زرد صحافت کے علمبردار

دو روز پہلے فیس بک پر میری ایک لوکل چینل کے رپورٹر سے بات ہوئی (چینل اور رپورٹر کا نام اس لیئے تحریر نہیں کر رہی کہ میرا مقصد کسی کو بدنام یا رسوا کرنا نہیں بلکہ سچائی بیان کرنا ہے)

ان کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ آج کل بے روز گار ہوں اور ایک انٹر نیشنل چینل پر انٹرن شپ پر ہوں۔رپورٹر نے مجھے تازہ تصویر اور سی وی وٹس ایپ کرنے کا کہا (جو کہ اللہ کا شکر ہے میں نے نہیں بھیجی)انہوں نے بتایا کہ ہمارا چینل فی الحال آ پ کو تنخواہ نہیں دے گا،لیکن اس جاب کا آپ کو یہ فائدہ ہو گا کہ آپ سکرین پر آجائیں گی اور بڑے لوگوں سے تعلقات بہت بن جائیں گے آپ کو کسی سے کوئی کام ہو گا تو آپ گھر بیٹھے ایک فون کال کریں گی اور اگلا بندہ آرام سے آپ کا کام کر دے گا۔ایک ڈیڑھ ماہ بعد آپ کی نوکری پکی ہو جائے گی

آپ کو کسی کے بارے میں کوئی خبر ملے گی تو آپ اسے فون کر کے بتا سکتی ہیں کہ تمھارے بارے میں میرے پاس فلاں خبر ہے وہ بندہ اس خبر کے عوض اپنی خوشی سے آپ کو ہزار،دو ہزار روپے دے دے گا،اس طرح تنخواہ کے علاوہ ہی آپ کی اچھی خاصی کمائی ہو جایا کرے گی
۔
اس رپورٹر کا اصرار تھا کہ میں اپنی تازہ تصویر اسے بھیجوں تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ میرا چہرہ سکرین پر آنے لائق ہے بھی یا نہیں،میں نے تصویر بھیجنے سے معذرت کی اور کچھ سوچتے ہوئے سی وی بھیجنے کی حامی بھر لی۔

فون بند کرنے کے بعد میں نے ایک خیر خواہ کو فون ملایا (جو کہ ایک اخبار میں بہت ایکٹو کرائم رپورٹر ہیں)اور ساری گفتگو من و عن سنانے کے بعد مشورہ طلب کیا۔ان کے مطابق جس چینل کا میں نے بتایا اس کے بیورو چیف کو کئی کئی ماہ تنخواہ نہیں ملتی وہ آپ کو کیا نوکری دیں گے اور کیا وہاں کام کرنے والوں کو تنخواہ۔

چینل کے رپورٹرز ہر وقت چھوٹی موٹی خبروں بلکہ لوگوں کے راز حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں تاکہ بعد میں متعلقہ شخص کو بلیک میل کر کے رقم اینٹھی جا سکے۔

صحافی بدمعاشی کی ان پرانی کہانیوں میں صائمہ کنول نیا کردارہیں جس نے راتوں رات شہرت حاصل کرلی ہے۔سوشل میڈیا نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ چائے والا ہو یا صائمہ کنول جیسی لوکل چینل کی کوئی رپورٹر۔۔اب شہرت پانا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔

میں اس بات کی سخت مذمت کرتی ہو ں کہ گارڈ کو بحیثیت مرد ایک عورت پرہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا لیکن میں اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں پھیر سکتی کہ صائمہ کنول صاحبہ نے اسے کس قدر مجبور کر دیا تھا۔ہم جتنے بھی لبرل ہو جائیں۔ مذہب اور معاشرتی اقدار سے انحراف کی صورت میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں اس بات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گارڈ کا بار بار راستہ روکنے اور پھر بات کرنے سے انکار پر گارڈ کا بازو کھینچنے کے فور۱ً بعد محترمہ ذرا پیچھے ہٹ گئیں تھیں،انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ اب اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ لوکل چینلز اور اخبارات میں ہزار،دو ہزار کے لیئے کام کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے مقابل کھڑا شخص بھی ان ہی جیسے مسائل سے دو چار ہوتا ہے۔گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟

یہ بات تلخ سہی لیکن حقیقت ہے۔ ایک گارڈ کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے مالک سے بغیر پوچھے کوئی بات کہہ کر اپنی نوکری داؤ پر نہیں لگا سکتا، اس کے گھر میں بھی آپ کے بچوں جیسے بچے موجود ہیں،
جنہیں وہ بارہ گھنٹے کی تھکا دینے والی ڈیوٹی کے بعد صرف ایک وقت کی روٹی دے پاتا ہے،صحت اور تعلیم کے معاملات تو ایک طرف رہے۔

کسی سبجیکٹ میں ڈگری حاصل کر لینا علم کُل ہو نے کی دلیل ہر گز نہیں۔اس کے لیئے تربیت کی ضرورت ہے۔
کیا کسی چینل کا بیورو چیف یا اخبار کا چیف ایڈیٹر اپنے رپورٹر کی قابلیت، حرکات اورمزاج سے ناواقف ہوتا ہے؟کیا یہ اس کا فرض نہیں کہ وہ اپنے ماتحتوں کی تربیت پر بھی غور کرے نا کہ صرف ان کی حاصل کردہ چٹ پٹی خبروں پر۔۔یا ایسے کرتا دھرتا بھی انہی رپورٹرز کی صف میں کھڑے ہیں یا ان سے بھی گئے گزرے ہیں؟بچے کی تربیت کی ذمہ داری ماں باپ پر عائد ہوتی ہے تربیت اچھی ہو یا بری اس کی تعریف اور تضحیک بھی ما ں باپ کے حصے میں ہی آتی ہے۔اسی طرح کسی بھی ادارے کا افسر وہاں کام کرنے والوں کی پیشہ وارانہ تربیت کا ذمہ دار ہے۔ایک ایماندا ر صحافی اپنی جان پرکھیل کر کسی واقعے یا حادثے کی کوریج کرتا ہے،لیکن ایسے صحافی سچائی کا علم بلند کیے ہی منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں اور پیچھے رہ جاتے ہیں ایسے شعبدہ باز جو سستی شہرت حاصل کرنے کے لیئے اپنی ہی عزت کا جنازہ دھو م دھام سے لے کر نکلتے ہیں۔

حالات کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہو کہ شاید یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا تاکہ بھرے مجمعے میں تھپڑ کھانے والی دبنگ خاتون کا ٹا ئٹل بھی حاصل ہو جائے اور بڑے چینل سے نوکری کی پیش کش بھی۔ٹی وی پر کانٹ چھانٹ کے بعد چلائی جانے والی ویڈیو دیکھنے کے بعد جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موصوفہ کے ساتھ انتہائی ظلم ہوا تو وہ غلطی پرہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کے تقدس اور تعلیمات کی الف بے سے بھی ناواقف ہیں۔

ہمار ی دانست میں تھپڑ کسی میک اپ زدہ چہرے کے ساتھ،تندو تیز لہجے میں کاٹ دار الفاظ کے ساتھ سامنے موجود شخص کی ذاتیات پر حملے کرتی خاتون کے چہرے پر نہیں بلکہ زرد صحافت کے علمبرداروں کے چہرے پر پڑا ہے جس کا نشان کبھی مدھم پڑے کا اور نہ گونج۔فی زمانہ صحافیوں کی تربیت اشد ضروری ہو چکی ہے۔

ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے،جو رپورٹرزرد صحافت میں ملوث پایا جائے نشاندہی اور تحقیقات کے بعد اس کا کڑا احتساب ہو،اصول و ضوابط واضع کیے جائیں،حدود کا تعین ہو۔

اگر ایسا نہ کیا گیا توخدشہ ہے کہ ہزار،دو ہزار کے لیئے کسی کو بلیک میل کرنے والے اورمحترمہ صائمہ کنول صاحبہ جیسے رپورٹروں کی نئی کھیپ بہت جلد مارکیٹ میں آجائے گی۔

Shopping Revolution

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *