کرشن چند ر کی بیوی کے انکشافات۔۔اسلم ملک

اپنے شوہر کرشن چندر کے بارے میں سلمی صدیقی نے لکھا….
کرشن چندر سے میری پہلی ملاقات 1953 میں دہلی میں مجاز نے کروائی تھی۔ ہماری شادی نینی تال میں ہوئی تھی چند مشترکہ دوستوں کی موجودگی میں چونکہ یہ عام شادی نہیں تھی اس لئے اس میں رکاوٹیں بھی قدم قدم پہ درپیش تھیں عزیز و اقارب کے علاوہ مذہب اور سماج بھی اپنا اپنا رول بڑی خوش اسلوبی سے نباہ رہے تھے کوئی کہتا ”ایسا ہوگا تو ہندو مسلم فساد ہوجائے گا ” کرشن جی کہتے ہندو مسلم فساد ہماری شادی سے پہلے بھی ہوئے ہیں اور بعد میں بھی ہوتے رہیں گے، ہمیں فسادات کا محرک یا موجد کا منصب نصیب نہیں ہوگا ”۔

میں کہتی  ،ہمارے تمہارے رشتہ دار خود کشی کر لیں گے ” کرشن جی جواب دیتے ”محبت کرنے والوں نے تو اکثر خود کشی کی ہے لیکن نفرت کرنے والوں کو خودکشی کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا وہ تو جیتے ہیں اور جی جی کے نفرت کرتے ہیں ۔”

میں کہتی محبت کرنا کافی نہیں ہے کیا آخر شادی ہی کیوں ۔ ؟ ” صرف محبت کرنا کافی نہیں ہے محبت میں سپردگی لازمی اور غیر مشروط ہونا چاہیے اور چونکہ یہ شادی کے بغیر ممکن نہیں اس لئے شادی ضروی ہے ”

میں نے کہا ”شادی ہوگی کیسے ۔ ”کرشن جی نے کہا ۔ ” جیسے شادی ہوتی ہے ”میں کہتی مگر اماں ابا تو نکاح کو ہی شادی مانتے ہیں ”کرشن جی کہتے ” تو پھر ہم نکاح کو ہی شادی مان لیں گے ” ۔۔۔” مگر یہ کیسے ہوگا ‘ مگر یہ کیوں نہیں ہوگا ؟

بلاآخر ایک دن ایک دوست رامپور سے ایک مولوی صاحب اور تین گواہوں کو لے کر نینی تال آئے اور بعد نماز عصر سوئیس ہوٹل نینی تال میں وہ واقعہ ظہور پذیر ہوا جسے نکاح کہتے ہیں نکاح سے پہلے مولوی صاحب نے پوچھا ۔” جناب کا نام ؟ ” جناب نے جواب دیا ” کرشن چندر ” مولوی صاحب اور ان کے رفقاء چونک گئے ” اجی اجی کیا فرمایا ؟

حالات معلوم ہونے پر مولوی صاحب نے پوچھا ” کیا آپ نے اچھی طرح غور کر لیا ہے؟ ” آپ کے آنے سے پہلے یہی کر رہا تھا ”مشرف بہ اسلام ہونے کا قصد ہے جناب کا نیک خیال ہے ” زندگی بھر خیال بد لتارہا ہے ۔ آج نیک خیال کی طرف رجوع کرتا ہوں ” اسم شریف کیا تجویز فرماتے ہیں جناب ؟ ” کرشن جی نے میری طرف دیکھا ۔ میں تو روہانسی ہوگئی ”کیوں اس نام میں برائی کیا ہے ؟ آخر اتنا خوبصورت نام ہے، میں نے کہا

مولوی صاحب نے کہا دیکھو بی بی امور شرعیہ میں قیل و قال کی گنجائش نہیں ہوتی ہے اللہ کا نام لے کر اس کار ثواب سے سبکدوش ہونا چاہیے۔

ہائے ہائے کیسا قیامت کا وقت تھا وہ ،میں تو یہ سوچ سوچ کر رونے لگی ہمارے اچھے بھلے رشتے کو کار ثواب بتایا جارہا ہے میں نے کہا، اس میں کار ثواب کی کیا بات ہے ” جی آپ کو ایک حج کا ثواب ملے گا بی بی ” اب تو میری حالت تباہ ہوگئی دوسرے کمرے میں جاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جب رو دھو کر منہ پونچھ کر اور لپ اسٹک گہری کرکے باہر نکلی تو کرشن جی بیٹھے بیٹھے مسکرا رہے تھے پتہ چلا کہ کرشن جی نے اپنا نام وقار ملک تجویز کیا ہے میں پھر دوسرے کمرے میں آگئی ۔ کرشن جی میرے پیچھے پیچھے آئے میں نے جھنجھلا کے کہا ” یہ بھی کوئی نام ہوا آخر ” کرشن جی باہر دھندلائی ہوئی پہاڑیوں کو دیکھ کر بولے ۔

میں پونجھ میں چوتھی جماعت میں تھا تو میرے دو دوست تھے ایک کا نام وقار تھا اور دوسرے کا ملک، ہم لوگ ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے رہتے تھے. میں نے پہلی بار غالب کا شعر ان ہی کے گھر سنا تھا عید کی پہلی سویاں وہیں چکھی تھیں اور گھر آکر اپنی اماں جی سے جھگڑا کیا تھا کہ ہمارے گھر عید کیوں نہیں منائی جاتی” ارے ہاں ایک بات تو بتانا بھول گئی کہ جب ہم نے زندگی بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تو میں نے اماں بی بی کو کرشن جی کا ایک فوٹو دکھایا اور ان کی رائے مانگی، اماں بی کچھ دیر تک فوٹو کو الٹ پلٹ کر دیکھتی رہیں پھر بولیں اچھے خاصے ہیں شکل سے معقول نظر آتے ہیں ہندو قطعی نہیں لگتے ” اسی زمانے میں کرشن جی نے میرا ایک فوٹو اپنی اماں جی کو دکھایا اور اور کہا یہی سلمی ہے آپ کو کیسی لگتی ہے اماں جی نے عینک لگا کر تصویر کو خوب غور سے دیکھا اور بولیں ارے یہ ہے سلمی ٹھیک ٹھاک ہے، بالکل مسلمان نہیں لگتی ۔

یہ بات اور اس طرح کی بہت ساری باتیں ہمارے درمیان لطیف اور دلچسپی کا باعث بنتی تھیں سترہ سال کے شب و روز میں اکثر ایسے مواقع آئے کہ ہم دونوں کے درمیان کتنی ہی بار چھوٹی چھوٹٰی باتوں پر تکرار ہوجاتی تھی لیکن ایک ہی موضوع تھا جو کبھی ہمارے درمیان نہیں آتا تھا اور وہ تھا مذہب کبھی احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ  ہمارے گھر میں مذہب کی بناء پر کبھی کسی اختلاف کی گنجائش ہے ۔ ملازمین تک اس سلسلہ میں بہت محتاط رہتے تھے ہاں مکان لینے جاتے تو اکثر یہ مشکل درپیش آتی جب پتہ چلتا کہ کہیں کسی ہندو مالک مکان نے مسلمان کو اپنا مکان دینے سے انکار کر دیا یا کسی مسلمان کو اپنا مکان ہندو کو دینے میں تامل ہے تو ایسے موقع پر کرشن جی کئی دن بے مزہ رہتے۔

عید کے دن بے حد خشوع خضوع سے نئے کپڑے پہنتے عطر لگاتے پان پہ پان کھاتے اور ہر تھوڑی دیر کے بعد شیر خورمہ چکھ لیتے اور بار بار عید کے بہانے گلے لگنے اور لگانے کے مواقع ڈھونڈتے رہتے ۔ جب تک ہم دونوں ساتھ رہے ہمارے مذہب کے بارے میں کسی نے پوچھ تاچھ نہیں کی اور میں سمجھتی ہوں کہ یہی صحیح اور مہذب طریقہ بھی ہے لیکن کرشن جی کے بعد اس بارے میں مجھے اپنوں اور پرایوں نے طرح طرح سے عاجز کیا، طرح طرح کے بے مصرف اور احمقانہ سوالات کی بوچھاڑ مجھ پر ہوتی رہی، خصوصاً اس بات پہ بیشتر لوگ چیں بہ چیں تھے کہ جب کرشن جی نے نکاح کیا تھا تو ان کی تہجیز و تکفین اسلامی طریقے سے کیوں نہ کی گئی۔

ایک صاحب نے نکاح نامہ تک دیکھنے کی فرمائش کی ،میں اس طرح کے جواب دینا تو نہیں چاہتی تھی کہ میرے لئے یہ ذکر اور اس طرح کی باتیں صرف ناخوشگوار ہی نہیں انتہائی اذیت ناک بھی ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس بارے میں کچھ کہنے کا وقت اب آگیا ہے ،اس لئے کہ جب تقریبا ًدو سال کی کربناک مدت نے زندگی کے پرانے اور بوجھل پہیے نے اور کچھ جیتے رہنے کی فرسودہ عادت نے کار زار حیات کے شب و روز میں گھل مل جانے پر مجبور کر دیا ہے تو میں بھی دو چار لفظ اپنے اور اپنے کرشن جی کے بارے میں کہنا چاہتی ہوں۔

پہلی بات یہ کہ بنیادی اعتبار سے کرشن جی مکمل طور پر مارکسسٹ تھے وہ کسی مذہب یا کسی کے بھی خدا کو نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے عقیدے کو ہی سب کچھ مانتے تھے آخر وقت تک ان کے عقیدے اور نظریئے میں رتی برابر فرق نہیں آیا ۔ان کے نزدیک دنیا کی سب سے قابل احترام مخلوق صرف ایک ہی تھی ۔ یعنی اشرف المخلوقات انسانوں کا درجہ انھیں ہمیشہ انسانوں سے برتر نظر آتا تھا ۔ رہا میرا معاملہ تو میں چونکہ عورت ہوں تو فطرتاً اور روایتاً بزدل ہوں مذہب اور مذہبی امور سے مجھے لگاؤ سے زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے۔کسی خاص مذہب سے مطلب نہیں ہے۔ مجھے مذہب ورثے میں ملا بغیر طلب مشورے یا مطالبے میں ملا۔ میں نے اپنے مذہب کا یقین اور احترام بعض اچھے انسانوں سے قرب سے کیا اور اسی مذہب کو محترم گردانتی ہوں مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے اس حقیقت سے میں لاعلم ہوں اس کی سزا اور جزا کن اصولوں یا اعمال کے ماتحت ہوگی اس سے بھی ناواقف ہوں جو لوگ اس امور خاص میں ”سند” کا درجہ رکھتے ہیں، یہ مسائل انہی کے حل کرنے کے ہیں کسی عذاب ثواب، حساب کتاب انعام  عتاب اور سودو زیاں کے دائرے میں محصور نہیں ہوں اور ایسا کرنے میں اور ایسا سوچنے میں بحیثیت ایک انسان کے حق بجانب بھی ہوں جانے وہ دن کب آئے گا جب ہم بعض رشتوں کی عظمت اور منصب سے آگاہی حاصل کریں گے ایسا رشتہ جس پر شرمندہ نہیں ہوا جاتا، فخر کیا جاتا ہے ۔ ہمارا رشتہ تھا اور وہ عقیدہ جسے دل سے مانا جاتا ہے وہ کرشن جی تھے میں نے جنہیں بے دلیل مانا اور بے دلیل چاہا ۔ جو لوگ جزا سزا کے حصار سے نکل جاتے ہیں وہ پہلے پتھر سے نہ تو ڈرتے ہیں اور نہ ڈراتے ہیں۔

محمد ہاشم کو ایک خط میں سلمیٰ صدیقی نے لکھا ’’ہماری شادی 7 جولائی 1961ء کی شام نینی تال میں ہوئی، اس وقت نینی تال کی مسجد کے مولانا نے نکاح پڑھایا۔۔۔ گواہوں میں رامپور کے دو دوست، مہارانی جہانگیر آباد اور محمد کاظمی تھے۔ کرشن چندر نے اسلامی طریقہ پر نکاح کیا اور مسلمان ہونا قبول کیا، اپنا نام وقار ملک رکھا‘‘۔

Shopping Revolution

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *