جھولے لال۔۔سلیم مرزا

ویگن پنڈی سے نکلتے ہی لہرانے لگی تو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے حاجی ثنا ءاللہ نے شور مچانا، شروع کر دیا کہ ڈرائیور نشے میں ہے۔
گاڑی رکوا کر جائزہ لیا تو ڈرائیور نے گریس میں چرس اور ڈیزل میں کپی تک ملا کرپی ہوئی تھی۔ ۔
مسافروں نے اسے کہا
” آہستہ آہستہ واپس صدر اڈے پہ چلو ابھی قریب ہے ،وہ ڈرائیوربدل دیں گے”
ڈرائیور کہنے لگا ۔”باوا، تسی رولا نہ مچاؤ ۔اگر کوئی حادثہ ہوا تب مجھے کہنا “؟
حاجی ثناءاللہ نے اس کی گدی پہ ایک لگائی اور کہا “سالیا، کوئی بچے گا تو شکایت کرے گا ناں ”
آخری اطلاعات تک ویگن وہیں کھڑی ہے۔مگر بھلا ہو،سوشل میڈیا کا کہ اس نے مزاح اتنا تیز رفتار کردیا ہے کہ لوگ سوچتے رہ جاتے ہیں اور جگتیں ملتان پہنچ چکی ہوتی ہے ۔اور پنڈی اڈے والے مذاق مذاق میں دوسری ویگن میں سواریاں بھر رہے ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں کسی بھی عہدے کیلئے بہترین بندہ وہ ہے جو طنزومزاح کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو ۔
پانامہ کیس کے دوران آپ عدلیہ کے ریمارکس کی ریٹنگ چیک کرلیں ۔یااداروں کی پریس کانفرنس ۔
ہر معاملے کو ٹچکروں سے نبٹایا جاتا رہا ہے ۔اور آج تک یہ سلسلہ رکا نہیں ۔محبت اور جہالت رکتی بھی کب ہے۔؟
وہیں ٹھاہ کر دیتے ہیں جہاں ٹھان لیتے ہیں ۔
اور اٹھان کا حال تو یہ ہے کہ جہاں زبانی حماقتوں سے کام نہ چلا وہاں حکومتی ارکان نے عملی طور پہ خود کو چارلی چپلن ثابت کیا ۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مہنگائی سے ہاری عوام ہنسنے کیلئے حکومتی بیان سنتے ہیں ۔پھر جی بھر کر روتے ہیں ۔

کابینہ کی ہر معاملے میں کارکردگی صفر ہے ۔ اس شعبے میں بھی نیازی کو خود ہی آنا پڑا۔ ہر دوسرے دن کسی چینل پہ آکر لوگوں کو ہنساتا ہے ۔
اس نے ڈبل روٹی بنانے والے ایک چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اپنی ہمت سے زیادہ کام کیا ہے ۔
“اور دوسال کی محنت سے معیشت کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا ہے “حالانکہ پہلے وہ دوڑ رہی تھی ۔قوم کی کیا عزت رہ جاتی اگر معیشت دوڑ جاتی؟

گاؤں میں ایک بابا جی سفر آخرت پر روانہ ہونے سے پہلے حسب دستور بیمار ہوئے،اس کے بیٹے سے کسی نے پوچھا بابے کا علاج کروایا ہے کیا؟
کہنے لگا حکیم چراغ دین نے دواِئی دی ہے اور گارنٹی دی ہے کہ چار دنوں کے اندر بابا ٹرنے لگے گا۔
چوتھے دن بابا واقعی ٹر گیا ۔

ہماری بیمار معیشیت کا علاج بھی لگتا ہے آج کل اسی حکیم کے ہاتھوں چل رہا ہے۔بس چار دن کی بات ہے۔
اور سرکاری کاغذوں میں جس چیز کا نام معیشت ہے اس میں اب کھڑی ہونے کی صلاحیت بچی ہی نہیں ۔وہ تو اب “پٹھی “لیٹی ہوئی ہے ۔اور حکومت چونکہ ماہی کے کافی نیڑے ہے لہذا ڈانگ عوام کی منجی میں پھر رہی ہے ۔
مہنگائی سے جس کی آنکھیں نہیں کھلیں تھیں اب اسکے ڈیلے باہر آگئے ہیں اور وہ صاف دیکھ سکتا ہے مگر نیازی صاحب بضد ہیں کہ “تمام معاشی اشارئیے مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں “چھوٹے خاں صاحب کی مثبت سمت لاہور کے دوموریہ پل پہ کھڑے ٹریفک سارجنٹ جیسی ہے جو کبھی جان نہیں پاتا کہ دائیں طرف سے، آنے والا واقعی دائیں طرف سے آرہا ہے؟
اور وہ جو اشارئیے کر رہا ہے وہ واقعی کسی قانون میں درج ہیں ۔اور ویسے بھی پچھتر سال کی عمر میں کچھ نہ ہور ہا ہو تو، اشارے کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟
بزرگ بچپن میں ہی بتا چکے تھے کہ ایسے اشاروں سے معشت بحال نہیں ہوتی ۔گناہ ہوتا ہے ”
“پہلے ہی اپوزیشن مہنگائی کے متعلق حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ کر رہی ہے “اتنی سست اپوزہش پہلی بار دیکھی ہے۔لٹتی نائیکہ سے ہے مارتی کھسرے کو ہے ۔
اوراپوزیشن کی یہ بات ویسے ہے غلط ۔کیونکہ مہنگائی کا الزام ہمیشہ سابقہ حکومتوں پہ ڈالا جاتا ہے ۔اور ویسے بھی مہنگائی اور حکومت دونوں مونث ہیں ۔ایک دوسرے کاسہارا ہیں ۔اندرا کھاتے ساری پارلیمنٹ پرتگالی ہے۔
قوم سیاپہ کر رہی ہے اور یہ کہہ رہا ھے کہ میں “اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں ”

مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے ہم نام صحافی نے بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ چلو کوئی تو اس ملک میں مطمئن ہے ۔حالانکہ اس کے منہ پہ صاف لکھا تھا کہ وہ خود مطمئن نہیں ۔
“اپوزیشن اپنی سیاست چمکانے کیلئے عوام کو گمراہ کر رہی ہے ”
جناب بے فکر رہیں ۔قحط کے اس، دور میں آٹے کی لائن سے نکل۔کر کوئی اپوزیشن کے پیچھے نہیں جائے گا ۔انہیں روٹی پوری کرنےبسے فرصت نہیں۔
عوام نے بھی اپنا احتجاج اپوزیشن کے سپرد کر رکھا ہے کہ وہ کچھ کرے اور اپوزیشن ان حالات میں “بابے “کی طرح سوچے جارہی ھے کہ شکایت لگانی ہے کہ فائدہ اٹھانا ہے ۔؟
ویسے بھی ڈرائیور دن رات چلا رہے “دوسال سے چھٹی نہیں کی، اور زندگی میں کبھی اتنی محنت نہیں کی جتنی سلیکشن کے بعد “پی ” ہے”
مہنگائی سے ملک فل ٹن ہے ۔عوام سڑکوں پہ رل رہی ہے ۔اپنے پیارے عوام کو بچالیں “کہیں نشے میں وہ تنہا نہ رہ جائیں ”
اور جو ڈرائیور کہتا ہے میں نشئی نہیں ہوں ،اسے زبردستی میڈیکل لیو پہ بھیج دو ۔مان لو کہ ” قوم ہی نشے میں ہے ۔

Shopping Revolution