• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سنے کون قصہ درد دل, میرا غم گسار چلا گیا۔۔محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

سنے کون قصہ درد دل, میرا غم گسار چلا گیا۔۔محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

اٹک میں پیدا ہوکے لاہور کی مسجدیں آباد کرنے والا 54 سالہ اولڈ ینگ مین دنیا دل میں عاشقی رسول ﷺ کی شمعیں جلائے, کروڑوں دلوں کو غم جدائی دے کے محفل رسول ﷺ کا ممبر بن گیا۔ دل غم سے چور ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پہ کسی کی معمولی سے معمولی تکلیف پہ بہت آنسو بہائے لیکن آج جو آنسو حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے وصال پہ آنکھوں سے امڈے ۔ کچھ الگ ہی آنسو ہیں ۔کچھ الگ ہی درد ہے ان آنسوؤں میں جو آج سے پہلے مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا, ان آنسوؤں کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہوں لیکن کچھ اس طرح کے احساسات ہیں
کہ آنسوؤں میں ٹھنڈک بھی ہے , گرمی بھی ہے۔
دکھ بھی ہے اور راحت بھی ہے ۔
سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان خوبصورت آنسوؤں کی تخلیق کہاں سے ہوئی لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ آنکھ کے معمولی آنسو نہیں ہیں ۔
یہ آنسو کسی اور ہی مقام سے آئے ہیں۔ جو تھمتے ہیں ,پھر شروع ہو جاتے ہیں۔
ابھی بھی بہے جارہے ہیں اور انکی خوشبو سے کمرہ مہک رہا ہے ۔کبھی رک جاتے ہیں ۔ علامہ صاحب کا تصور آتے ہی بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن بھی بے ربط سی ہے۔
علامہ صاحب کے جانے کا سوچتا ہوں تو درد کے آنسو شروع ہو جاتے ہیں لیکن جب عاشق کی محبوب ﷺ سے ملاقات کا منظر آنکھوں میں آتا ہے تو کمرہ آنسوؤں کی خوشبو سے مہک جاتا ہے۔آپ کیلئے یہ الفاظ ہو سکتے ہیں لیکن میرے ساتھ رات کے  اس پہر ایسا ہو رہا ہے۔

سچ بتاؤں تو آج الفاظ بھی مجھ سے روٹھے روٹھے سے لگتے ہیں ورنہ وہ اتنی روانی سے بہتے ہیں کہ ہاتھ تھک جاتا ہے۔ آج چونکہ شخصیت بہت بڑی ہے اور میری اتنی حیثیت نہیں کہ کچھ لکھ سکوں ۔
بس جو کچھ ہے۔ آج آپ کیلئے میرے پاس یہی کچھ ہے ۔ اس سے زیادہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے دل میں اٹھنے والے طوفانوں کو الفاظ کا روپ دے سکوں۔

دنیا کے اربوں لوگوں نے وہ منظر دیکھا جو آنے والے کئی ہزار سال تک دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔ عاشق رسول ﷺ کی عاشقی نے عشق کا بدلہ چکا دیا۔ ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ہر دل دکھ سے معمور ہے۔ شدید مسلکی اختلاف رکھنے والے بھی بات کرتے ہوئے رو پڑتے ہیں۔
کچھ تو ہے   ایسا اس عشق میں , کہ جس نے سب کو رلا دیا ہے۔ آج ان کے جانے کے بعد دل میں درد بھری ٹیسیں بسیرہ کیئے بیٹھی ہیں کہ کاش ایک بار زندگی میں عظیم ہستی سے مل لیتے۔ انکا دیدار کر لیتے, ہاتھ چوم لیتے تو شاید محفل مصطفےٰ ﷺ میں آج ہمارا بھی تذکرہ ہو جاتا۔

مرتے دم تک اس بات کا افسوس رہے گا کہ ہم نے اس عظیم عہد ساز شخصیت کی قدر نہیں کی ۔ انکی باتوں کی قدر نہیں کی۔ غفلت کی زندگی جیتے جیتے سب کچھ کھو دیا۔

رات سے دل کی عجیب حالت ہے کہ ایک بیقراری سی ہے۔ آنسو بہانا تو معمولی سی بات لگتی ہے کاش کہ کچھ ایسا ہو کہ میرے اندر کا دکھ ظاہر ہو۔۔۔ رات سے سوچ رہا تھا کہ تاجدار ختم نبوت ﷺ پہ کچھ لکھنے کی جسارت کروں لیکن ہمت ہی نہیں ملی۔ سوچا لکھوں گا تو الفاظ کہاں سے لوں گا, وہ احساسات کہاں سے لوں گا جو اس عظیم انسان کی قدرومنزلت کے عین مطابق ہوں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ میرے پاس آج کوئی ایک بھی ایسا لفظ ہے جو ان کے شایان شان ہو۔

شام سے ہی ان کے کلپ نکال نکال کے سن رہا ہوں۔ آج انکے ہر لفظ, ہر ادا سے تڑپ عشق رسول ﷺ کا اظہار ہو رہا ہے ۔انکا تلخ رویہ بھی دل کو بھا رہا ہے۔ہر ادا,ہر صدا سے عشق مصطفی ﷺ جھلک رہا ہے ۔ انکے چہرے کی مسکراہٹ بھی عشق کا پتہ دے رہی ہے۔
قربان جاؤں تیری ان اداؤں پہ, تیری عشق رسول ﷺ سے وفاؤں پہ۔۔۔۔ کاش کہ ہزار زندگیاں ہوتیں تو میں آپکی ان خوبصورت اداؤں پہ قربان کر دیتا۔

ہم دنیاوی آلائشوں میں جکڑے لوگ ان پہ ہمیشہ اعتراض کرتے رہے۔ انکے انداز بیاں پہ اعتراض کرتے رہے۔ انکی سخت باتوں پہ معترض رہے لیکن آج پتہ نہیں کیوں انکی ہر بات دل میں مدوجزر پیدا کرتے ہوئے برقرار کر رہی ہے۔

سونے کی کوشش کی۔ ٹیبلیٹس بھی لیں لیکن کروٹیں بدلتے آدھی رات بیت گئی تو قلم اٹھا لیا کہ شاید کچھ بات بن جائے۔ کچھ الفاظ مل جائیں۔ شاید کچھ ایک لفظ ھی ایسا مل جائے جو انہیں پسند آجائیں ۔

پوری دنیا نے دیکھا۔۔۔ کفار نے بھی دیکھا کہ مینار پاکستان کا وسیع و عریض گراؤنڈ  رنگ و نور کی برسات میں بھیگا ,خوشبوؤں سے نہایا ۔
ہوتا بھی کیسے نا ۔۔۔عاشق رسول ﷺ کا جنازہ جو تھا۔ رخصتی تھی۔ بڑے بزرگ آئے ہوں گے, قطب, غوث, ولی, ابدال آئے ہوں گے۔ فرشتے, ملائکہ اور تمام مخلوقات دیدار عاشق رسول ﷺ کیلئے آئی ہوں گی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خود اپنے عاشق کے استقبال کیلئے آئے ہوں گے۔
اس فلک نے بہت سے منظر دیکھے۔ لیکن ایسا منظر فلک نے صدیوں بعد دیکھا ہو گا۔کفار بھی دیکھ کے منہ میں انگلیاں دابے دم بخود رہ گئے ہوں کہ عاشق رسول ﷺ کی رخصتی کتنی دلفریب ھے۔
سچ کہوں تو یہ سارا منظر دیکھ کے کروڑوں زندگیاں ناموس رسالت ﷺ پہ قربان کرنے کو جی چاہنے لگا ہے۔ زندگی ملے۔۔۔ قربان ہو جاؤں۔۔۔ پھر ملے۔۔۔ پھر قربان ہو جاؤں۔۔۔۔

آج مجھے عشق رسول ﷺ کی حقیقی سمجھ آئی ہے کہ ان عاشقوں کی شمعیں صدیوں تک کیوں جلتی ہیں۔ غازی علم دین شہید بغیر پڑھے قرآن کریم کے حافظ بن گئے اور ایسے قاری تھے کہ جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی شاگردی میں قرآن پاک حفظ کیا تھا۔پھر چشم فلک نے نظارہ دیکھا کہ لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ حضرت علامہ اقبال رحمتہ علیہ  جیسے بلند پایہ بزرگ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ آج ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا۔ آبادیاں بہت کم تھیں۔ لوگ بہت کم تھے ذرائع آمدورفت بھی نہیں تھے لیکن جنازہ لاکھوں میں تھا۔ لوگ امڈ آئے۔۔۔ آج تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ کون لوگ تھے ,کہاں سے آئے تھے۔آج سمجھ آئی کہ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔۔

سالوں گزر گئے لوگ حضرت غازی علم دین شہید علیہ رحمہ کو بھولتے جا رہے تھے۔ نئی نسل کو قربانی کا ادراک نہیں تھا تو سرکار دو عالم ﷺ نے ڈیوٹی لگائی کہ میرے عاشق کا نام بچوں کے ذہن سے مٹتا جا رہا ہے, جاؤ اور میرے عاشق کا نام روشن کرو۔ ٹانگوں سے معذور, سرکار ﷺ کے عشق کے نشے سے سرکار حضور قبلہ حضرت خادم حسین رضوی صاحب مزار اقدس پہ جا پہنچے۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی شاندار عرس کا اہتمام کیا۔ ابتدا کر دی, انتہا اب ابد کرے گی۔

ممتاز قادری شہید کا جنازہ تھا۔ حکومت وقت نے سخت پابندیاں لگا دیں۔ پھانسی دے دی گئی۔ ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی۔ شہر لاک کر دیئے گئے۔ نماز جنازہ کے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن شہد کی مکھیوں کی طرح لوگ نظر آئے۔ لاکھوں کا ہجوم تھا۔ پنڈی اسلام  آباد کی سڑکیں پیدل چلنے والوں سے بھری پڑیں تھیں۔ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لاکھوں لوگ دیدارِ یارِ مصطفی ﷺ کو تڑپ رہے تھے۔ حضرت علامہ خادم حسین رضوی شہید بھی آنکھوں میں آنسو بھرے اس عاشق رسول ﷺ کی رخصتی میں شریک تھے۔

دل میں تڑپ عشق رسول ﷺ تو پہلے ہی سے تھی لیکن جب ریاستوں کا بہیمانہ رویہ دیکھا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسی ریاست کے جاہلانہ رویے سے مایوس ہو گئے جو ناموس رسالت ﷺ پہ بار بار وار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ممتاز قادری شہید کو پھانسی دینی چاہیئے تھی یا نہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن جس طرح ہزاروں پھانسی کے سزایافتہ لوگوں میں سے صرف ایک کو چن کے عجلت میں پھانسی دی گئی۔ اس بات سے حضرت صاحب بہت دکھی ہوئے۔ انکا کرب بڑھتا گیا۔ درد بڑھتا گیا اور درد و الم کی کیفیت غصے میں تبدیل ہوتی گئی۔

اپنے درد و غم کو انہوں نے تحریک کا نام دے دیا۔ناموس رسالت ﷺ کیلئے ریاستی ظلم و ستم سے اپنے لوگ شہید کرائے۔ معذوری کی حالت میں قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں , سخت سرد راتوں میں ساری ساری رات خون جما دینے والی سردی میں ناموس رسالت ﷺ کا عَلم تھامے بوڑھے کمزور جسم کے ساتھ ریاست اور موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتے رہے۔

2018کے الیکشن آئے تو انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ چھوٹی سی جماعت, وسائل نہ ہونے کے باوجود۔ ایک جلسے کے اخراجات کیلئے اپنی ذاتی گاڑی تک بیچ دی۔ مولوی پارٹیاں مذاق اڑانے لگیں۔ کسی جماعت نے سیریس نہیں لیا۔ ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ چھوٹی سی مسجد کے چھوٹے سے حجرے میں رہنے والا یہ مولوی کیا کر سکتا ہے۔لیکن دنیا نے دیکھا کہ عشق رسول ﷺ کی پگڑی پہنے معمولی مولوی 20 لاکھ ووٹ لے گئے۔ دو امیدوار اسمبلی میں بھی پہنچ گئے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ نہ کسی نے چندہ دیا, نہ کوئی ایجنسی ملی لیکن مولانا صاحب ایک بھرپور طاقت بن کے ابھرے۔۔۔

انکا ہمیشہ ایک ہی مطالبہ رہا کہ میرے پیارے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں کوئی کمی کرنے کی کوشش نہ کرے۔ مولانا صاحب ریاستوں کی چیرہ دستیوں اور چالاکیوں سے سے نالاں تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ انکا لہجہ تلخ ہوتا جا رہا تھا۔ علم کا سمندر تھے۔ بہترین مقرر تھے۔ کبھی آپ انکی تقریر غور سے سنیں تو اندازہ ہوگا کہ بات کو ریپیٹ نہیں کرتے تھے۔ نپی تلی بات کرتے تھے۔ قرآن و حدیث پہ ایسا عبور حاصل تھا کہ پاکستان بلکہ دنیا میں ان کے پائے کا کوئی اہل علم نہیں تھا۔ تقریر میں قصے کہانیاں, فرضی باتیں نہیں سناتے تھے۔ اقبالیات پہ مکمل عبور حاصل تھا۔ حضرت علامہ اقبال علیہ رحمہ سے عشق تھا کیونکہ علامہ اقبال صاحب بہت بڑے بلند پایہ ولی اور عاشق رسول ﷺ تھے بلکہ انہیں ہر اس ذی روح سے عشق تھا جو ناموس رسالت کا پروانہ تھا۔ بات بات پہ علامہ صاحب کے شعر سنایا کرتے۔

سابقہ دور حکومت میں دھرنا ہوا تو ان پہ ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ آسیہ ملعونہ کا معاملہ آیا تو انکی تحریک کو کچھ جماعتوں نے اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا لیکن سزا حضرت صاحب کو دی گئی ۔ انکی تقریروں پہ پابندیاں لگائی گئیں۔ میڈیا بائیکاٹ کیا گیا۔ مذاق اڑایا گیا۔ انکے لہجے اور تلخ رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ناموس رسالت ﷺ پہ ساری حکومتوں کے سرد رویوں نے ان کے لہجے کی تلخی میں اضافہ کیا۔

موجودہ دور میں فرانس کا معاملہ آیا تو مولانا صاحب نے باتوں سے سمجھانے کی کوشش کی۔ معاملہ فہم آدمی تھے ہمیشہ بات کو بات سے سلجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت نے انکی بات نہیں سنی جبکہ دیکھا جائے تو معمولی سا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ معمولی سا مطالبہ تھا۔ اگر حکومت پورا کر دیتی تو کیا قیامت ٹوٹ پڑتی اور ویسے بھی فرانس کوئی اتنا اہم ملک بھی نہیں کہ جسکی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہو جاتے اور ویسے بھی فرانسیسی صدیوں سے ایسی غلیظ حرکتیں کرتے آرہے ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے دور میں بھی انہوں نے ایک بار ایسی حرکت کی تھی اور خلیفہ عبدالمجید مرحوم نے باقاعدہ جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔

چھوٹا سا مطالبہ تھا کہ فرانس سے تعلقات ختم کیئے جائیں۔ اگر حکومت کر دیتی تو کیا فرق پڑتا تھا۔ جب بات ناموس رسالت ﷺ پہ آ جائے تو ملک نہیں دیکھے جاتے, معیشتیں نہیں دیکھی جاتیں۔ اسی ناموس کے تحفظ کیلئے تو کربلا سجا, بدر سجا, اْحد سجا,خندق سجا , یرموک کا میدان سجا۔خلافت عثمانیہ 12 سال لڑتی رہی۔

مولانا صاحب نے مطالبات پورے نہ ہونے پہ دھرنا دے دیا۔ آنسو گیس, مارکٹائی, شیلنگ ہوئی لیکن پروانوں کو کیا غرض ظلم و ستم سے۔ وہ تو بس مٹنے کیلئے آتے ہیں۔ حکومت تھک ہار کے مذاکرات کی میز پہ آگئی اور مولانا صاحب کو جلد ہی مطالبات پہ عمل در آمد کا یقین دلایا گیا۔ حضرت صاحب مان گئے۔ جب آخری دن دھرنے میں آئے تو 5 دن سے شدید بخار میں مبتلا تھے۔لیکن کسی کو بتایا نہیں تھا۔ پرجوش دل کو چھو لینے والا خطاب کیا۔ خود کو ناموس رسالت ﷺ پہ قربان ہونے کی بات کی۔ سحر انگیز خطاب تھا۔ اس رات ان کے چہرے پہ کوئی غصہ نہیں تھا۔ بس محبت ہی محبت تھی اور آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑیاں تھیں۔ شدید ٹھٹرتی رات میں حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخیوں پہ روئے جا رہے تھے اور رلائے جا رہے تھے۔ بس رب ذوالجلال کو انکی یہی ادا پسند آگئی اور عاشق کو محبوب سے ملانے کا فیصلہ ہو گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد گھر روانہ ہوئے اور کائناتوں کے عظیم ترین انعام کے حقدار ٹھہرے۔

یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ ہم لوگ بہت جلد فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہر کام میں ایجنسیاں ملوث ہیں۔ ایجنسیاں پیسے دیتی ہیں۔ فلاں دھرنے کرواتا ہے ۔فلاں پیسے دیتا ہے۔ ایسا ہوتا ہو گا لیکن میں یقین سے کہہ  سکتا ہوں کہ حضرت علامہ خادم رضوی صاحب کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ بس عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔ نہ دولت کا لالچ تھا نہ عہدے کی خواہش۔۔۔  اُس  صبح فیس بک پہ انکے جسد خاکی کی کچھ تصویریں دیکھیں۔ عام سے کمرے اور کمروں کے سامنے برآمدہ۔۔ برآمدے میں عام سی چارپائی پہ انکا خوشبودار جسد خاکی محو استراحت تھا۔۔۔

میں کوئی مولوی نہیں,بس جمعہ, عید نماز والا مذہبی ہوں۔ مولانا صاحب کو بہت کم سنا ۔ بلکہ جرات کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی ان لاکھوں لوگوں میں شامل رہا ہوں جو ان پہ تنقید کرتے تھے۔
لیکن ان کے جانے سے میرے دل پہ ایسی چوٹ پڑی ہے جو مجھے مرتے دم تک دکھ پہنچاتی رہے گی۔ مجھے یوں لگتا ھے کہ جیسے میرا باپ اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے اور سارا مال و متاع بھی ساتھ لے گیا ہے۔

حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب بھی آج وہ سب کچھ ساتھ لے گئے ہیں جو ہماری ضرورت تھی۔ عشق رسول ﷺ ہماری سانسوں کی روانی تھی۔ وہ ساتھ لے گئے۔ میں بہت کم روتا ہوں۔ بس آنسو بہاتا ہوں لیکن آج ایک سفر کے دوران میں پھوٹ پھوٹ کے رویا۔۔
حضرت علامہ صاحب آپ ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئے۔ جب ہمیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھی تو آپ ہمیں اکیلا چھوڑ کے عالیشان محفلوں میں جا بیٹھے۔
ہم اور تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن آپ سے یہ وعدہ ضرور کرتے ہیں کہ جو تھوڑا بہت ہم آپ سے سیکھ سکے۔ اسے ساری زندگی اپنے ایمان کا حصہ بنا کے رکھیں گے۔۔۔
دعا کرتے ہیں کہ
اللہ رب العالمین آپ کے بلند درجات میں اضافہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *