بارے میں جامع معلومات حاصل کی جا سکیں۔ تبوک کے علاوہ بھی سعودی عرب میں کئی مقامات پر ایسی عجیب الخلقت چٹانیں موجود ہیں۔

جبل سفینہ یا جبل راسیا:

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے تبوک کے صحرا میں ایک پہاڑ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کی شکل بحری جہاز سے ملتی جلتی ہے۔ اس پہاڑ کی چٹانوں پر عرصہ قبل کے نقوش آج بھی اس کی کہانی بیان کر رہے ہیں اور یہاں آنے والوں کو ایک لمحے میں صدیوں پیچھے لے جاتے ہیں۔ تبوک میں موجود اس پہاڑ کو “جبل راسیا” یا “جبل السفینہ” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پہاڑ قدیم دور کے اس راستے پر واقع ہے جہاں سے جزیرۃ العرب کے تجارتی قافلے گذرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس پہاڑ کا واسطہ کئی انسانی تہذیبوں اور مذاہب کے ماننے والوں سے پڑا۔ وہاں سے گذرنے والے اس پہاڑ پر یادگار کے طور پر کچھ نہ کچھ لکھ دیتے تھے جو آج بھی اس کی چٹانوں پر موجود ہے۔

اس پہاڑ کا ذکر دور اسلام سے قبل کے شعرا اور اسلامی دور کے شاعروں کے کلام میں بھی ملتا ہے۔ اس پر نقش کی گئی بعض عبارتیں 2600 سال قبل عاد وثمود کی قوموں کے دور کی بتائی جاتی ہیں جب کہ یہاں عربی میں لکھی گئی عبارات بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد دور اسلام میں بھی وہاں سے گذرنے والوں نے بھی اس پہاڑ پر اپنی آمد کے اظہار کے طور پر کچھ نہ کچھ لکھ دیا ہے۔ یہ پہاڑ عاد و ثمود اقوام،زمانہ قبل از اسلام کے قدیم عرب اور اسلامی دور کی مشترکہ یادگار ہے۔اس پہاڑ پر کوفی عربی رسم الخط میں صدیوں پرانی عبارتیں آج بھی موجود ہیں۔ پہلی صدی ہجری کے دور میں وہاں سے گذرنے والے قافلوں نے بھی اپنی یادگاریں چھوڑیں جو آج بھی الفاظ اورنقوش کی شکل میں اس پہاڑ پرموجود ہیں۔

اس پہاڑ پر ایک عبارت 120ھجری میں لکھی گئی جس میں ’اللهم اغفر لمحمد بن إبراهيم بن نافع مولى أبو هريرة ذنبه العظيم‘ ترجمہ : “اے اللہ، ابوہریرہ کے غلام محمد بن ابراہیم بن نافع کے گناہوں کو معاف فرما۔” کے الفاظ ہیں، دوسری عبارت کے الفاظ ’أنا عمر بن سويد أوصي كل ذي علم أن ينفع بعلمه‘ ترجمہ: میں ، عمر بن سوید ، علم والے ہر ایک کو اپنے علم سے استفادہ کرنے کی سفارش کرتا ہوں ‘۔ ہیں۔. یقینا یہ الفاظ بعد از اسلام کے وقت میں لکھے گئے ہیں۔

مورخین اور ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق جبل سفینہ تاریخی پہاڑ ہی نہیں بلکہ عربی زبان کے مختلف ادوار اور تاریخ کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس پرنظر آنے والے نقوش عربی کے مختلف رسم الخط عربی زبان کی تاریخ بھی بیان کرتے ہیں۔اس پر الحسمایہ لہجے کی عربی کے الفاظ بھی نقش ہیں۔ یہ نبطی لہجے سے ملتا جلتا تھا۔ اس کے علاوہ کوفی رسم الخط میں لکھی عبارتیں بھی موجود ہیں۔

وہیل مچھلی کی ساخت کی چٹان :

ضلع تبوک میں ہی ایک اور چٹان جو سیاحوں میں غیر معمولی طور پر مقبول ہو رہی ہے وہ دیو ہیکل وھیل کی طرح ہے۔ چٹان کی بناوٹ قدرتی طور پر وھیل کی شباہت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ارضیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ “اس طرح کی چٹانیں برسوں کی سرد و گرم ہوا اور صحرائی ریت کے کٹاؤ کی وجہ سے ایسی شباہت اختیار کر لیتی ہیں جنہیں دور سے دیکھنے پر کسی جانور یا چیز کا گمان ہوتا ہے۔”

جبل الفیل (Elephant Rock) :

العلاء سے 10 کلومیٹر دور ایک چٹان ہے جسے “ہاتھی چٹان” کہا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ چٹان بالکل ایک ہاتھی کی شبیہ میں ہے۔ یہ چٹان 52 میٹر بلند ہے اور اس کی بناوٹ ہالکل ہاتھی جیسی ہے جس کی لمبی سونڈ زمین کو چھو رہی ہو۔ ہاتھی والی چٹان سے ملحق متعدد چٹانیں اور بھی ہیں جو مختلف جانوروں کی شکلوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں سیاحت کمیٹی کی جانب سے غیر ملکی سیاحوں کے پیکج میں جبل الفیل کو خصوصی اہمیت حاصل ہے سیاحوں کے لئے ان مقامات پر لے جانے کا خصوصی انتظام بھی کیا جاتا ہے۔

جبل جمل (Camel Rock) :

سعودی عرب کے شمال مغربی علاقہ الوجہ شہر سے پانچ کلو میٹر جنوب میں اپنی نوعیت کی ایک نایاب چٹان موجود ہے جسے ’اونٹ والی چٹان‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مجسمہ قدرت کا ایک خوبصوت اور نایاب شاہکار ہے۔ اس پہاڑی علاقے میں اس چٹان کو’جگالی کرتا اونٹ‘ کا عنوان بھی دیا گیا ہے۔ دور سے دیکھنے پر چٹان اونٹ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔چٹان کو دیکھنے سے یہ تصور ابھرتا ہے کہ اونٹ بیٹھ کر جگالی کر رہا ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق عام طورپر ضلع میں آنے والے سیاح اس چٹان کو دیکھنے آتے ہیں جو قدرتی شاہکار ہے۔ اونٹ والی چٹان کی بلندی آٹھ میٹر کے قریب ہے, اور یہ چٹان چونے کے پتھر سے بنی ہوئی ہے۔ اس چٹان کے خدوخال ایسے اونٹ کی مشابہت رکھتے ہیں جو مخصوص انداز میں بیٹھا ہوا ہے۔

جبل النصلۃ :

سعودی عرب کے شمالی صوبے تبوک میں ایک اور حیران کن چٹان پائی جاتی ہے، جو تیما کمشنری کے جنوبی علاقے جبل النصلۃ میں واقع ہے- یہ دو چٹانیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں لیکن دونوں کے درمیان ایک شگاف ہے۔ چھوٹی چٹان بائیں جانب اور بڑی چٹان دائیں جانب ہے۔ اس چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔

دونوں چٹانوں کے درمیان شگاف کے بارے میں مقامی سطح پر بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں چٹانیں پہلے ایک ہی تھیں۔ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے شگاف پڑنے پر دو بن گئیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے درمیان شگاف ان میں معدنیات کی وجہ سے پڑا ہے۔ جبکہ تیسرا دعویٰ بڑا انوکھا ہے، جس کے مطابق یہی وہ چٹان ہے، جس سے حضرت صالح کی اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔ تیما کے باشندے اسے ’حصاۃ النصلۃ‘ کہتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دونوں چٹانیں چھوٹے حجم کے پتھریلے سٹینڈ پر کھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک چٹان چکنی ہے جبکہ دوسری ٹیڑھی میڑھی ہے۔ جس پر آسانی سے چڑھا جاسکتا ہے۔

یہ اور ایسی تمام چٹانیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ویژن 2030 کے ضمن میں اعلان کردہ منصوبوں کی وجہ سے ان علاقوں کی سیاحتی اہمیت کو مزید پرکشش بنا رہی ہیں۔

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *