• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • کیا پاکستانی محققین و سائنسدان عدم توجہی کا شکار ہیں ؟۔۔مراد محمد

کیا پاکستانی محققین و سائنسدان عدم توجہی کا شکار ہیں ؟۔۔مراد محمد

سوشل میڈیا پر مشہور امریکن یونیورسٹی( سٹینفرڈ یونیورسٹی) کی جاری کردہ لسٹ میں پاکستانی محققین کی بڑی تعداد دیکھ کر دل و زبان سے  بے  ساختہ شکرانے کے الفاظ نکل گئے ۔ ایک سائنسی جریدے کے مطابق پاکستان کے  (۸۱) محققین اور سائنسدانوں نے دنیا کی بااثر ترین ریسرچرزکی کامیاب فہرست میں جگہ بنالی ہے ، جسےThe world top 2% scientistsکے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس عظیم فہرست میں جگہ بنانا کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ یہ صرف انتھک محنت اور دن رات بیداری سے ہی ممکن ہے۔  دنیا میں کہی بھی کوئی بندہ وطن یا معاشرے کی بھلائی کے لئے کوئی کارنامہ انجام دیتاہے وہ فوراً توجہ کا  مرکز بن کر ،اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر حکومتی خبر رساں اداروں کا مہمان بن جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وطن عزیر میں کھیل بالکل برعکس ہے، یہاں اگر ہوتا بھی ہے تو  محض “ناانصافی کےساتھ”۔

کئی دنوں سے طلباء اپنے  منتخب شدہ اساتذہ کرام کو مبارکباد دینے میں مصروف  ہیں ، لیکن دوسری طرف حکومت اس  حوالے سے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی  ہے۔

کیا پاکستان میں  سائنسدانوں  کو دیگر شعبہ جات کی بنسبت کم توجہ دی جاتی ہے؟

ہاں! کیونکہ ہمارے ہاں اگر کوئی کرکٹر محض پچاس  سکور بناتا ہے تو شام کو وہ ضرور کسی نہ کسی نیوز چینل کا مہمان بن جاتا ہے۔ کاروباری حضرات (مخصوص میڈیا نمائندگان)  ان کے گھر پہنچنے  سے پہلے  ان کی رہائش گاہ  پر   آرام فرما ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی سائنسدان  حقیقی معنوں میں قوم کی ترجمانی کر ے ،تو پھر حکومت سمیت کاروباری حضرات دوربین لے کر بھی  تلاش کرنے سے  نظر نہیں  آتے۔ حکومت اگر کسی فنکار کو محض گانا گانے پر ایوارڈ دے سکتی  ہے تو ایک سائنسدان کی خدمات پر  اتنی  خاموشی کیوں؟

اگر ایک  اداکارہ  کو محض اچھا  ڈانس  کرنے  کی بنیاد پر ایوارڈ یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے تو قومی اصلی ہیرو (سائنسدان) عدم توجہی  کا  شکار کیوں؟

اگر ایک نواب زادے کو سکول، کالج اور دوسری ترقی یافتہ سکیمز کے  افتتاح کے لئے منتخب کیا جا سکتا ہے  تو ایک عظیم سائنسدان کو کیوں نہیں؟

ہمارے ہاں سائنسدانوں کی موجودگی کمال بھی ہے ، اور بدقسمتی بھی ۔ کمال اس طرح کہ ہمارے ہاں جدید ریسرچ ٹیکنالوجی اور لیبز  نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس فقدان کے باوجود بھی ہمارے اساتذہ کا   دنیا کی ٹاپ فہرست میں شامل ہونا یقیناً کمال سے کم نہیں۔

بدقسمتی کچھ اس طرح کہ      ہمارے ہاں کچھ تو حکومت کی غیرسنجیدگی ، لیکن سرمایہ دار حضرات بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

باہر کے  ملکوں میں سرمایہ دار حضرات حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ، جیسا کہ تمام  امریکن سرمایہ داروں نے کرونا کے خلاف حکومت کے ساتھ اربوں ڈالرز  کا تعاون کیا تھا۔وہ اپنے  ہیروز کو سراہتے ہیں لیکن یہاں بدقسمتی سے سرمایہ دار بھی حکومت کے  نقش  ِ قدم پر چل رہے ہیں حکومت کی طرح فنکاروں ،کرکٹرز اور دیگر شعبہ جات ان کی بھی اولین ترجیح ہیں۔ بحریہ ٹاؤن میں کرکٹرز، فنکاروں اور تقریبا ًہر شعبے سے منسلک لوگوں کے پلاٹ  تو  آپ کو نظر آئیں  گے ۔

لیکن اگر کسی کے پلاٹ  یا جاگیر نہیں ہے تو وہ ہیں ، محقق ، استاد اور سائنسدان ۔

بین الاقوامی نہیں بلکہ ایک قومی کرکٹ ٹورنامنٹ کا  فائنل  میچ جیتنے کے بعد ایک نمائندہ ،جیتنے والی ٹیم کے   کپتان سے پوچھنے لگا کہ سر فائنل تو جیت لیا، اب کیا کچھ خاص ملے گا ؟ جواب میں موصوف ہنس کر بتانے لگے ،  ہمارے ساتھ پہلے سے کراچی میں پلاٹ دینے کا وعدہ کیا گیاہے لیکن اب کی بہترین بین الاقوامی کارکردگی پر خاموشی    ہے۔۔کیا یہ ہماری بد قسمتی  ہے یا  محض اتفاق ؟
A success without appreciation and encouragement is nothing at all

حکومت وقت اور ایوان بالا میں بیٹھے حضرات یہ بات ذہین نشین کر لیں کہ یہ سائنسدان انمول ہیرے ہیں ، یہ صدیوں میں چند ملتے ہیں۔  پاکستان میں سائنسدانوں کی موجودگی اللہ تعالی کا  کرم اور مہربانی ہے۔ اس بڑی نعمت پر اللہ تعالیٰ کی   شکرگزاری اور ان عظیم لوگوں کی  حوصلہ افزائی کیجیے۔ان لوگوں سے ہی حقیقی معنوں میں ترقی کی امید رکھی جاسکتی ہے ۔

Shopping Revolution

Avatar
murad muhammad
I am a student And a writer