کیا اب بھی عوام تیار نہیں؟۔۔غزالی فاروق

علامہ خادم رضوی مرحوم کے نماز جنازہ پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر  یہ ثابت کرتا ہے کہ عوام ایسےشخص کو اپنا رہنما تسلیم کرنے پر تیار ہیں  جو  امت مسلمہ  کے مسائل   کو اٹھاتا ہے اور ان کے حل پر بات کرتا ہے۔  لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ  جب توہین  رسالت ﷺسے متعلق حالیہ  مسٔلہ   پر راولپنڈی میں    بھرپور ریلی نکالی گئی اور  اس میں  حکومت کے سامنے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کو قطع کر دینے کا مطالبہ رکھا گیا تو  عوام نے مجموعی طور پر  ان کی بھرپور حمایت کی ۔ اسی طرح علامہ  مرحوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کی خاطر کشمیر   کو بذریعہ افواج    آزاد کرا نے کے لئے حکومت  پر    ایک تسلسل کے ساتھ دباؤ ڈالتے رہے اور اس سلسلے میں مسلمانوں کی قریش مکہ اور پھر سلطنت  روم اور  فارس  کے خلاف   اولین فتوحات کا ذکر   اپنے بیانات میں  تازہ کرتے رہے جن میں صحابہ کرام ؓ   میں سے  حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ، سعد بن ابی وقاص ؓ، ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور خالد ابن ولید ؓ جیسے سپہ سالاروں کا تذکرہ شامل ہوتا ۔   یہ بھی ان کی عوام  کے درمیان  مقبولیت میں اضافے  کی  وجہ بنا۔ اسی طرح حکام اور عوام کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لئے  بعد کے  مسلمانوں  کی افواج میں  شامل    کمانڈروں اور جرنیلوں جیسا کہ محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، محمود غزنوی    اور  صلاح الدین ایوبی کی فتوحات اور بہادری کی مثالیں پیش کر کے  وہ  مسلمانوں کو ان کا  خوبصورت ماضی بھی  یاد کراتے رہے   جس میں مسلمان حق کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔  پھر  انہوں نے برما  میں مسلمان بچیوں پر  ہونے والے مظالم کے بارے میں بھی  بارہا آواز بلند کی اور ایسے ہی وہ  فلسطین،  شام، یمن، افغانستان اور ان جیسے دیگر ممالک   جہاں پر مسلمان مغلوب و مظلوم ہیں، ان  کے بارے میں  بھی آواز اٹھاتے رہے ۔اس سب کی بنیاد پر عوام  کی جانب سے  علامہ  مرحوم کو قابل قدر  پذیرائی حاصل ہوئی۔

یہاں مقصد   خادم رضوی   صاحب  کی خدمات کا تذکرہ کر کے انہیں خراج تحسین پیش کرنا قطعاً  نہیں ۔ بلکہ  قابل غور بات  یہ ہے کہ    ہمیں اس سے    عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات  کو سمجھنے کے حوالے سے    بہت کچھ میسر آیا ہے۔ لہٰذا  عوام  کا ایسے لوگوں کو سراہنے ، ان کی خدمات کو   قدر کی نگاہ  سے دیکھنے اور   فکری اعتبار سے  اپنی  قیادت  انہیں سونپ دینے کی بنیاد پر یہ کہنا     غلط نہ ہو گا  کہ عوام مجموعی طور پر  اسلام پسند  ہیں    اور  اسلام سے محبت کرتے ہیں۔ اور یہ   سب کچھ اس   خیال  کی نفی بھی  کرتا ہے   کہ شاید  عوام  اسلام سے بیزار ہیں  یا اس سے نفرت  کرتے ہیں۔   اسلام کے لئے عوام  کی یہ پسندیدگی ہی  دراصل وہ چیز ہے جو عوام کو اس قابل  اور حقدار بناتی   ہے کہ ان پر اسلام کا  نفاذ کیا جائے تا کہ وہ اسلام کے نظام اور  قوانین  کے ثمرات سے مستفیض ہو سکیں۔

جس طرح عوام کے جذبات سے ان کی خواہشات   کا ادراک حاصل ہوتا ہے   اسی طرح  عوام کے ساتھ حکمرانوں کے  برتاؤ سے بھی عوام  کے جذبات اور ان کی خواہشات کا احساس ہوتا  ہے۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ مشرف سے زیادہ لبرل اور سیکولر ان کے  زمانے میں  کون تھا ۔ مصطفیٰ کمال اتاترک ان  کا  رول ماڈل تھا۔ لیکن مشرف کو حکومت میں آنے کے  کچھ ہی عرصے بعد” روشن خیال اعتدال پسندی” (انلائیٹنڈ موڈریشن)  کا نعرہ لگانا پڑا  جو کہ دراصل اسلام پر اعتدال پسند ی کے ساتھ چلنے کا نعرہ تھا۔ یعنی تھا اسلام پر چلنے کا نعرہ ہی، لیکن اعتدال پسندی کے ساتھ!  یہ عوام کی جانب سے لبرل ترین  حکمرانوں پر اسلام کے دباؤ کی ایک واضح دلیل ہے۔ پھر ہمارے موجودہ  وزیر اعظم  عمران خان صاحب کو بھی  کنٹینر پر اپنی تقاریر کا آغاز   “ایاک نعبد و ایاک نستعین ” سے کرنا پڑتا اور وہ خلافت راشدہ کی مثالیں دیتے نہ تھکتے ۔ اب بھی انہیں وقتاً  فوقتاً ” مدینہ کی ریاست ” کا حوالہ دینا پڑتا ہے تا کہ عوام میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت  کو مسلمانوں کے جذبات  کے ذریعے سے ہی سہارا دیا جا سکے۔  یعنی یہ امت دھوکا بھی کھاتی ہے تو صرف  اسلام سے!

عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کے اسلامی ہونے کی مثالیں بے شمار ہیں ۔ بہت سے  پرائیویٹ سکولوں میں   آکسفرڈ  یا کیمبرج کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم  کا پیکیج شامل کرنا  ۔ ظاہر ہے یہ اس لئے کہ  اس کی معاشرے میں ڈیمانڈ ہے    ۔ پرائیویٹ  ٹی وی چینلز  کا باقاعدہ  مختلف اقسام کے اسلامی پروگرام  مختلف اوقات میں نشر کرنا  کیونکہ ان پروگرامز کو دیکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ مساجد  میں نوجوانوں کی تعداد  کا بڑھنا   جبکہ آج سے صرف بیس سال پہلے تک چند بوڑھے لوگ ہی مساجد میں نظر آیا کرتے  تھے۔ پھر یہ بات بھی قابل ادراک ہے کہ  اگر  لوگوں کا بس چلے تو  ٹیکس    ادا نہ  کریں   ، لیکن زکوٰۃ جتنی  بھی  بنتی ہے وہ  احتیاط  کے طور پر اس سے  کچھ زیادہ ہی  نکال  دیتے ہیں  اور  عام صدقات اس سے الگ ہیں۔  عوام قطار میں پانچ منٹ انتظار نہیں کرتے لیکن  دو منٹ میں نماز جنازہ  میں قطاریں بنا لیتے ہیں، خواہ ہزاروں کی تعداد میں ہی کیوں نہ  ہوں۔ ٹریفک اشارے پر 25 سیکنڈ نہیں رکتے  لیکن  شادی سے پہلے 30 سال تک زنا سے رکے  رہتے ہیں ۔ پھر یہ  بھی دیکھنا چاہیئے کہ کیا  عوام  بخوشی  سود میں لین دین کرتے ہیں یا وہ ایسا بد دلی سے کرتے ہیں اور دراصل اس سے بچنا چاہتے ہیں ؟  اسی طرح کیا وہ  ہر سو فحاشی و عریانی پھیلے  ہونے  کا مطالبہ  کر تے نظر آتے ہیں؟  یا یہ کہ انہیں پردے سے نفرت ہے؟  ظاہر ہے ایسا کچھ نہیں۔   اگر  جمہوریت ختم  ہو جائے، آئین  معطل  ہو جائے اور اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں ، عوام پر  ایک جوں  تک نہیں رینگتی لیکن  قرآن مجید  یا رسول اللہ ﷺ کی بے حرمتی پر لوگ  دیوانہ وار نکل آتے ہیں۔ یہ اسلام سے والہانہ عقیدت نہیں تو کیا ہے؟ تبھی ہم  عوام میں ” میرا جسم میری مرضی” جیسی ریلیوں کا مذاق ہی بنتا  دیکھتے ہیں۔

ان جیسے  تمام  قرائن کے علاوہ بے شمار  سروے اور پولز نہایت واضح انداز میں  اسی بات کی گواہی دیتے  نظر آتے  ہیں کہ عوام اسلام چاہتے ہیں۔ امریکہ کے ادارے”   ورلڈ پبلک اوپی نیین  “کی ۲۵ فروری ۲۰۰۹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے  ۷۶ فیصد    لوگ  اس بات سے متفق ہیں  کہ مسلمانوں کے ہر ملک میں   شرعی قوانین کا کڑا نفاذ ہونا چاہیئے۔  امریکہ کے ایک اور ادارے  ” پیو ریسرچ سنٹر ” کی  ۲ دسمبر ۲۰۱۰ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے   ۸۸ فیصد  لوگ  کہتے ہیں کہ  اگر اسلام سیاست کے اندر  ایک بڑا کردار ادا کرے تو یہ بہت اچھا ہو گا اور ۸۵ فیصد لوگ کام کی جگہوں پر  مردوں اور عورتوں کے درمیان علیحدگی کے حامی ہیں۔” گیلپ پاکستان” کی ۳۱ مئی ۲۰۱۱ کی ایک رپورٹ کے مطابق  جب پاکستان کے لوگوں سے پوچھا گیا  کہ کیا حکومت کو  چاہیئے کہ وہ معاشرے کو اسلامی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے  تو ۶۷ فیصد لوگوں نے ہاں میں جواب دیا اور صرف  ۱۳ فیصد نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں جبکہ ۲۰ فیصد کی جانب سے جواب نہیں آیا۔ اسی طرح   ” پیو ریسرچ سنٹر ” کی  ۳۰ اپریل ۲۰۱۳ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ۸۴ فیصد لوگ شریعت کو ملکی قانون بنانے کے حق میں ہیں،     ۸۸ فیصد لوگ    چوری کی  اسلامی سزا   کےحامی   ہیں،   ۸۹ فیصد لوگ شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کئے جانے کی سزا کے قائل  ہیں،  ۷۶ فیصد لوگ اسلام سے نکل جانے والوں کے لئے سزائے موت کے حامی ہیں  اور ۹۱ فیصد لوگ  اس بات کو اچھا نہیں گردانتے  اگر   ملکی قوانین شریعت کی صحیح معنوں  میں عکاسی نہ کر رہے ہوں۔ امریکہ کے ادارے “مڈل ایسٹرن ویلیوز سٹڈی ” کی  ۱۵ دسمبر ۲۰۱۳ کی ایک رپورٹ  کے مطابق جب پوچھا گیا کہ عورتوں کو گھر سے  باہر کس قسم کا لباس   زیب تن کرنا چاہیئے تو پاکستان کے ۹۰ فیصد لوگوں نے حجاب کے لباس کی حمایت کی جس میں نقاب، برقعہ، عبایہ  یا سکارف شامل تھا ، جبکہ ۸ فیصد نے صرف سر ڈھکنے کی بات کی  اور صرف ۲ فیصد لوگوں نے  بغیر سر ڈھکے عام لباس پہننے کے حق میں رائے دی۔ اسی طرح جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ  کیا یہ عورت کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ جیسا چاہے  لباس زیب تن کرے تو  ۷۸ فیصد لوگوں نے اس بات  سے مخالفت کا اظہار کیا۔ اس  آخری سروے میں ۵۰ فیصد مرد اور ۵۰ فیصد عورتوں کی آراء لی گئیں  اور دونوں کی آراء میں کوئی قابل قدر فرق نہ پایا گیا۔ پھر ان میں سے اکثر سروے اور پولز تمام اسلامی ممالک میں منعقد کئے گئے اور اکثر ممالک میں لوگوں کی اکثریت  کی جانب سے ملتی جلتی آراء سامنے آئیں جن سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نا صرف پاکستان بلکہ اکثر مسلم ممالک میں مسلمان اسلام کے خواہشمند ہیں۔

لیکن اس سب کے بعد ایک   سوال  یہ ضرور  اٹھتا ہے کہ اگر لوگ  واقعی میں اسلام چاہتے ہیں تو وہ اسلامی  سیاسی جماعتوں  کو ووٹ کیوں نہیں دیتے تاکہ   وہ اپنے جذبات سے ہم آہنگ نظام حکومت کے نفاذ کو ممکن بنا  سکیں ؟  اس کی  دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ موجودہ نظام  حکومت میں انتخابات  اس لئے   منعقد نہیں  کئے جاتے  کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ ملک میں کون سا نظام حکومت  نافذ  ہو گا۔یعنی یہ   انتخابات  اس بات کا ریفرنڈم نہیں   ہیں کہ  “عوام کون سا نظام چاہتے ہیں”  ۔ اگر ہم واقعی یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ عوام  کو کونسا نظام حکومت  پسند ہے  تو ووٹ کی پرچی پر “جمہوریت، آمریت اور  خلافت” لکھ کر ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے ۔ ایسا ہی ایک سروے پاکستان میں ۲۰۱۱ میں” ایم ای ایم آر بی “کی جانب سے کروایا جا چکا ہے جس میں لوگوں سے دریافت  کیا  گیا کہ  ان کے خیال میں  پاکستان کے مسائل کا حل کس طرح کے طرز حکومت میں ہے تو ۵۳ فیصد لوگوں نے کہا خلافت میں  ، ۲۲ فیصد نے کہا مارشل  لاء میں ، ۱۱ فیصد نے کہا جمہوریت  میں ، چھ فیصد نے کہا بادشاہت   میں جبکہ صرف  ۲ فیصد نے کہا اسلامی جمہوریت میں پاکستان کے مسائل کا حل ممکن ہے۔

لوگوں کا اسلامی جماعتوں کو ووٹ نہ دینے کی دوسری بڑی وجہ  یہ ہے کہ   لوگوں کو اسلامی اور لبرل  جماعتوں کے  سیاسی مواقف میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔اسلامی جماعتوں نے محض چند اسلامی نعروں کے علاوہ کون سا ملکی مسائل کےحل سے   متعلق اسلام سے تفصیلی احکام پیش کئے ہیں کہ عوام ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ووٹ دے دے!  لہٰذاہم دیکھتے ہیں کہ   ایسا نہیں ہے  کہ اسلامی جماعتیں  تو  کشمیر  اور فلسطین کو مسلم  افواج کے ذریعے جہاد کر کے  آزاد کرانے کی بات کرتی ہوں لیکن صرف  لبرل سیاسی جماعتیں ایسے کسی  عزائم سے عاری  ہوں  ۔  اسی طرح  ایسا نہیں کہ   لبرل سیاسی جماعتوں کے بر عکس اسلامی سیاسی جماعتیں   پاکستان کو امریکہ ، اقوام متحدہ ، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف  اور  دیگر عالمی استعماری  طاقتوں  اور اداروں کے اثر و رسوخ  سے مکمل طور پر آزاد کرنے کی بات کرتی ہوں  یا    پاکستان کی داخلہ اور   خارجہ پالیسی کو بیرونی دباؤ سے     آزاد کر کے  پاکستان کو مکمل طور پر خود  مختار کرنے کا حل دیتی ہوں۔یا  اسلام کے معاشی نظام کے ذریعے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے آزاد کرنے کا  کوئی واضح حل دیتی ہوں۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں۔  بلکہ اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے لبرل ہو یا اسلامی، ان کی سیاست آ جا کے ان چند گنے چنے مسائل کے گرد گھومتی ہے کہ  لوگوں کی  گلیاں اور نالیاں پکی کرا کر دینا، ٹرانسفارمر اور گیس کنکشن لگوا کر دینا اور  لوگوں کی نوکریاں وغیرہ  لگوا کر دینے  جیسے مسائل۔ اور یہ بات درست ہے کہ اس قسم کے مسائل  کو حل کرنے کے لئے   عوام اسلامی جماعتوں کی نسبت  لبرل  سیاسی جماعتو ں کو زیادہ   با رسوخ ، وسائل کی حامل اور قابلیت کی  وجہ سے اہل   سمجھتی ہے۔اس لئے اسلامی جماعتوں کے  مقابلے میں  زیادہ ووٹ لبرل سیاسی  جماعتوں کو پڑتے ہیں۔  لہٰذا جمہوریت میں منعقد کردہ انتخابات کو” لوگوں کے اسلام کو چاہنے”  کا معیار بنانا  درست نہیں۔

اس ضمن میں ایک آخری  توجہ طلب بات یہ ہے کہ   عوام کے اسلام کے لئے تیار ہونے کا  یہ مطلب ہر گز نہیں کہ عوام بہت فرشتہ صفت ہیں اور ہر قسم کے عیوب سے پاک ہیں۔ لوگوں کے اعمال میں یقیناً  خامیاں موجود ہیں  اور سماجی برائیاں بھی ہیں لیکن  اس کے باوجود یہ بات بھی درست ہے کہ اسن کے جذبات  اسلامی ہی  ہیں۔ لہٰذا مسٔلہ یہ ہے کہ عوام اپنے اعمال کو  اس عقیدے کے مطابق پوری طرح سے ڈھالنے سے قاصر ہیں جس عقیدے کے ساتھ ان کے جذبات وابستہ ہیں۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ موجوہ نظام میں  برائی کی طرف رغبت  اور برائی کے مواقع اس قدر زیادہ  ہیں کہ  برائی   کرنا بہت سہل ہے جبکہ اس نظام نے  نیکی اور اچھائی کی راہیں اس قدر مسدود  کر دی ہیں  کہ اچھائی پر چلنا نہایت   کٹھن  ہو  گیا ہے۔ ایسے میں لوگ جذبات اسلامی رکھنے کے باوجود اپنے اعمال کو مکمل طور پر اسلام کے مطابق  نہیں ڈھال  پاتے۔ یہ صرف اور صرف اسلام ہی ہو گا جو اپنے تعلیمی نظام، معاشرتی نظام، اقتصادی نظام ، عدالتی نظام اور حکومتی نظام کے ذریعے    ایک ایسا  اسلامی معاشرہ قائم کرے گا جس میں اچھائی پر چلنا نہایت سہل   اور برائی   کی  طرف جانا بہت دشوار ہو گا ۔ یوں افراد اپنے اعمال کو زیادہ سے زیادہ اسلام کے مطابق ڈھال سکیں گے۔لہٰذا عوام مجموعی طور پر اسلام کے لئے تیار ہیں  اور اس کی جستجو بھی  رکھتے ہیں۔ یہ صرف موجودہ نظام اور ان نظاموں پر فائز  حکمران اشرافیہ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر لوگوں پر  اپنی خواہشات کے مطابق  حکومتیں کرتے ہیں  ۔  آج ضرورت اس امر  کی ہے کہ عوام کے اوپر وہی کچھ  نافذ کیا جائے جس کے درست ہونے پر وہ ایمان   رکھتے ہیں اور جس  کے  وہ خواہشمند بھی ہیں۔

 

Shopping Revolution

Avatar